کنٹرول لائن پر 1971 کی جنگ سے بھی بدترین گولہ باری ہورہی ہے

کنٹرول لائن پر 1971 کی جنگ سے بھی بدترین گولہ باری ہورہی ہے

جموں (کے پی آئی) بھارتی سرحدی حفاظتی فورس(بی ایس ایف)کے ڈائریکٹر جنرل ڈی کے پاٹھک نے کہا ہے کہ کنٹرول لائن پر 1971 کی جنگ سے بھی بدترین گولہ باری ہورہی ہے ۔ پاٹھک نے آر ایس پورہ سیکٹر میں سرحدی علاقہ کا دورہ کر کے گذشتہ ڈیڑھ ماہ کے زائدعرصہ سے جاری فائرنگ کے آر پار تبادلہ سے پیدا شدہ صورتحال اور نقصانات کا جائزہ لیا ہی۔ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد سے بات کرتے ہوئے کے پاٹھک نے کہاکہ انٹلیجنس اطلاعات کے مطابق پاکستان نے سرحد کے قریب متعدد لانچنگ پیڈززیر زمین مورچے تیار کئے ہیںجہاں سے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیاں کرتے ہوئے فائرنگ کی جارہی ہی۔ڈی جی بی ایس ایف نے کہاکہ وہ امن چاہتے ہیں لیکن جب وہ ہمیں نشانہ بناتے ہیں تب چپ نہیں رہاجاسکتا۔ انہوں نے دعوی کیاکہ ہندوستان نے کبھی بھی فائرنگ نہیں کی، جب بھی پاکستان کی طرف سے فائر کیاگیا تو فوری طور متعلقہ حکام کی نوٹس میں معاملہ لایاگیا مگر ہمیشہ ان کا رد عمل مایوس کن رہا جوکہ سرے سے جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی کا سرے سے ہی انکار کرتے ہیں۔

 گذشتہ ماہ جب سے یہ خلاف ورزیاں ہورہی ہیں ہم نے متعدد پارپاکستانی رینجرز کے کمپنی کمانڈر کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی تاکہ فلیگ میٹنگ کا انعقاد کر کے مسئلہ کو حل کیاجائے لیکن انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ پاٹھک نے کہاکہ آخری مرتبہ پاکستان نے پیغام کا جواب تبھی دیاتھا جب ایک بی ایس ایف اہلکار حادثاتی طور دریاچناب کی لہرں میں بہہ کر اس طرف چلاگیاتھا، جس سے پاکستانی فوج نے جذبہ خیرسگالی کے طور واپس بھیج دیاتھا۔پڑوسی ملک کو بلااشتعال فائرنگ کرنے پر کڑا جواب دینے کا انتباہ دیتے ہوئے ڈی جی بی ایس ایف نے کہاکہ ہندوستانی فوج پاکستان کی طرف سے کی جانے والی بلااشتعال فائرنگ کا جواب دی رہی ہیں، انہوں نے حدمتارکہ پر فائرنگ کی پہل نہ کی ہے لیکن جواب ضرور دیا ہی۔

مزید : عالمی منظر