اگلا مہینہ انتخابی جوڑ توڑ کے حوالے سے اہم ترین ،جماعت اسلامی نواز اور عمران کو قریب لانے کیلئے متحرک ہوگئی

اگلا مہینہ انتخابی جوڑ توڑ کے حوالے سے اہم ترین ،جماعت اسلامی نواز اور عمران ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(ناظم ملک(ستمگر کے نام سے سیاست میں شہرت پانے والا ماہ ستمبرایک مرتبہ پھر سیاسی اتار چڑھاو کا مہینہ بننے والا ہے اور اس حوالے سے ملکی سیاست میں ہیجان انگیز تبدیلیوں اور آئیندہ انتخابات کے حوالے سے ستمبر کا مہینہ اہمیت اختیا ر کر گیا،سیاسی جماعتوں کے درمیان انتخابی جوڑتوڑ عروج پر پہنچ گیاہے اور سیاست کے بادشاہ گرجہاں ماضی کے حریفوں کو حلیف اور حلیفوں کو حریف بنانے پر تل گئے وہاں اپوزیشن قیادت کے درمیان وسیع تر پر رابطوں کا آغاز ہو چکا ہے،دفاع پاکستان کو سیا سی انتخابی اتحاد بنانے میں ناکامی کے بعد اس میں شامل مذہبی جماعتوں نے اپنے مستقبل کےلئے دوسری جماعتوں کے ساتھ رابطے کرلئے ،سیاسی گہما گہمی کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ جماعت اسلامی ملکی سیاست میں پہلی باراپوزیشن جماعتوں پر مشتمل گرئینڈ اپوزیشن الائینس بنانے کے حوالے سے قائیدانہ کردار ادا کررہی ہے اور اس حوالے سے جماعت اسلامی کے موجودہ وسابق امیرسید منور حسن اور قاضی حسین احمد عمران خان اور نواز شریف کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوششیں کررہے ہیںتاکہ حکومت مخالف اپوزیشن جماعتیںنہ صرف ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو جائیں بلکہ ان کا ووٹ بنک بھی تقسیم ہونے سے بچ جائے اور آئیندہ انتخابات میں ملکر حکومت اور اس کے اتحادیوں کو شکست دی جاسکے اسی وجہ سے ابھی تک جماعت اسلامی نے ن لیگ یا تحریک انصاف کےساتھ انتخابی اتحاد کا اعلان نہی کیا جبکہ اس کے برعکس پیپلز پارٹی کے قائد صدر زرداری کی کامیاب سیاسی حکمت عملی کے باعث ابھی تک حکومت مخالف جماعتیںجہا ں ایک جگہ اکٹھی نہی ہو سکیںوہاں ان کے درمیان ابھی تک کسی بھی نقطے پر اتفاق نہیں ہو سکاجس کے باعث پیپلز پارٹی بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے انتخابا ت کی تیاریاں کر رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ابھی تک سوائے ق لیگ کے کسی بھی حکومتی اتحادی نے پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنے کا اعلان نہیں کیا،اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اتحاد کی کوششوں کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد دفاع پاکستان کی اہم جماعت کے سربراہ مولانا سمیع الحق جن کا قبائلی علاقوں میں اثرورسوخ ہے کو عمران خان کے ساتھ انتخابی اتحاد کرنے پر راضی کرچکے ہیں،دفاع پاکستان میں شامل جے یوپی نورانی پہلے ہی مسلم لیگ ن سے اتحاد کا اعلان کر چکی ہے سندہ کی سطح پر نواز شریف کے رابطوں کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیںجس کے بعد ممتاز بھٹو کے بعد فنگشنل لیگ پنجاب کی سطح تک (ن) لیگ سے اتحاد کرکے الیکشن میں میدان میںاترے گی جبکہ قوم پرست جماعتوں کا رجحان بھی ن لیگ کی طرف ہے اس کے علاوہ ن لیگ خیبر پختنخواہ اور بلوچستان میں اپنی کھوئی ہوئی سیاسی طاقت کو واپس لینے کی جدوجہد کررہی ہے پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادی بھی آئیندہ الیکشن میں اپنے وجود کو برقرار رکھنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں ،پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے درمیان آئندہ انتخابات کے حوالے سے فارمولا طے کر لیا گیا ،دونوں جماعتوں نے مسلم لیگ (ن) کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کے تحت الیکشن لڑنے کی تیاریاں تیز کر دی ہیں،ق لیگ پیپلز پارٹی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر پورے ملک میں اترے گی پیپلز پارٹی کی قیادت نے چوہدری برادارن کو سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کےلئے فری ہینڈ دے دیا ہے ،دونوں جماعتوں کی اعلی قیادت میں یہ بات بھی طے پا گئی ہے کہ الائنس کے صورت میں انتخابی مہم اور انتخاب لڑا جائےگا۔مسلم لیگ (ق) پنجاب سے 86 امیدوار لائے گی جبکہ باقی سیٹوں پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو گی اور قومی اسمبلی کے لیے 50 امیدواروں کی لسٹ پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت کے حوالے کر دی گئی ہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ ق بھی موجودہ اراکین پارلیمنٹ کی اکثریت کو ٹکٹ دے گی اور جن حلقوں میں پیپلزپارٹی اور ق لیگ کے امیدوار کامیاب نہیں ہوئے تھے وہاںپر ق لیگ اور پیپلزپارٹی ایک دوسرے کی مدد کرے گی اور ان حلقوں میں متفقہ امیدوار لائے جائیںگے۔دوسری طرف اے این پی کے اندر قبائیلی علاقوںمیں بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں کے باعث حکومتی پالیسی پر تحفظات پائے جاتے ہیںاور آئیندہ انتخابات میں اے این پی پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنے پر تذبذب کا شکار ہے اور اس حوالے سے اے این پی کے اندر دو رائے پائی جاتی ہے،اس کے علاوہ کراچی کی سطح پر ایم کیوایم کے ضعلی سطح پر مقامی حکومتوں کے مسلئے پر اختلافات پائے جاتے ہیں جو آنے والے دنوں میںدونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی اتحاد کے حوالے بنیادی مسلئہ بن کر سامنے آسکتا ہے،سےاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میںمولانافضل الرحمان خصوصی اہمیت اختیار کر گئے ہیںاور وہ ایک ہی وقت میں پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کےساتھ محاذ کھولے بیٹھے ہیںاس کے باوجود کہ ان کی صدر زرداری کےساتھ ذہنی ہم آہنگی زیادہ پائی جاتی ہے لیکن انہیں کے پی کے میں اے این پی کے ساتھ جہاں کچھ تحفظات ہیں وہاں وہ قبائیلی علاقوں میں ڈرون حملوں اور شہریوں کی ہلاکتوں پر حکومت کے خلاف کھلے عام تنقید کرتے نظر آتے ہےں ،بتایا گیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے قائد صدر زرداری نے آئیندہ انتخابات کےلئے انتخابی مہم سابق وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی کے سپرد کردی ہے اور وہ پیپلز پارٹی مخالف جماعتوں کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کو میدان میں لے کر اتریں گے اور پیپلز کی انتخابی کی قیادت کریں گے،اس صورتحال میں عمران خان اس وقت سیاسی جماعتوں کےلئے ہاٹ کیک بن چکے ہیںاور ہر جماعت کی کوشش ہے کہ عمران خان کے ساتھ انتخابی اتحاد کیا جائے،عمران خان ان دنوں مختلف جماعتوں کے ساتھ انتخابی اتحاد کے حوالے سے پارٹی کے اندر تبادلہ خیا ل کررہے ہیں،جاوید ہاشمی نے جماعت اسلامی کی طرف سے مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد کی مخالفت کر دی ہے جبکہ شاہ محمود قریشی پیپلز پارٹی کےساتھ اتحاد کے مخالف ہیں،اس تمام تر صورتحال میں عمران خان نے کی ہدایت پرپاکستان تحریک انصاف نے بھی انتخابی مہم کی تیاریاں شروع کر دی ہیں اور اس سلسلے میں امیدواروںکو فائنل کیاجا رہا ہے جن میں نوجوان امیدواروں کو ترجیح دی جا رہی ہے سےاسی جماعتوں کی قیادت کی ہدایت پر زور شور سے نئے انتخابات کی تیاریاں ،جلسے جلوسوں کا آغاز ہو گیاہے پارلیمنٹیرین ،سیاسی لیڈروں نے اپنے اپنے حلقوں میں ڈiرے ڈال لئے اور عوام سے رابطے بڑھا دئیے گئے ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -