گورنر پنجاب کی سیاسی حکمتِ عملی رنگ لائے گی

گورنر پنجاب کی سیاسی حکمتِ عملی رنگ لائے گی
گورنر پنجاب کی سیاسی حکمتِ عملی رنگ لائے گی

  

کہتے ہیں نام کمانا ہو تو سو ذریعے ہیں، یوں بھی نیکی اور بھلائی انسان کے اعلیٰ اوصاف میں شامل ہے، نیک انسان ہی انسانیت کے ماتھے کا جھومر بنتے ہیں اور اپنی اعلیٰ کارکردگی اور انسان دوستی کے باعث سب کی آنکھوں کا تارا بن جاتے ہیں، اچھے لوگوں کی دُنیا میں کمی نہیں، اچھائی وقت کی محتاج نہیں کسی بھی وقت اچھے کاموں کا آغاز کیا جا سکتا ہے اور وقت خوشگوار بنایا جا سکتا ہے، اچھے کام کرنے ہوں تو وقت کا انتظار بھی نہیں کیا جاتا وقت کیسا ہی کیوں نہ ہو، فلاحی کام کئے جا سکتے ہیں مگر اس کے لئے جذبہ خدمت اور حب الوطنی بہت ضروری ہے اس تمام اعلیٰ اور ارفع پس منظر میں جب ہم دور تک دیکھتے ہیں تو ہمیں ایک ہردلعزیز اور متوازن شخصیت گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کے روپ میں نظر آتی ہے۔

چوہدری محمد سرور جب لندن میں تھے تو اُن کا دل پاکستان کے لئے دھڑکتا تھا، وہاں رہتے ہوئے بھی اُنہوں نے پاکستان میں ہسپتالوں اور رفاعی اداروں کی تعمیر میں دل کھول کر حصہ لیا اور کارِ خیر کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا، پچھلی حکومتوں کو عوامی بھلائی کے منصوبوں پر کام کرنے کے مشورے دیتے رہے۔ 1122 ریسکیو پلان انہی کے مشوروں سے وجود میں آیا اور آج اس ہنگامی سروس سے پورا پنجاب فائدہ اُٹھا رہا ہے۔ کہتے ہیں خواب کوئی دیکھتا ہے اور اس کو تعبیر کوئی دیتا ہے، جس طرح حضرت علامہ اقبالؒ نے پاکستان کا خواب دیکھا اور اس کو تعبیر حضرت قائد اعظمؒ نے دی اسی طرح پاکستان بھر میں اور خاص طور پر صوبہ پنجاب میں تعمیراتی منصوبوں اور فلاحی کاموں کا خواب تو چوہدری محمد سرور نے دیکھا مگر اس خواب کو تعبیر یہاں کی حکومتوں نے دی مگر اب تو پنجاب اور مرکز میں حکومت ہی چوہدری محمد سرور گورنر پنجاب کی ہے، اب تو اور بھی زیادہ فلاحی کام ہوں گے اور ہو رہے ہیں، اب براہِ راست عوام کی دیکھ بھال ہو رہی ہے جیسے گورنر صاحب کا منصوبہ ہے کہ نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان میں فلٹریشن واٹر پلانٹ لگائے جائیں اور پنجاب میں بہت جگہ لگ گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے کشیدہ حالات میں گورنر صاحب کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ گئی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ ان دنوں 20 گھنٹے روزانہ کام کر رہے ہیں، کبھی لانگ مارچ والوں سے مل رہے ہیں تو کبھی حکومت کو مشورے دے رہے ہیں اور ہر صورت یہ چاہتے ہیں کہ کوئی درمیانی راستہ نکل آئے جس سے دونوں فریق بغیر کسی تلخی کے اور حالات کے بگڑے کسی نتیجے پر پہنچ جائیں۔ گورنر صاحب کے طوفانی دورے اسی سلسلے کی کڑی ہیں، ابھی کل ہی انہوں نے کراچی کا دورہ کیا وہاں کی اعلیٰ قیادت سے صلاح ، مشورے کئے اور پھر اس کی روشنی میں حکومت کے لئے خیر سگالی کے پیغامات لائے، گورنر صاحب دن رات اس کوشش میں ہیں کہ ملک میں جاری احتجاجی تحریکوں کو کسی منطقی انجام تک پہنچا دیا جائے اور کوئی ایسا راستہ اختیار کر لیا جائے جس سے ملکی سلامتی اور قومی بقا پر کوئی آنچ نہ آئے۔

حقیقت بھی یہی ہے کہ ملک ہے تو ہم ہیں، ہماری سب بہاریں اپنے پیارے وطن سے ہیں، اس کی دھوپ بھی ہمیں چھاﺅں جیسی ہے اور اس کی خزاں میں بھی بہار کی دلکشی ہے، وطن پیارا وطن ہم سب کی آخری منزل اور اُمیدوں کا مرکز ہے۔ اس وطن کی شان آن اور آبرو کی خاطر گورنر صاحب سب سے مل رہے ہیں، گزشتہ ماہ علامہ طاہر القادری سے کئی بار ملے اور انہیں یقین دلایا کہ آپ کے تمام جائز مطالبات پورے کئے جائیں گے اور آپ کے وقار کو ٹھیس نہیں لگنے دی جائے گی، اس وقت جب یہ کالم لکھا جا رہا ہے وہ سندھ کے گورنر عشرت العباد کے ساتھ اسلام آباد میں ڈاکٹر قادری سے ملاقات کے لئے جانے والے ہیں۔ اسی طرح دیگر جتنے بھی اپوزیشن کے ارکان ہیں سب سے مل کر وہ انہیں قومی دھارے میں لانے کے لئے بے چین رہتے ہیں، سو ایک طرف گورنر صاحب فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں تو دوسری طرف سیاسی اُفق پر چمک رہے ہیں، کہتے ہیں سیاست کی کوئی کل سیدھی نہیں ہوتی اچانک سیاست کے تیور بدل جاتے ہیں مگر گورنر صاحب بھی اسے خوب جانتے ہیں، وہ اس کے تیور بدلنے سے پہلے ہی کوئی ایسا لائحہ عمل اپناتے ہیں جس سے ملک بڑی پریشانی سے بچ جاتا ہے۔ سب سے ملنا اور اُنہیں ایک مرکز پر لانا کوئی معمولی کام نہیں اور گورنر صاحب ان دنوں اس کے لئے راتوں کی نیندیں بھی قربان کر رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو اس وقت حکومت کے سامنے عمران خان اور علامہ قادری دونوں کھڑے ہوئے ہیں ان کی دھرنوں کی سیاست اگر چہ دم توڑتی جا رہی ہے مگر اس کے پس پردہ جوشخصیت اپنے نیک اور اچھے کاموں سے سر گرم ہے وہ ہے گورنر صاحب کی شخصیت، گورنر صاحب نے اپنی پوری کوششوں سے فریقین کو ٹکرانے سے بچایا ہوا ہے۔

گورنر صاحب لندن میں تھے تو پاکستان کے لئے بے چین تھے اب پاکستان میں آ گئے ہیں تو اس کی بقا اور سلامتی کے لئے بیتاب ہیں، یہ اُن لوگوں میں سے نہیں ہیں جو وطن سے گئے تو پھر پیچھے مُڑ کر بھی نہیں دیکھتے، اُنہوں نے ہمیشہ پاکستان کو فوکس کیا اور آج گورنر پنجاب بن کر پورے پاکستان کی خدمت کرنے کے جذبے سے سرشار ہیں۔زندگی بہت کم لوگوں کے ساتھ وفا کرتی ہے اور ہر کسی پر مہربان بھی نہیں ہوتی مگر جو لوگ زندگی کا چیلنج قبول کرتے ہیں اور اس کی سختیاں برداشت کرتے ہیںاُنہیں زندگی دنیا کے خزانوں کا سراغ بتا دیتی ہے، جتنے بھی بڑے لوگ ہوتے ہیں اُنہوں نے زندگی کے چیلنج کا مقابلہ بھی کیا اور اسے کامیاب بنانے کے لئے راتوں کی نیندوں کو بھی قربان کیا۔

ان کامیاب انسانوں کی فہرست میں ہمیں چودھری محمد سرور گورنر پنجاب نمایاں نظر آتے ہیں، ان کی بے شمار خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ محب الوطن ہیں، اور محب الوطن کی پہچان اس کے قومی جذبے اور کاموں سے ہوتی ہے، آج ہم چودھری محمد سرور کو اپنے وطن کے جانثار کے طور پر دیکھ رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ ملک میں جاری بحران پر قابو پانے کے لئے سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ انشاءاللہ وہ دن دور نہیں جب وہ اپنی کوششوں میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ٭

مزید : کالم