کیا اسیر ی ہے کیا رہائی ہے22دن اور

کیا اسیر ی ہے کیا رہائی ہے22دن اور

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اسلام آباد (خبر نگار، مانیٹرنگ ڈیسک، اے پی اے، این این آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے این آر او عملدر آمد کیس میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو 18 ستمبر تک مہلت دیتے ہوئے ایک بار پھر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے جبکہ بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے واضح کیا ہے کہ یقین دہانی نہ کرائی تو قانون اپنا راستہ نکالے گا ¾ ہماری کسی سے محاذ آرائی نہیں، عدالتی حکم ہے جس پر عمل ہونا ہے، کسی شخص کو خط لکھنے کا اختیار دینے کی یقین دہانی کرائی جائے ¾ سہولت دینے کو تیار ہیں،بے شک فاروق نائیک کو یہ اختیار دے دیں ¾ کمٹمنٹ نہیں د ی گئی تو کیس میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوں گی، ہمارے پاس عدالتی حکم پر عمل درآمد کرانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ¾ کمٹمنٹ دیں آئندہ انتخابات تک آپ ہی وزیراعظم رہیں گے۔ گزشتہ روز جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان ، جسٹس اعجاز احمد چودھری ، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس محمد اطہر سعید پر مشتمل عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بینچ نے این آر او عملدر آمد کیس کی سماعت کی۔ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سماعت شروع ہونے سے پندرہ منٹ قبل ہی اپنے اتحادیوں چودھری پرویز الٰہی ¾ افراسیاب خٹک ¾ سینیٹر حاجی عدیل ¾ وفاقی وزراءقمر زمان کائرہ ¾ رحمن ملک ¾ مخدوم امین فہیم ¾ چودھری احمد مختار ¾منظور وٹو ودیگر کے ہمراہ عدالت میں پہنچ گئے تھے ۔ ججز کی عدالت میں آمد پر وزیر اعظم اور ان کے ساتھ موجود اتحادی اور وزراء احتراماً کھڑے ہو گئے۔ سماعت سے قبل وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے 4 صفحاتی تحریر وزیراعظم کو دی۔ وزیراعظم نے روسٹرم پرآ کرججز سے کہا کہ آپ کے سامنے پیش ہو گیا ہوں جس طرح پہلے والے وزیراعظم یہاں آئے تھے۔ وزیراعظم نے عدالت سے چار سے چھ ہفتے کا وقت دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہاکہ شوکاز نوٹس کا جواب دینے کیلئے مشاورت کی غرض سے کچھ وقت درکار ہے، میں دو مہینے پہلے وزیر اعظم بنا ہوں اور بطور وزیراعظم عدالت کا احترام کرتا ہوں اور عدلیہ کی نافرمانی کا تاثر نہیں دینا چاہتا، اِس کیس میں مجھے کچھ وقت درکار ہے۔انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی ساڑھے چار سال وزیر اعظم رہے ان کے ساتھ بھی رعایت کی جائے راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ وہ تاریخ میں اپنا نام عدالتوں کا احترام نہ کرنے والوں میں نہیں لکھوانا چاہتے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے آپ کو پہلے ہی کافی وقت دیا ہے اگر آپ چاہیں تو یہ مسئلہ آج ہی حل ہو سکتا ہے ¾مزید مہلت مانگنا سمجھ سے باہر ہے۔ بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ملزم کی حیثیت سے نہیں آئے ہیں، آپ باوقار قوم کے باوقار وزیراعظم ہیں، ہماری تاریخ ہے کہ خلیفہ وقت بھی عدالت میں آئے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ عدالت میں آجانا احترام نہیں بلکہ اِس کے فیصلے پر عمل درآمدکرنااس کا احترام کرنا ہے ہم آپ کا احترام کرتے ہیں، عدالت کسی کو بلائے تو اسے معیوب نہیں سمجھنا چاہئے جسٹس کھوسہ نے وزیراعظم سے کہا کہ آپ کی موجودگی اور ذاتی دلچسپی سے معاملہ حل ہوسکتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ غیریقینی صورتحال ختم کرنے کی ہرممکن کوشش کروں گا،مجھے یقین ہے کہ ایسی راہ نکلے گی کہ عدلیہ کا وقار بلند ہوگا،سفارتکار جب بھی مجھے ملتے ہیں تو اس کے بارے میں پوچھتے ہیںوزیراعظم نے کہا کہ وہ غیریقینی صورتحال ختم کرنے کی ہرممکن کوشش کریں گے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ وزیراعظم نے خود خط لکھنا ہوتا ہے آپ نے کسی کو اختیار دینا ہے کہ خط لکھے،عدالتی حکم کے پیرا گراف 178 میں بھی خط لکھنے کا حکم د یاگیا، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ملک قیوم نے خط لکھا تھاکہ سوئس کیسز بند کردیے جائیں، این آر او کے کالعدم ہونے کے بعد ان مقدمات کی بحالی ضروری ہے، یہ مسئلہ اتنا بڑا نہیں تھا جتنا بنا دیا گیا ہے،یہ مسئلہ ایک دن میں حل ہوسکتا ہے انہوں نے وزیر اعظم سے کہا کہ آپ مثبت کمٹمنٹ دیں پھرآرام سے بیرونی دوروں پرجائیںوزیراعظم نے کہاکہ ہمارے ملک کو دہشت گردی سمیت بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ہماری کسی سے محاذ آرائی نہیں، ایک عدالتی حکم ہے جس پر عمل ہونا ہے، یقین دہانی کرائیں کہ کسی شخص کو خط لکھنے کا اختیار دے رہے ہیں ،ہم آپ کو سہولت دینے کو تیار ہیں،بے شک فاروق نائیک کو یہ اختیار دے دیں اگر کمٹمنٹ نہیں دی گئی تو اس کیس میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوں گی، ہمارے پاس عدالتی حکم پر عمل درآمد کرانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔وزیراعظم نے ایک بار پھر استدعا کی کہ انہیں چار سے چھ ہفتے کا وقت دیا جائے، اتحادیوں اور کابینہ ارکان سے مشورہ کرنا ہے ، وزیراعظم نے کہا کہ میں چین جارہا ہوں ، اگر اس شو کاز نوٹس کے ساتھ چین گیا تو کیا تاثر پڑےگا؟جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ آپ سے قبل اٹارنی جنرل نے بھی اس مسئلے کے حل کی یقینی دہانی کرائی تھی ¾سیاست کا نام ہی ایڈجسٹمنٹ ہے،آپ کمٹمنٹ دے دیں ، آئندہ انتخابات تک آپ ہی وزیراعظم رہیں گے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ یقین دہانی نہ کرائی تو قانون اپنا راستہ نکالے گا بعدازاں سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کو22دن کی مہلت دیتے ہوئے انہیں 18ستمبر کو دوبارہ طلب کر لیا۔

مزید :

صفحہ اول -