پنجاب اسمبلی کا ”اندر باہر“ ، جس کا جتنا بس چلا اتنی من مانی کرلی

پنجاب اسمبلی کا ”اندر باہر“ ، جس کا جتنا بس چلا اتنی من مانی کرلی
پنجاب اسمبلی کا ”اندر باہر“ ، جس کا جتنا بس چلا اتنی من مانی کرلی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور (نواز طاہر سے) پنجاب اسمبلی میں قانون سازی اور پارلیمانی روایات نظر انداز کرنے کی پریکٹس میں کمی نہیں آ سکی بلکہ حکومت و اپوزیشن ارکان کی من مانی جاری ہے جس دوران، آئین رولز و اخلاقیات بلڈوز کی جا رہی ہیں۔ منگل کے روز بھی یہ کھیل پوری آب و تاب کے ساتھ کھیلا گیا۔ اپوزیشن نے جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے معاملے پر اپنا مطالبہ اپنے منوانے کیلئے بنائی جانے والی حکمت عملی کے تحت اجلاس کی کارروائی چلنے نہ دینے کے فیصلے پر بھرپور طریقے سے عمل کیا جبکہ حکومت اپنی حکمت عملی پر ڈٹی رہی جس دوران سپیکر کی غیر جانبداری بھی ”گم“ نظر آئی۔ اجلاس شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے اپنا یہ مطالبہ دہرایا کہ اس ایوان سے متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد کی روشنی میں بنائے جانے والے کمیشن کے لئے پنجاب سے حکومتی رکن کی نامزدگی کی جائے۔سپیکر نے اپوزیشن سے کہا کہ انہیں بات کرنے دی جائے جبکہ وہ پہلے واضح کرچکے ہیںکہ قومی کمیشن بنایا جائے جس میں سب کی مناسب شرح سے نمائندگی ہوناچاہیے۔اب ان پر اس معاملہ میں زور نہ ڈالہ جائے۔لیکن اپوزیشن سنی ان سنی کر دی جس سے ہنگامہ آرائی اور دوطرفہ نعرہ بازی شروع ہو گئی۔ اپوزیشن ارکان نے سپیکر پر جانبداری کا الزام دہرایا، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑنے کیساتھ ساتھ سیکرٹری اسمبلی سے بھی ایجنڈے کی کاپی چھین کر پھاڑ دی اور سپیکر کی ڈائس کے ڈائس کے گھیراﺅ کی کوشش کی لیکن اس سے پہلے ہی سیکیورٹی سٹاف نے سپیکر کی ڈائس حصار میں لے لی، اس دوران بعض سخت جملے بھی سنے گئے۔ سپیکر نے اپوزیشن کا احتجاج نظرانداز کرتے ہوئے اپنے استعمال کیلئے ہیڈ فون منگوا لیا اور وقفہ سوالات شروع کرا دیئے لیکن اپوزیشن نے اس میں بھی حصہ نہ لیا۔ سپیکر اپوزیشن اراکین کے نام پکارتے اور سوال مناتے رہے جبکہ حکومتی اراکین کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے محکمہ ایس اینڈ جی کے پارلیمانی سیکرٹری سردار ایوب کی آواز شور شرابے میں دب گئی۔ کارروائی کے دوران اپوزیشن کی طرف سے شوکت حسین بسرا نے کورم کی نشاندہی کر دی۔ اپوزیشن کی بات سنے بغیر سپیکر تیزی سے کارروائی نمٹاتے رہے۔ اس صورتحال میں جب اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض، شوکت بسرا، احسان الحق سپیکر کے ڈائس کے بالکل سامنے کھڑے ہو کر بھی کورم کورم پکارتے رہے تو بھی سپیکر نے ان پر توجہ نہ دی اور اپوزیشن ارکان کے نام پکار پکار کران کی تحریکیں ان کی ”عدم دستیابی“ کے نام پر نمٹا اور حکومتی ارکان کی تحریکیں معرض التواءمیں رکھ دیں اور ساتھ ہی ایجنڈے کی کارروائی مکمل کر کے اجلاس اگلے روز تک ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا جس پر اپوزیشن ارکان ”پاکستان بچانا ہے، جنوبی پنجاب صوبہ بنانا ہے“ کے نعرے دہراتے ہوئے ایوان سے نکل گئے۔ ارکان کے ایوان سے نکلنے کے بعد اسمبلی کے عملے نے اپوزیشن کی نشستوں کے مائیک درست کر دیئے۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اپوزیشن ارکان کی نشستوں پر نصب مائیک غیر فعال کر دیئے گئے تھے لیکن اپوزیشن کو اس کا علم اس لئے نہیں ہو سکا کہ کسی نے پوری توجہ کے ساتھ یہ مائیک چیک یا استعمال ہی نہیں کئے تھے۔ سپیکر چیمبر میں جب سپیکر سے دریافت کیا گیا کہ اپوزیشن کی طرف سے کورم کی نشاندہی کے باوجود جاری رہنے والے اجلاس کی قانونی حیثیت کیا ہے تو سپیکر نے بتایا کہ انہوں نے سنا ہی نہیں تھا کہ کورم کی نشاندہی کی گئی ہے۔ انہیں کورم کی نشاندہی کا علم اس وقت ہوا جب وہ ایجنڈے کی آخری آئٹم کا ذکر کر رہے تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس کے باوجود گنتی نہ کروا کے رولز کے منافی عمل نہیں کیا گیا تو سپیکر کا کہنا تھا کہ کورم کی نشاندہی کرنے کیلئے لازم تھا کہ ارکان اپنی نشست پر مائیک کھول کر بات کرتے اور طریق کار کے مطابق کورم کی نشاندہی کرتے۔ اس موقع پر موجود پارلیمانی سیکرٹری طاہر خلیل سندھو کا کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپوزیشن رکن حسن مرتضیٰ کو اس لئے دھکا دے کر گرایا تھا کہ سید مرتضیٰ نے ان کی ٹائی کھینچی تھی۔ ایک اور پارلیمانی سیکرٹری عبدالرزاق ڈھلوں کا کہنا تھا کہ سید حسن مرتضیٰ انہیں اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کے خلاف نعرے لگانے اور ان کی بے عزتی کیلئے اکساتے رہے۔ اس موقع پر سپیکر نے یہ بھی بتایا کہ انہیں استعفے پیش کرنے کا بیان دینے والی ن لیگ کی طیبہ ضمیر نے تحریری طور پر استعفیٰ نہیں دیا بلکہ اس ضمن میں غلط بیانی کی گئی ہے کیونکہ میرے پاس آئی توتھیں اور انہوں نے زبانی کہا تھا کہ میں استعفیٰ دینا چاہتی ہوں مگر میں نے ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور اپنے پاس بیٹھے سیکرٹری ٹو چیف منسٹر کو ہدایت کی کہ ان کا مسئلہ حل کیا جائے۔اجلاس ختم ہونے کے بعداسمبلی میں تاخیر سے پہنچنے والی حکومتی اوراپوزیشن اراکین ایوان کی کاروائی پر مسکراتے ہونے بحث اور تبادلہ میں معروف رہیں۔

مزید :

لاہور -