پنجاب حکومت کے محکمے 5 ارب روپے کے ڈیفالٹر ہیں، چیف ایگزیکٹو لیسکو

پنجاب حکومت کے محکمے 5 ارب روپے کے ڈیفالٹر ہیں، چیف ایگزیکٹو لیسکو

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(کامرس رپورٹر) لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی ( لیسکو ) کے چیف ایگزیکٹو شرافت علی سیال نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کے محکمے 5ارب کے ڈیفالٹر ہیں،اب جو بھی محکمہ رواں ماہ کا بل جمع نہیں کروائے گا اسکا کنکشن بغیر نوٹس منقطع کر دیا جائےگا ‘ پنجاب حکومت نے مذکورہ رقم ادا نہ کی تو آنےوالے دنوں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھ سکتا ہے ‘اووربلنگ ،بجلی کی چوری کےساتھ اور ریکوری کے حصول کیلئے میڈیا اور لیسکو کو مل کر جہاد کرنا ہو گا ‘میٹر ریڈرکلچر ختم کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جا رہے ہیں ‘تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ پرائیویٹ ڈیفائٹرز کی لسٹ لیسکو کی ویب سائٹ پر آویزاں کی گئی ہے ۔وہ گزشتہ روز لیسکو ہیڈ آفس میں پر ہجوم پریس کانفرنس کر رہے تھے ۔شرافت علی سیال نے کہا کہ لیسکو کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے جس میں بجلی کے بلوں کی ریکوری ،بجلی کی چوری اور اور بلنگ شامل ہے ۔ پنجاب میں بالخصوص لاہور میں شیڈول سے ہٹ کر ہونے والی لوڈ سیڈنگ کی بڑی وجہ لاہور میں جاری پنجاب حکومت کی مختلف ترقیاتی منصوبے ہیں جس میں سب سے بڑا منصوبہ ریپیڈ ٹرانزٹ بس سروس ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کے مختلف محکموں کی درخواست پر ترقیاتی منصوبوں کے لئے لیسکو 7گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کرتی ہے اور عام لوگ اسے بھی معمول کی لوڈشیڈنگ میں شامل کر دیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آئندہ لیسکو میڈیا کے تعاون سے متعلقہ علاقہ کے بارے میں بجلی بند کرنے کے شیڈول کو ظاہر کرے گے تاکہ عوام میں آگاہی پیدا کی جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ 338ملین روپے لیسکو کی بجلی کی ترسیل کے نظام کو اپ گریڈ کرنے کے لئے خرچ کئے جائیں گے جبکہ 650ملین روپے بجلی کے لائن لاسنز پر قابو پانے پر خرچ کئے جائیں گے ۔شرافت علی سیال نے کہا کہ آئندہ سال میں 1لاکھ 2ہزار کے قریب کمرشل کنکشن دیئے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ میرے دور میں بجلی کی چوری پر قابو پانے کیلئے عملی اقدام کئے جا رہے ہیں جس کے خاطر خواہ نتائج بر آمد ہو رہے ہیں انہوں نے کہا کہ لیسکو کا بجلی کے بلوں کی ریکوری کیلئے جاری آپریشن محض پنجاب حکومت کے خلاف نہیں بلکہ اس میں وفاقی حکومت بھی شامل ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب اور وفاق کے مختلف حکومتی اور خود مختار اداروں نے لیسکو کو 5881ملین روپے ادا کرنے ہیں اور جب تک یہ رقم نہیں دی جائے گی بجلی کی پیداوار میں اضافہ نہیں ہو سکتا ۔

مزید :

صفحہ آخر -