یوکرین، بحران پر بیلا رو س میں ہونے والے مذاکرات نا کام

یوکرین، بحران پر بیلا رو س میں ہونے والے مذاکرات نا کام

                                                منسک (آن لائن)بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں یوکرائن اور روس کے صدور کے مابین ملاقات کے بعد بھی مشرقی یوکرائن کا بحران جلد ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔ اس ملاقات میں روسی صدر نے کہا، ”جنگ بندی یوکرائن کا مسئلہ ہے، روس کا نہیں۔منسک میں منگل کو رات گئے تک جاری رہنے والے اجلاس میں صرف یوکرائن کے صدر پیٹرو پوروشینکو اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن ہی نہیں بلکہ یورپی یونین کی خارجہ امور کی نگران اعلیٰ ترین عہدیدار کیتھرین ایشٹن کے علاوہ قزاقستان اور بیلاروس کے صدور بھی شریک ہوئے۔ اس کثیر الفریقی اجلاس کے بارے میں، جو مشرقی یوکرائن میں روس نواز علیحدگی پسندوں کی مسلح بغاوت کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران کے خاتمے کی کوششوں کے لیے پوروشینکو اور پوٹن کی پہلی باقاعدہ مذاکراتی ملاقاتتھی ، ماہرین کا کہنا تھا کہ شاید اس اجلاس کے ذریعے بحران کے جلد خاتمے کی کوئی راہ نکل سکے۔لیکن اجلاس کے بعد یوکرائنی صدر پوروشینکو نے بدھ کو علی الصبح بتایا کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور دیگر شرکاءنے یوکرائن کی طرف سے پیش کردہ امن منصوبے کی اصولی تجویز کا تو خیرمقدم کیا ہے لیکن ساتھ ہی روسی صدر بار بار اس بات پر بھی زور دیتے رہے کہ مشرقی یوکرائن کے روس نواز باغیوں کے ساتھ کوئی بھی فائر بندی معاہدہ صرف خود یوکرائن ہی طے کر سکتا ہے۔ امر یکی خبر ایجنسی نے بیلاروس کے دارالحکومت سے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ منسک اجلاس میں پیٹرو پوروشینکو اور ولادیمیر پوٹن کے مابین علیحدگی میں بھی ملاقات ہوئی، جو دو گھنٹے تک جاری رہنے کے بعد رات گئے ختم ہوئی۔ اس ملاقات کے اختتام پر ایسی کوئی امید نظر نہ آئی کہ مشرقی یوکرائن کا بحران جلد ختم ہو سکے گا۔اس ملاقات میں روسی صدر پوٹن نے اپنے یوکرائنی ہم منصب پوروشینکو کو بتایا، ”اگر آپ کسی بھی فائر بندی منصوبے کی بات کرتے ہیں تو یہ یوکرائن کا مسئلہ ہے

 روس کا نہیں۔منسک کے سربراہی اجلاس کے اختتام پر یوکرائن کے صدر نے صحافیوں کو بتایا کہ اس اجلاس میں وہ تمام شرکاءکی طرف سے یوکرائن کے امن منصوبے کے لیے حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ صدر پوروشینکو نے کہا کہ اب یوکرائن کو بحران کے حل کے لیے ایک روڈ میپ کی تیاری پر کام کرنا ہے تاکہ اس تنازعے کو پرامن انداز میں ختم کیا جا سکے۔دوسری طرف روسی صدر پوٹن نے، جنہوں نے منسک میں اپنے یوکرائنی ہم منصب کے ساتھ علیحدگی میں ملاقات اور دیگر نشستوں کو بھی مجموعی طور پر مثبت قرار دیا، کہا کہ روس صرف اعتماد کی اس فضا کے قیام میں مدد دے سکتا ہے جو یوکرائن کے بحران کے حوالے سے کسی بھی مذاکراتی عمل کے لیے ضروری ہے۔ساتھ ہی لیکن ولادیمیر پوٹن نے یہ بھی کہا کہ روس کسی بھی ایسی جنگ بندی کی شرائط کے بارے میں بات چیت کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ جو کیف حکومت اور یوکرائن کے باغی علاقوں ڈونیٹسک اور لوہانسک کے درمیان طے پانی چاہیے۔اس تناظر میں منسک میں پوٹن پوروشینکو ملاقات کے ایسے کوئی بڑے نتائج نہیں نکل سکے جنہیں حقیقی معنوں میں واضح پیش رفت قرار دیا جا سکے۔ اس کے برعکس جو ایک نتیجہ واضح ہے، وہ یہ کہ مشرقی یوکرائن کا بحران جلد حل ہوتا نظر نہیں آتا۔ کیف حکومت اور مغربی ملکوں کا کہنا ہے کہ مشرقی یوکرائن میں روس نواز باغیوں کو ماسکو کی طرف سے جنگجوو¿ں اور ساز و سامان کے ساتھ ساتھ کئی طرح کی دوسری امداد بھی مل رہی ہے۔ کیف حکومت ابھی تک اس تنازعے پر قابو پانے کی کوششیں کر رہی ہے اور اب تک یہ خونریز بحران یوکرائن کے دو ہزار سے زائد شہریوں اور 700 سے زائد فوجیوں کی جان لے چکا ہے۔

مزید : عالمی منظر