دہ طرفہ مذاکرات لا حاصل مشق ، مودی نے واجپائی کی پالیسی اپنائی ، میر واعظ

دہ طرفہ مذاکرات لا حاصل مشق ، مودی نے واجپائی کی پالیسی اپنائی ، میر واعظ ...

                        سری نگر(کے پی آئی) کل جماعتی حرےت کانفرنس ع کے چےرمےن میرواعظ عمرفاروق نے دوطرفہ مذاکرات اورمعاہدوں کولاحاصل مشق قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ جموںو کشمیر، ہندوپاک کے درمیان کوئی سرحدی یا علاقائی تنازعہ نہیں ۔ میرواعظ نے مودی کو واجپائی کی پالیسی اختیارکرنے کامشورہدیتے ہوئے کہاکہ حکومت کی تبدیلی ، انتخابات، مراعات یابزور طاقت مسئلہ کشمیر حل نہیں کیا جاسکتا۔ٹاﺅن ہال میں عوامی مجلس عمل کے 50 ویں یوم تاسیس کے سلسلے میں منعقدہ ایک ضلعی ڈیلی گیٹ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ جموں کشمیر کا مسئلہ بھارت اور پاکستان کے درمیاں کوئی سرحدی یا علاقائی تنازعہ نہیں ہے بلکہ ڈیڑھ کروڑ کشمیری عوام کے سیاسی مستقبل کے تعین کا مسئلہ ہے اور اقوام متحدہ سمیت پوری عالمی برادری نے اس کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کیاہے ۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی معطلی کو افسوسناک قراردیتے ہوئے کہا کہ امید کی جارہی تھی کہ مسئلہ کشمیر کے ضمن میں بھارت کی نئی قیادت اپنے پیشرو اٹل بہاری واجپائی کی پالیسی کو اختیار کرتے ہوئے اس مسئلہ کوآئین کی حد بندیوں سے نکل کر انسانیت کے دائرے میں حل کرنے کی کوشش کرے گی لیکن اس کے بجائے جو حالات پیدا کئے جارہے ہیں اور کشمیری عوام کو طاقت کے بل پر پشت بہ دیوار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اس نے اس پورے خطے کو ایک بار پھر تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر حکومت کی تبدیلی ،( نام نہاد) انتخابات کے انعقاد یا طاقت کی زبان استعمال کرنے سے حل نہیں کیا جاسکتاکیونکہ 1947 سے آج تک یہ عمل یہاں بار بار دہرایا جاتا رہا ہے اس مسئلہ کو لے کر دونوں ممالک کے درمیان کئی جنگیں بھی ہوئیں تاشقند اور شملہ سمجھوتے بھی ہوئے لیکن اس کے باوجود مسئلہ کشمیر اپنی جگہ قائم ہے کیونکہ اس عمل میں کشمیر عوام شامل نہیںتھے ۔ انہوں کہا کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کو اس کے تاریخی پس منظرسے الگ نہیں کیا جاسکتا کشمیری عوام پورے شعور کے ساتھ اس تحریک سے جڑے ہیں اور گزشتہ کئی دہائیوں سے اس قوم نے بھارت کی جانب سے ناقابل یقین جبر و استبداد کا سامنا کیا ہے۔

مزید : عالمی منظر