وزیراعظم کے دورئہ ترکی سے پہلے

وزیراعظم کے دورئہ ترکی سے پہلے
وزیراعظم کے دورئہ ترکی سے پہلے

  

                                                                    وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف 16ستمبر سے 18ستمبر کے دوران ترکی کا سرکاری دورہ کرنے والے ہیں۔ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد چین کے دورے کے بعد یہ ان کا دوسرا سرکاری بیرونی دورہ ہے۔یہ دورہ اس لئے بھی اہم ہے کہ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی سطح پر بہت سے مسائل اور چیلنجوں کا سامنا ہے۔اس تناظر میں پاک ترک تعلقات کو جہاں ایک نئی جہت ملے گی، وہاں بہت سے معاہدوں پربھی دستخط ہوں گے، جو پاکستان کو اندرونی اور بیرونی مسائل پر قابو پانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ وزیراعظم پاکستان کا دورئہ ترکی اس وقت ہو رہا ہے،جب پاکستان بہت سے اندرونی اور داخلی مسائل کا شکار ہے۔اس کو بہت سے بیرونی اور خارجی مسائل بھی درپیش ہیں۔داخلی اور اندرونی مسائل میں توانائی، بجلی و گیس کا بحران، دہشت گردی ، امن و سلامتی ،ملکی اداروں کی زبوں حالی، بیروزگاری، کمزور معیشت،سیلابی صورت حال، مہنگائی اور فرقہ وارانہ و علاقائی کشمکش کا سامنا ہے،جبکہ خارجی اور بیرونی سطح پر سرحدوں کی کشیدہ صورت حال، افغانستان میں امن اور اتحادی فوجوں کا انخلائ، کشمیر اور ہندوستان سے تعلقات، ڈرون حملوں اور امریکہ سے تعلقات، اس کے علاوہ مصر،شام، ایران، عراق، فلسطین سمیت مسلمان ممالک کے بارے میں غیر واضح موقف اور غیر متحرک سفارتی و خارجی کردار وغیرہ وغیرہ۔

اگرچہ اس وقت ترکی کو بھی چند اندرونی و بیرونی مسائل کا سامنا ہے، مثلاًترکی میں اندرونی سیاسی ہلچل، دہشت گردی اور امن و امان کا مسئلہ، کردوں کا مسئلہ، ترکی کے اسرائیل، فرانس، جرمنی ، ایران، شام، یونان،آرمینیا اور یورپی یونین سے تعلقات وغیرہ۔ ترکی مسلمان ممالک میںواحد ملک ہے، جسے اسرائیل، امریکہ، یورپ، ایران اور اکثر و بیشتر عرب ممالک کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہاہے، لیکن ان سب مسائل کے باوجود ترکی معاشی، اقتصادی، سیاسی ،سفارتی اورخارجی میدان میں پاکستان سے ہی نہیں، بلکہ ان چند واحد اسلامی ممالک میں سے ایک ہے جو بہتر طور پر پرفارم کررہے ہیں۔دنیا اور یورپ میں معاشی و اقتصادی بحران کے باوجود ترکی دنیا کاایک اقتصادی و معاشی طور پرمضبوط ملک ہے اور اس کی موجودہ قیادت اسے دنیا کے 10بڑے معاشی ممالک کی صف میں لے جانے کی تگ و دو کررہی ہے۔ فی کس آمدن 15ہزار ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ ترکی یورپ کی تیز ترین ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے۔سیاسی طور پر وہاں ایک عشرے سے زائد عوامی ووٹوں سے ایک ہی پارٹی برسراقتدار ہے جو فی الحال عوام کی پسندیدہ جماعت اور حکومت ہے۔

ترکی میں سیاسی استحکام بہتر ہے۔ترکی علیحدگی پسند کردوں سے مذاکرات کررہا ہے اور صورت حال بہتری کی جانب رواں دواں ہے۔ترکی کے یورپ، امریکہ، افریقہ، چین، جاپان، روس اور بہت سے اسلامی ممالک سے اقتصادی تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں۔ بیرونی سرمایہ کار دھڑا دھڑ ترکی کا رُخ کر رہے ہیں اور کروڑوں سیاح ہر سال سیرو تفریح کی غرض سے ترکی آتے ہیں۔اب تو صورت حال یہ ہے کہ ترکی نے اس سال آئی ایم ایف کا سارا قرضہ اتار کر خود آئی ایم ایف کو 500بلین ڈالرز کا فنڈ دیا ہے۔ توانائی میں ترکی خودکفیل ہے۔ترکی، ایران، روس، ترکمانستان سمیت دوسرے ممالک سے گیس لے کر خود اس سے بجلی بناتا ہے اور دوسرے ممالک کو فروخت کرتا ہے۔اس کے علاوہ ترکی ہائیڈل، تیل، سولر اور ونڈانرجی سمیت دیگر ذرائع سے بھی بجلی پیدا کررہا ہے۔اس کی مصنوعات ساری دنیا میں پھیلتی جا رہی ہیں۔ترکی کو مشرق وسطیٰ میں ایک اہم ملک کی حیثیت حاصل ہے اور وہ آہستہ آہستہ طاقت ور ملک بن رہا ہے۔وہاں بے روزگاری انتہائی کم ہے۔یورپ، یونان اور دیگر ایشیائی اور افریقی ممالک سے لوگ روزگار کی تلاش میں ترکی کا رخ کررہے ہیں۔

اس تجزیے ، پس منظر اور تناظر میں پاکستان ترکی سے بہت کچھ سیکھ اور حاصل کر سکتا ہے۔توانائی کا بحران ہو یا دہشت گردی کا مسئلہ، امن و امان اور سلامتی کا سوال ہو یا سرحدوں اور ہمسایوں سے کشیدگی، ڈگمگاتی معیشت ہو یا زبوں حال اقتصادی صورت حال،بے روزگاری ہو یا کمزور ہوتے ہوئے حکومتی و ریاستی ادارے، سیاسی عدم استحکام ہو یا عدم برداشت کا معاملہ، سفارت کاری و خارجہ پالیسی ہو یا صحت و تعلیم جیسے اہم شعبوں کی ترقی، غرض ان تمام شعبوں میں ترکی ہماری مدد کرسکتا ہے، جن میں ہمیں مدد اور تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ترک قیادت اور عوام میں پاکستان اور پاکستانیوں کے لئے بے پناہ محبت، اخوت، بھائی چارے اور دوستی سمیت نہایت گہرے بردارانہ اور دوستانہ جذبات و احساسات پائے جاتے ہیں۔یقینا ترکی ان مشکل حالات میں پاکستان کی مدد اور تعاون کے لئے خلوص نیت سے اپنا ہاتھ اور ساتھ آگے بڑھائے گا۔بہت سی ترک کمپنیاں توانائی، تعمیرات، مواصلات، زراعت، ٹیکسٹائل، لیدر، کیمیکلز، آٹو موبائل سمیت بہت سے ایسے شعبوں میں پاکستان کی مدد کر سکتی ہیں، جن میں ہمیں ان کی مدد کی ضرورت و رہنمائی درکار ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ وزیراعظم پاکستان کے دورہ ِترکی سے پہلے بہت سے ایسے شعبوں کی نشاندہی کے لئے ہوم ورک کرلیا جائے ،جن میں ترکی ہماری مدد کرسکتا ہے۔مکمل ہوم ورک کے بعد ہی یہ دورہ کامیاب ہو سکتا ہے،جس کے نتیجے میں ٹھوس اور عملی اقدامات سامنے آئیں۔امید رکھنی چاہیے کہ وزیراعظم کا یہ دورہ فائدہ مند ثابت ہوگا۔        ٭

مزید :

کالم -