ہمیں عدالت کیخلاف بولنے والوں سے غرض نہیں ،سپریم کورٹ ،نجی چینلز مالکان 6ستمبر کو طلب

ہمیں عدالت کیخلاف بولنے والوں سے غرض نہیں ،سپریم کورٹ ،نجی چینلز مالکان ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اسلام آباد(اے پی اے )سپریم کورٹ نے میڈیا نمائندوں پر مراعات لینے اور ا±ن کے اثاثے ظاہر کرانے سے متعلق دائر مقدمہ میں نجی چینلز کے مالکان کو چھ ستمبر کو کوئٹہ میں طلب کرلیا ہے۔میڈیا نمائندوں کے ذریعہ آمدن اور اثاثے معلوم کرانے سے متعلق ،اینکر حامد میر اور سینئر صحافی ابصار عالم کی طرف سے دائر مقدمہ کی سماعت ، جسٹس جواد خواجہ اور جسٹس خلجی عارف نے کی، عدالت نے 58 ٹی وی چینلز کے مالکان کو 6 ستمبر کو کوئٹہ میں مقدمہ کی سماعت کیلئے طلب کرلیا، اس پر فریقین کے وکلاءنے کہاکہ کوئٹہ میں تو شناختی کارڈ دیکھ کر گولی ماردی جاتی ہے، عدالت نے کہاکہ آپ وہاں آئیں اور آکر دیکھیں۔ تفصیلات کیمطابق سپریم کورٹ نے ملک ریاض کی جانب سے میڈیا میں رقوم اور پلاٹس کی تقسیم اور ٹی وی مالکان کیخلاف صحافیوں کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت پر 58 ٹی وی چینلز کے مالکان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے جبکہ پمرا ملک ریاض اور آج ٹی وی کی جانب سے ان درخواستوں پر جواب داخل کرا دیا گیا ہے۔ بحریہ ٹاﺅن کے وکیل زاہد بخاری کی شدید مخالفت کے باوجود عدالت نے آئندہ سماعت 6 ستمبر کو کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ پیر کے روز جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل دو رکنی بنچ نے حامد میر، ابصار عالم اور دیگر صحافیوں کی درخواستوں کی سماعت کی پہلے تو ان کی جانب سے زاہد بخاری نے عدالت کو بتایا کہ ملک ریاض نے کسی صحافی کو نہ پیسے دیئے ہیں نہ پلاٹس یہ سب کچھ جھوٹ ہے۔ بحریہ ٹاﺅن کے پیڈ پر یا چیک کے ذریعے کوئی رقم تقسیم نہیں ہوئی جس پر حامد میر نے کہا کہ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر عدالت پی ٹی اے سے ریکارڈ طلب کرے کہ انٹرنیٹ پر صحافیوں کی فہرست کس نے پیش کی جنہوں نے ملک ریاض سے پیسے لئے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ درخواستوں میں بہت اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں ان پر بحث ضروری ہے۔ ایکسپریس ٹی وی کے وکیل نے جواب جمع کرانے کیلئے مہلت کی استدعا کی جبکہ بحریہ ٹاﺅن کے وکیل زاہد بخاری نے عدالت کو مزید بتایا کہ حامد میر نے درخواست دنیا ٹی وی کی مخالفت کی وجہ سے دائر کی ہے۔ یہ فرد واحد کی لڑائی ہے اور اب اس لڑائی کو چینلز کے ذریعے لڑا جا رہا ہے جس پر حامد میر نے جواب دیا کہ وہ پیشہ ور صحافی ہیں اور ان کی کسی کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں اگر دنیا ٹی وی کی مخالفت کی وجہ سے درخواست دائر ہوتی تو دنیا ٹی وی کے اینکر پرسن ارشد شریف اس میں فریق نہ بنتے ان کے ساتھ عاصمہ شیرازی اور مظہر عباس بھی درخواست میں فریق ہیں اور یہ تمام پیشہ ور صحافی ہیں۔ ہمارا میڈیا مالکان سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض ٹی وی مالکان کی طرف سے یہ بھی دباﺅ ڈالا جاتا ہے کہ عدالت کیخلاف بولنے والے سینیٹرز اور دیگر اشخاص کو پروگراموں میں لیا جائے اس پر جسٹس جواد ایس خلجی نے کہا کہ عدالت کیخلاف جو بھی بولتا ہے ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہم نے آئین اور قانون کو دیکھنا ہوتا ہے۔ حامد میر نے کہا کہ ہمارے اوپر بہت زیادہ دباﺅ ڈالا جا رہا ہے ہمیں گالیاں پڑ رہی ہیں کسی بھی ٹی وی چینل کا دفتر کوئٹہ میں موجود نہیں ہے۔ انہیں کیا معلوم کہ وہاں کیا ہو رہا ہے بہتر یہی ہوگا کہ میڈیا مالکان کو اس بار کوئٹہ بلایا جائے اور وہاں پر سماعت کی جائے تاکہ یہ لوگ بلوچستان کے حالات سے واقف ہوسکیں۔ اس پر عدالت نے حکومت کو بلوچستان میں سکیورٹی اقدامات کرنے کا حکم کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں اور میڈیا مالکان کو بلوچستان کی صورتحال کا انداز ہوجائے۔ عدالت نے مزید سماعت چھ ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے اٹھاون ٹی وی چینلز کے مالکان سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -