علامہ اقبال ؒکا تعلیمی سفر یورپ اور اس کے اثرات

علامہ اقبال ؒکا تعلیمی سفر یورپ اور اس کے اثرات
 علامہ اقبال ؒکا تعلیمی سفر یورپ اور اس کے اثرات

  

حضرت علامہ اقبالؒ کی مایہ ناز اردو تصنیف”بال جبریل “کی ترتیب و تکمیل مئی 1934ءمیں ہوئی۔ آپ کا خیال تھا کہ یہ کتاب اور لیکچروں کا ترجمہ سید نذیر نیازی کی وساطت سے جامعہ ملیہ دہلی کی طرف سے شائع ہو ۔ اس بات کے محرک سید نذیر نیاز ہی تھے، چنانچہ آپ نے 24 مئی 1934ءکو سید صاحب کی خدمت میں ایک خط ارسال کیا ،تاکہ وہ دونوں کتابوں کے لئے شرائط طے کر لیں۔ آپ نے تحریر فرمایا:”میرے خیال میں فی الحال مجموعہ نظم اور ترجمہ لیکچرز کے لئے شرائط طے کر لیں ۔ جب ہم اپنا کام بطور ایک فرم کے شروع کریں گے اس وقت دیگر شرائط طے ہوں گی۔فی الحال جو کام درپیش ہے ،اس حد تک محدود رہنا چاہیے۔ مجموعہ نظم میری رائے میں پانچ ہزار چھپنا چاہیے“....یہ امر قابل ذکر ہے کہ ”بال جبریل“کاپہلا نام ”نشان منزل“رکھا گیا بعد میں ”بال جبریل“طے ہوا ۔

حضرت علامہ اقبالؒ نے ستمبر 1905ءمیں اعلیٰ تعلیم (فلسفہ قانون اور تحقیقات علم) کے لئے گورنمنٹ کالج لاہور سے تین سال کی رخصت حاصل کی اور پھر ولایت کا سفر اختیار کیا:

چلی ہے لے کے وطن کے نگار خانے سے

شراب علم کی لذت کشاں کشاں مجھ کو

”بال جبریل“ کے حوالے سے علامہ اقبالؒنے یورپ میں اس زمانے (1905ءتا1908ئ) میں جو تعلیم حاصل کی اور فرنگی اساتذہ سے کسب فیض کیا اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

مجھے وہ درس فرنگ آج یاد آتے ہیں

کہاں حضور کی لذت کہاں حجاب دلیل

حضرت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ مَیں نے فرنگی اساتذہ سے کسب فیض کیا، اس وقت وہ تعلیم بڑی دلآویزاور دلکش لگتی تھی ۔ اساتذہ مختلف النوع نظریات کا تعارف کراتے اور ان کے خلاف براہین اور دلائل دیتے تھے ۔یوں مَیں سمجھتا تھا کہ مَیں نے اعلیٰ درجے کا علم حاصل کر لیا ہے ،لیکن آج جب وجدانی علم سے مجھے آگاہی ہوئی ہے جو براہین و دلائل کی بجائے اشیاءکی حقیقت نمایاں طور پر واضح کر دیتا ہے تو مجھ پر فرنگی اساتذہ کی تدریس اور اہل فکر و نظر کے درس میں نمایاں فرق واضح طور پر نظر آجاتا ہے اور پتہ چلتا ہے کہ اگرچہ وہ علم دلائل پر مبنی تھا، اس کے باوجود حقیقت نمایاں ہونے کی بجائے پنہاں رہ جاتی تھی، مگر اہل فکر و نظر کی توجہ اور رہنمائی سے حقیقت رو ز روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے....حضرت علامہ اقبالؒ اپنے آباﺅ اجداد جو اسلام کے دائرے میں داخل ہونے (اسلام قبول کرنے کے بعد ہجرت کرکے سیالکوٹ میں آبستے تھے، ان سے نسبت جوڑتے اور اپنا آبائی تعلق ظاہر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

کافر ہندی ہوں مَیں ، دیکھ میرا ذوق و شوق

دل میں صلوٰة و درد،لب پہ صلوة و درود

مطلب یہ ہے کہ ایک تعلق تو آپ کا کشمیر ی برہنموں سے ہے جو آپ کے آباﺅ اجداد تھے اور آپ کی نسل سے ہیں۔ اسلام کی روشن تعلیمات آپ کے رگ و پے میں اس قدر رچ پس گئیں کہ صلوٰة ودرود ہر وقت آپ کے دل میں موجزن اور زبان پر جاری و ساری رہتا تھا، لیکن دوسری جانب آپ نے یورپ جا کر تحصیل علوم کی خاطر علم و دانش وہاں کے اساتذہ سے سیکھا تو آپ کے عقائد ونظریات میں آمیزش پیدا ہو گئی۔ آپ نے بال جبریل میں اس حقیقت کی نشاندہی مندرجہ ذیل شعر میں کی جس میں سرور کائنات، سرکار دو عالم، رحمت العالمین ،خاتم النبین حضور اکرم ﷺ سے چارہ سازی کرنے کی التجاءکی گئی ہے۔ فرماتے ہیں:

تو اے مولائے یثربآپ میری چارہ سازی کر

میری دانش ہے افرنگی، مرا ایماں ہے زُنّاری

مندرجہ بالا شعر میں حضرت علامہ اقبالؒ تاجدار مدینہ،سرور سینہ، شیع المذنبین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی بارگاہوں میں التجا اور درخواست کرتے ہیں کہ آپ ﷺ میرے امراض کا مداوا اور علاج فرمائیں ۔ مَیں نے علم و دانش یورپ کے اساتذہ سے سیکھے ہیں، جبکہ میرا نسبتی اور خاندانی تعلق ہندوستان کے برہمنوں سے ہے۔ بنا بریں میرے ایمان و ایقان میں مغربی افکار و نظریات اور ہندوعقائد و نظریات کی آمیزش آگئی ہے ،ان عقائد و نظریات نے مجھے بیمار کر دیا ہے۔ اس بیماری کا علاج حکیموں اور دانشوروں کے پاس نہیں، صرف آپ ﷺ کے پاس ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آنحضورﷺ کے اسوئہ حسنہ اور آپ کی شرع مبارکہ میں ہے جو احادیث مطہرہ کی صورت میں محفوظ اور مامون ہیں۔ بنا بریں میری آنحضرت ﷺ سے التجا ہے کہ وہ خود ہی میرے امراض کا علاج فرمائیں۔یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ حضرت علامہ اقبال ؒ کے نزدیک ”میری دانش “ اور ”مرا ایمان “ سے مدعاو مطلب اور مراد عصر جدید اور عصر حاضر کے مسلمانوں کی دانش اور ایمان ہے۔جن پر مغربی افکار و نظریات اور ہندو عقائد کی گہری چھاپ اور اثرات ہیں۔ مغربی اور یورپی تہذیب و تمدن کے حوالے سے تو حضرت علامہ اقبالؒ نے بہت کچھ قلمبند فرمایا ہے، اسی سے ملتا جلتا بال جبریل کا حسب ذیل شعر ملاحظہ ہو،فرماتے ہیں:

مجھے تہذیب حاضر نے عطا کی ہے وہ آزادی

کہ بظاہرمیں تو آزادی ہے، باطن میں گرفتاری

ہم نے حضرت علامہ اقبالؒ کے مذکورہ بالا شعر سے پہلے جو نہایت خوبصورت ، دلآویز اورمعنی خیز شعر پیش کیا ہے جس میں بقول حضرت علامہ مغربی نظریات اور ہندو عقائد کی آمیزش ہے، اسی شعر سے ملتے جلتے مندرجہ ذیل اشعار ملاحظہ فرمائیے۔ مغربی فلسفے اور مغربی علوم اور ہندو عقائد پر غوروفکر کیجیے، حضرت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:

کوئی دیکھے تو میری نے نوازی

نفس ہندی، مقام نغمہ تازی!

نگہ آلودہ انداز افرنگ!

طبیعت ، غزنوی ، قسمت ایازی

حضرت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں، جب کوئی گہرائی اور گیرائی میں جا کر میرے خیالات، افکار اور نظریات کے سر چشموں پر غور و فکر کرے گا تو حیران و ششدر رہ جائے گا ،کیونکہ مَیں پیدائشی طور پر تو ہندی ،یعنی برہمن زادہ ہوں، لیکن اپنے کلام میں جو خیالات پیش کرتا ہوں وہ عربی اور اسلامی ہیں۔ میرا انداز نظر و فکر مغربی فلسفے پر مبنی ہے، کیونکہ مَیں نے مغربی علوم کی تعلیم حاصل کی ہے ،اگرچہ میرا مزاج غزنوی، یعنی ”شاہانہ“ہے ،لیکن تقدید نے مجھے ”غلام“ بنایا ہے ،یعنی میری پیدائش ہندوستان جیسے غلام ملک میں ہوئی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے :

نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں، نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں

نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلف ایاز میں

پیشتر ازیںہم نے بال جبریل (غزلیات کے حوالے سے جو شعر پیش کیا ہے ،اس کے پہلے مصرعے میں حضرت علامہ اقبالؒ نے فرمایا ہے:

تو اے مولائے یثربآپمری چارہ سازی کر

اس ضمن میں ہم ایک نہایت ایمان افروز، روح پرور اور دلآویزاقتباس پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنا چاہتے ہیں، جس کی اس گئے گزرے زمانے میں اتنی ضرورت ہے ،جتنی اس سے پہلے تھی، بلکہ اس کی جس قدر تبلیغ، اشاعت اور ترویج کی جائے کم ہے۔ حضرت علامہ اقبالؒ کا یہ ایمان اور ایقان ہے:آپ کو رسول رسالت مآب ﷺ سے والہانہ عشق تھا جو آپ کے رگ و پے میں سمایا ہوا تھا ،اس کا اظہار آپ نے نہایت عقید ت اور محبت کے ساتھ کیا ہے اور عقید ت و شیفتگی کے پھول موتیوں کی طرح آپ کے کلام میں جا بجا بکھرے ہوئے ہیں۔حضرت علامہ اقبالؒ نے نیاز الدین خان کے نام اپنے مکتوب میں، جو انہوں نے 14 اکتوبر 1923 ءکو تحریر کیا، فرمایا:”نبی کریم ﷺ کی ”زیارت“مبارک ہو۔ اس زمانے میں یہ بڑی سعادت ہے۔ قرآن کریم کثرت سے پڑھنا چاہیے، تاکہ قلب محمدیﷺ نسبت“پیدا کرے، خلوص دل کے ساتھ محض قرآت کافی ہے۔

میرا عقیدہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ ”زندہ “ہیں اور اس زمانے کے لوگ بھی اسی طرح مستفیض ہو سکتے ہیں جس طرح صحابہ کرام ؓ ہوا کرتے تھے“۔ ایک سچے اور پکے مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ علامہ اقبالؒ ایک سچے اور پکے عاشق قرآن اور عاشق رسول ﷺ بھی تھے اور آپ کی شاعری کا سب سے بڑا وصف یہی ہے کہ آپ نے ان دونوں بنیادی مآخذ قرآن کریم اور احادیث نبوی ﷺ سے جو کچھ حاصل کیا، اسے اپنی اردو اور فارسی شاعر کے علاوہ اپنے تمام خطبات، مضامین و مقالات ، تحریر و بیانات اور مکاتیب و پیغام میں پیش کر دیا جن سے اہل دانش اور اہل اصحافب فکر و نظر استفادہ کرتے رہتے ہیں۔ ایک سچا اور پکا مسلمان وہ ہے جو قرآن مجید فرقان حمید کا علم حاصل کرے ،پھر اس کی ترویج و اشاعت کرے ۔ اس ضمن میں علامہ اقبالؒ کس مقام پرفائز تھے ،ان کی اپنی زبانی سنئے اور اپنی گراں قدر رائے کا اظہار فرمائیے۔ آپ رقمطراز ہیں:”یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم ہے کہ اس نے قرآن شریف کا یہ مخفی علم مجھ کو عطا کیا ہے ۔ مَیں نے 15سال تک قرآن مجید پڑھا ہے اور بعض آیات اور سورتوں پر مہینوں، بلکہ برسوں غور کیا ہے“۔

حضرت علامہ اقبالؒ قرآن مجید فرقان حمید کو دل و جان سے چاہتے تھے اور ان کا ایمان تھا کہ اسی میں ”توشہ آخرت “ اور ”زاد راہ“ تلاش کرنا چاہیے۔ ہم سب مسلمانوں کو انہوں نے یہی دعوت دی ہے۔ آ پ فرماتے ہیں:”دنیا کی حیثیت ایک سرائے کی ہے اور ہم سب مسافر ہیں ۔ مسلمانوں کے لئے جائے پناہ صرف قرآن کریم ہے، اسی میں توشہ آخرت اور زاد راہ تلاش کرنا چاہیے۔زمانے کے ساتھ ساتھ ضرور چلنا چاہیے ،لیکن اپنے دامن کو اس کے بد اثرات سے آلودہ نہ ہونے دو ۔ مَیں اس گھر کو صد ہزار تحسین کے قابل سمجھتا ہوںجس گھر سے علی الصباح قرآن کریم کی تلاوت کی آواز آتی ہو۔ کلام پاک کا صرف مطالعہ ہی نہ کیا جائے ،بلکہ اس کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔

قرآن کریم نے علامہ اقبال ؒ کی زندگی میں کیا انقلاب پیدا کیا۔ مولانا سید ابو الااعلیٰ مودودی نے ان کے قیام یورپ کا تجزیہ بڑے دلکش اور حسین انداز میں کیا ہے۔ فرماتے ہیں:

”سب جانتے ہیں کہ اقبالؒ نے یہی مغربی تعلیم حاصل کی تھی ،جو ہمارے نوجوان انگریزی یونیورسٹیوں میں حاصل کرتے ہیں۔یہی تاریخ،یہی ادب، یہی اقتصادیات، یہی سیاسیات، یہی قانون،یہی فلسفہ انہوں نے پڑھا تھا اور ان فنون میں بھی وہ مبتدی نہیں تھے ،بلکہ منہتی فارغ التحصیل تھے۔ خصوصاً فلسفے میں تو ان کو ”امامت“ کا مرتبہ حاصل تھا، جس کا اعتراف موجود ہ دور کے اکابر فلسفہ تک کر چکے ہیں۔

جس شراب کے دو چار گھونٹ پی کر بہت سے لوگ بہکنے لگتے ہیں، یہ مرحوم اس کے سمندر پئے بیٹھا تھا، پھر مغرب اور اس کی تہذیب کو بھی اس نے محض ساحل پر سے نہیں دیکھا تھا ،جس طرح ہمارے ننانوے فیصد نوجوان دیکھتے ہیں ،بلکہ وہ اس دریا میں غوطہ لگا کر تہہ تک اتر چکا تھا اور ان سب مرحلوں سے گزر اتھا ،جن میں پہنچ کر ہماری قوم کے ہزاروں نوجوان اپنے دین و ایمان،اپنے تہذیب و تمدن اور اپنے قومی اخلاق کے مبادی تک سے برگشتہ ہو جاتے ہیں ،حتیٰ کہ اپنی قومی زبان کے قابل تک نہیں رہتے، لیکن اس کے باوجود اس شخص کا حال کیا تھا؟ مغربی تعلیم ، تہذیب کے سمندروں میں قدم رکھتے وقت وہ جتنا ”مسلمان “تھا ،اس کے منجدھارمیں پہنچ کر اس سے زیادہ ”مسلمان“پایا گیا۔ اس کی گہرائیوں میں جتنا اترتا گیا، اتنا ہی زیادہ ”مسلمان“ ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ اس کی تہہ میں پہنچا تو دنیا نے دیکھا کہ وہ ”قرآن“ میں گم ہو چکا ہے اور ”قرآن “سے الگ اس کا کوئی فکر و جود باقی نہ رہا۔ وہ جو کچھ سوچتا تھا ”قرآن کے دماغ “ سے سوچتا تھا، جو کچھ دیکھتا تھا ”قرآن کی نظر“سے دیکھتا تھا۔ ”حقیقت اور قرآن“اس کی نظر میں شے واحد تھے اور اس شے واحد میں وہ اس طرح ”فنا “ہو گیا تھا کہ اس دور کے علمائے دین میں بھی مجھے کوئی ایسا شخص نظر نہیں آتا جو ”فنائیت فی القرآن“میں اس ”امام فلسفہ“اور اس ایم ۔ اے ، پی ایچ ڈی ، بار ایٹ لاءسے لگاکھاتا ہو“۔  ٭

مزید : کالم