پنجاب اسمبلی نئے صوبوں کے قیام کیلئے کمیشن میں نام نہ دینے پر اپوزیشن کااحتجاج ،سپیکر کا گھیراﺅ

پنجاب اسمبلی نئے صوبوں کے قیام کیلئے کمیشن میں نام نہ دینے پر اپوزیشن ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور( کامرس رپورٹر+ سٹاف رپورٹر) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن نے اسپیکر رانا محمد اقبال کی طرف سے نئے صوبوں کے قیام کےلئے کمیشن میں نام نہ دئیے جانے پر بھرپور احتجاج کرتے ہوئے اسپیکر کا گھیراﺅ کر لیا ‘ اپوزیشن اور حکومت کے اراکین کی طرف سے ایکدوسرے کے خلاف نعرے بازی کی وجہ سے اسپیکر کے لئے ایوان کی کارروائی چلانا محال ہو گیا جبکہ اپوزیشن کا کہناتھا کہ کمیشن کے لئے نام دئیے بغیر سپیکر اسمبلی کی کارروائی ہماری لاشوں سے گزر کر ہی چلا سکیں گے ‘ اپوزیشن اراکین لے کر رہیں گے صوبہ جنوبی پنجاب‘ جنوبی پنجاب زندہ باد‘ لے کے رہیں گے صوبہ سرائیکی ‘ لے کے رہیں گے بہاولپور صوبہ ‘ تخت لاہور مردہ باد ‘ تخت لاہور ہائے ہائے ‘ ضیاءکا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے ‘ ظلم کے ضابطے ہم نہیں مانتے ‘ اگلی باری پھر زرداری ‘ جئے بھٹو جبکہ حکومتی اراکین گو زرداری گو ‘ڈاکو ڈاکو‘ پاکستان زندہ باد ‘ بی بی ہم شرمندہ ہیں تیرے قاتل زندہ ہیں کے نعرے لگاتے رہے ‘ سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال نے کہا کہ یہ معاملہ میرے اور قومی اسمبلی کے درمیان ہے اور میں اس حوالے سے سپیکر قومی اسمبلی کو خط ارسال کر چکا ہوں‘ صرف پنجاب کی بجائے ملک بھر میں جہاں صوبوں کے قیام کی ضرورت ہے اسکے لئے قومی کمیشن بنایا جائے نام دیدیںگے ۔ پنجا ب اسمبلی کا 40واں اجلاس مقررہ وقت 2گھنٹے 47منٹ کی تاخیر سے سپیکر رانا محمد اقبال کی صدارت میں تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا ۔ سیکرٹری اسمبلی کی طرف سے پینل آف چیئرمین کا نام کا اعلان ہوتے ہی راجہ ریاض احمد نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو عدالت میں بلایا گیا تھا لیکن سیاسی گماشتوںنے ٹی وی چینلز پر آکر کہا کہ راجہ پرویز اشرف عدالت میں نہیں جائینگے جس پر رانا ثنا اللہ خان نے کھڑے ہو کر کہا کہ عدالت نہ جانے کی بات سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کی تھی اور یہ انہیں سیاسی گماشتہ کہہ رہے ہیں جس پر حکومتی اراکین نے اس پر احتجاج شروع کر دیا اور کہا کہ راجہ ریاض اپنے سابق وزیر اعظم کو سیاسی گماشتہ کہہ رہے ہیں۔شور کم ہونے پر راجہ ریاض احمد نے دوبارہ بات شروع کی اور کہا کہ میں عدالت جانے پر وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف اور صدر آصف علی زرداری کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ اس موقع پر حکومتی اراکین کی طرف سے رینٹل رینٹل کے نعرے بھی لگائے گئے ۔ اس موقع پر راجہ ریاض نے سپیکر پنجا ب اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے پنجاب میں صوبوں کے قیام کے لئے آپ سے دو نام مانگے ہیں ۔ آپ بیشک (ن) لیگ کی ٹکٹ پر منتخب ہو کر آئے ہیں لیکن سپیکر کی کرسی اس ایوان اور ہمارے لئے بڑی قابل احترام ہے اور سیاسی اختلاف کے باوجود ہم اس کرسی اور آپ کا احترام کرتے ہیں ۔ لیکن دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ آپ نے 15دن گزرنے کے باوجود کمیشن کے لئے نام نہیں بھجوائے ۔ ایڈوائزری کمیٹی نے آپ نے چیلنج کے طور پر کہا ہے کہ میں نام نہیں دوں گا جس سے ثابت ہو گیا کہ (ن) لیگ کی جنوبی پنجاب کے قیام کے لئے قرارداد پیش کرنا منافقت تھا ۔ میاں برادران جنوبی پنجاب کو الگ حیثیت نہیں دینا چاہتے ‘ یہ تخت لاہور کے اختیارات کم نہیں کرنا چاہتے ۔ اس موقع پر حکومتی اراکین کی طرف سے نعرے باز شروع کر دی گئی اور رانا ارشد نے کھڑے ہو کر کہا کہ صرف پنجاب نہیں بلکہ پورے پاکستان میں جہاں صوبوںکی ضرورت ہے اس کے لئے قومی کمیشن بننا چاہیے ۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون و پارلیمانی امور طاہر خلیل سندھو نے کہا کہ اسمبلی رولز کے مطابق یہ معاملہ اس ایوان میں زیر بحث نہیں آ سکتا یہ سپیکر کا استحقاق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اراکین بھی سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کی طرح حق کی آوازبلند کریں اور قیادت سے کہیں کہ ہم جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنا کر دم لیں گے ۔ اسی دوران حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی جس سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ۔ اپوزیشن کی طرف سے جنوبی پنجاب زندہ باد ‘لے کے رہیں گے صوبہ جنوبی پنجاب‘ بہاولپور زندہ باد‘ بن کے رہے گا صوبہ جنوبی پنجاب‘ سرائیکی صوبہ زندہ باد ‘ تخت لاہور مردہ باد ‘ تخت لاہور ہائے ہائے ‘ ظلم کے ضابطے ہم نہیں مانتے ‘ ضیاءکا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے ‘اگلی باری پھر زرداری ‘ جئے بھٹو جبکہ حکومتی اراکین گو زرداری گو ‘ رج کے کھاﺅ رج کے لٹو جئے بھٹو جئے بھٹو ‘ بی بی ہم شرمندہ ہیں تیرے قاتل زندہ ہیں کے نعرے لگاتے رہے ۔ راجہ ریاض نے تمام اراکین نے خاموش کرا کے بٹھا دیا جسکے بعد شوکت بسرا نے پوائنٹ آف بات کرتے ہوئے کہا کہ سپیکر پنجاب اسمبلی کی طرف سے کمیشن کے لئے نام نہ دینے کا مطلب پنجاب اسمبلی کی قرارداد کو بلڈوز کرنا ہے او رقرارداد کو بلڈوز کرنا پنجاب اسمبلی کو بلڈوز کرنا ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے کہا تھاکہ ہم جنوبی پنجاب کو صوبہ بنائیں گے اور اسکا یہ بھی مطلب ہے کہ یہ اپنی قیادت کو نہیں مانتے ۔ جنوبی پنجاب کے بننے سے کسی کا کچھ نہیں جائے گا بلکہ جنوبی پنجاب کی عوام کو زندگی کی سہولیات انکی دہلیز پر مل جائیں گی ۔ شہباز شریف نے بہاولپور میں جا کر کہا تھاکہ ہم صوبہ بہاولپور کو بحال کرنا چاہتے ہیں ۔جنوبی پنجاب والے اسی پاکستان کے رہنے والے ہیں لیکن وہ پیاسے مر رہے ہیں‘ انکے فنڈز لاہور میں خرچ کئے جارہے ہیں ۔ اگر آپ نے کمیشن کے لئے نام نہ دئیے تو ہم اسمبلی کی کارروائی نہیں چلنے دیں گے اور آپ کو اسمبلی کی کارروائی ہماری لاشوں سے گزر کر چلانی پڑے گی اور خون کے آخری قطرے تک جنوبی پنجاب صوبے کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اسی دوران پیپلز پارٹی کے اراکین نے نعرے بازی کرتے ہوئے سپیکر اسمبلی کے ڈائس کا گھیراﺅ کر لیا جبکہ دوسری طرف سے مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے بھی حفاظتی حصار قائم کر لیا ۔ سپیکر رانا محمد اقبال نے کہا کہ یہ میرا اور قومی اسمبلی کا معاملہ ہے‘ میں نے سپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھ دیا ہے اور میں نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی قرارداد کے مطابق جہاں جہاںصوبوں کی ضرورت ہے وہاں کے سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے قومی کمیشن بنایا جانا چاہیے ۔اسی دوران مغرب کی اذان شروع ہو گئی اور اپوزیشن خاموش ہو کر بیٹھ گئی جبکہ اذان ختم ہونے پر اپوزیشن کے دوبارہ احتجاج پر سپیکر نے نماز کا وقفہ کرتے ہوئے اجلاس کے دوبارہ آ غاز پر سپیکر کو کارروائی چلانے کیلئے لاشوں سے گزرنے کا چیلنج دینے والے پیپلز پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈ ر شوکت بسرا نے ہی کورم کی نشاندہی کردی اور تعداد پوری نہ ہونے پر سیپکر نے اجلاس آ ج (منگل ) صبح دس بجے تک کیلئے ملتو ی کر دیا ۔

مزید :

صفحہ اول -