کیسا ہو گا یا پاکستا (1)

کیسا ہو گا یا پاکستا (1)
کیسا ہو گا یا پاکستا (1)

  

ہر سال کی طرح اس سال بھی،یع ی 14اگست 2014ءمیں پاکستا کا یوم آزادی م ایا جا ا تھا۔ پاکستا میں ہر سال یہ د بڑی س جیدگی، احترام ،متا ت اور عظمت کے ساتھ م ایا جاتا ہے، اس د برصغیر کے ایک مخصوص خطے پر ظریہ¿ اسلام کی ب یاد پر قائم ہو ے والی د یا کی واحد سلط ت، اسلامی جمہوریہ پاکستا کے قیام کی تحریک ، اس تحریک میں دی جا ے والی قربا یاں اور ا قربا یوں کے تیجے میں معرض وجود میں آ ے والے اس پیارے ملک پاکستا کی عزت و سلامتی ، وقارو ترقی کی دُعائیں ما گی جاتی ہیں۔

بزرگ اپ ے بچوں ، اساتذہ اپ ے شاگردوں اور بزرگ خواتی اپ ی بیٹیوں ، پوتیوں ، واسیوں کو پاکستا ب ے کے عمل کے دورا رو ما ہو ے والی الم اک داستا یں س اتی ہیں۔ مہاجری کے پاکستا کی جا ب سفرِ ہجرت کے ا دوہ اک واقعات ، ا واقعات میں پیش کی جا ے والی ہزاروں وجوا بیٹیوں کی قربا یوں اور لٹ ے والی ہزاروں عصمتوں کا ذکر ہوتا ہے۔ اس کو سُ کر ہر آ کھ اشک بار بھی ہوتی ہے ، ہر دل تڑپتا بھی ہے اور ہر ذہ غم و ا دوہ کی کیفیت میں بھی جاتا ہے۔ لیک ساتھ ہی ساتھ یہ بات ایک تشفی اور تسلی ب کر ذہ و دماغ میں اُتر جاتی ہے کہ الحمد للہ پاکستا ب چکا ہے۔ یہ پاکستا ہمارے لئے ایک مسجد کی حیثیت رکھتا ہے وہ مسجد جس کی تعمیر و ترقی صرف صاحب ایما و تقویٰ کرتے ہیں کہ قرآ یہ اعلا کرتا ہے۔ ا ما یعمرمساجد اللہ م ام باللہ والیوم الاخر۔ یہ بات ایک تشفی ب کر ذہ میں اترتی ہے کہ مساجد اللہ کا گھر ہوتی ہیں اور اللہ کا گھر ام و سلامتی کا گہوارہ ہوتا ہے ، اللہ کے گھر میں ایک ب دہ¿ موم ایسا ہی پرسکو ہوتا ہے جیسے مچھلی پا ی میں پرسکو ہوتی ہے۔

14اگست کو ہر سال ایوا وزیراعظم کے باہر کے خوبصورت سبزہ زار میں پرچم کشائی کی تقریب ہوتی ہے۔ اس تقریب کا آغاز قرآ کریم کی تلاوت سے ہوتا ہے پھر بی کریم کے حضور ہدیہ¿ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ وقت کے سربراہ حکومت پاکستا کا پرچم بل د کرتے ہیں اور پوری قوم بیک زبا ”پاک سرزمی شاد باد“ کا ترا ہ گاتی ہے۔ کیسے پرکیف وہ لمحات ہوتے ہیں ، کس متا ت اور س جیدگی سے یہ تقریب م عقد ہوتی ہے اور ہر پاکستا ی اللہ کے ام ، اللہ کے حبیب بی کریم کے ذکر خیر سے شروع ہو ے والی اس تقریب سے شاد کام ہوتا ہے اور اپ ے قومی پرچم کو سربل د ہوتے دیکھ کر اس کے سائے میں اپ ے لئے اتحاد و اتفاق اور ام وسکو کا ایک سایہ محسوس کرتا ہے۔

اس سال کا 14 اگست ماضی کے ایامِ آزادی سے ذرا مختلف رہا، بلکہ کافی مختلف رہا اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس سال یوم آزادی پر پاکستا میں ایک ا قلاب برپا ہو گا ، یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ 10 لاکھ افراد ملک کے کو ے کو ے سے دارالحکومت اسلام آباد میں جمع ہوں گے اور ایک یا پاکستا معرض وجود میں آجائے گا۔14 اگست کا تمام د تو اسی ا تظار میں گزر گیا کہ افراد کی تعداد 10لاکھ ہ سہی، پا چ لاکھ تو ہوجائے، پا چ لاکھ ہ سہی دو لاکھ تو ہو جائے، دو لاکھ ہ سہی ایک لاکھ تو ہوجائے، ایک لاکھ ہ سہی پچاس ہزار تو ہوجائے اور پورا د اِسی گردش میں گزار دیا گیا اور15 اگست شروع ہو ے کے قریب چ د ہزار فوس پر مشتمل دو قافلے ایک یا پاکستا ب ا ے اور دوسرا ا قلاب برپا کر ے کے لئے اسلام آباد روا ہ ہو گئے۔

 آج 20 اگست 2014ءکو میں بیٹھا ہوا چشم تصور سے 14اگست 1947کو ب ے والے اسلامی جمہوریہ پاکستا کامجوزہ ئے پاکستا سے مواز ہ کر ے لگا کہ جس کے ب ا ے کا آغاز14کی بجائے 15 اگست 2014ءسے ہوا اور یہ بات آپ سب کو معلوم ہے کہ پاکستا کا یوم آزادی 15 اگست ہیں14اگست ہے اور یہ بات بھی آپ سب کو معلوم ہے کہ 15 اگست کس کا یوم آزادی ہے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستا کا 14 اگست کو م ایا جا ے والا یوم آزادی س جیدگی ، متا ت ، وقار اور ایما و تقویٰ کا شعار ہوتا تھا، علم و حکمت کے موتی اس میں پروئے ہوئے ظر آتے تھے، وجوا اس پاکستا کے لئے اپ ا لہو بہا ے کے لئے اسی طرح تیار رہتے تھے، جس طرح 1947ءمیں اس وقت کی وجوا سل ے بہایا تھا، مگر! اس ئے پاکستا کے یوم آزادی ے اس تمام تر س جیدگی اور متا ت کو لپیٹ کر ایک میلی چادر کی طرح اچھال دیا، ئے پاکستا کی یوم آزادی کی تقریب کا آغاز قرآ کریم کی تلاوت اور رسول اللہ کے حضور ہدیہ¿ عقیدت سے آغاز کے بجائے دیوا وں اور مج و وں کے گا وں سے ہوا، ملک وملت اور اسلام کی بیٹیاں شرم و حیاکی چادر ایک طرف پھی ک کر سڑکوں پر اچ رہی تھیں، دھمال ڈالا جارہا تھا، ہا ہا کار مچی ہوئی تھی۔ س جیدگی اور متا ت، وقارِ علم و دی سہمے سہمے ایک طرف کھڑے تھے، اور سٹیج سے اعلا ہورہا تھا کہ ایک یا پاکستا ب ے جارہا ہے۔

آج کے وجوا اس ئے پاکستا میں بوڑھے ہوں گے، آج کے بچے ئے پاکستا میں جوا ہوں گے اور یہ بات چشم تصور سے دیکھی جاسکتی ہے کہ اس ماحول میں پل ے اور بڑھ ے والی سل ئے پاکستا کے لئے کیا ”کار امے“ سرا جام دے گی۔ چشم تصور ے اسلامی جمہوریہ پاکستا اور ئے پاکستا کا مواز ہ کیا تو تیجہ کالا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستا کا مطلب لاالہ الااللہ تھا، اللہ پر پختہ ایما اور بی کریم کی بے لوث اطاعت اس کی ب یاد تھا، ئے پاکستا کا مطلب دما دم مست قل در ۔

 اسلامی جمہوریہ پاکستا ہوش و خرد کی اعلی تری م زلوں پر پہ چ کر حاصل کیا گیا تھا، ہمارے زعماء، علماء، صحافی اور دا شور اور ا کے ذہ و دماغ اور ا کی سیاسی بصیرتیںجب مجتمع ہوئیں تو اسلامی جمہوریہ پاکستا معرض وجود میں آیا جبکہ یا پاکستا ہوش و خرد کے بجائے ج و پر مب ی ہے۔ بے بصیرت اور بے عقل سیاسی اور مذہبی رہ ما اس ئے پاکستا کے با ی ہیں ج کے ہوش وحواس میں بھی خلل محسوس ہوتا ہے اور ج کے عقل و شعور سے عاری ہو ے میں کوئی شک و شبہ ہیں ہے۔ ....کیا اس طرح کے ئے پاکستا کی طرف اللہ کی رحمتیں متوجہ ہوں گی؟ یا اللہ کا غیظ و غضب اور عذاب اس کو آلے گا؟ (خاکم بدہ )۔  (جاری ہے)

اسلامی جمہوریہ پاکستا کی پارلیم ٹ عام ا تخابات کے تیجے میں سام ے آتی ہے ۔ ا عام ا تخابات میں شرکت کا ایک م ظم طریقہ کار موجود ہے ، کچھ جماعتیں اور کچھ آزاد افراد اس ظام کے تحت ا ا تخابات کا حصہ ب تے ہیں ، کچھ دی ی اور مذہبی شخصیات بھی اپ ی دی ی روایات و اقدار کے ساتھ اس م صوبے کے تحت اس ظام ا تخاب میں شریک ہوتی ہیں کہ اللہ کے ام پر حاصل کئے جا ے والے اس اسلامی ملک کوہم دی ِ اسلام کا قلعہ ب ائیں گے، ایسا قلعہ جو ام و سلامتی کا گہوارہ ہوگا ، جس میں رہ ے والا ہر شخص ام و آشتی کے مفہوم سے آشکار ہو گا، پھر قوم کا ایک بہت بڑا حصہ ا ا تخابات میں بذریعہ ووٹ حصہ لیتا ہے اور کچھ افراد م تخب ہوکر ہماری پارلیم ٹ کے ارکا ب تے ہیں،جو پارلیم ٹ ہاو¿س میںکلمہ طیبہ کے یچے کھڑے ہوکر اللہ کو گواہ ب ا کر اس ملک میں آئی و قا و کی پاسداری ، اس ملک کے استحکام اور اس کی ترقی کا حلف اٹھاتے ہیں ۔ اس طرح ایک لمبے پراسیس کے ذریعے سے 5سال کے لئے اسلامی جمہوریہ پاکستا کی پارلیم ٹ مکمل ہوتی ہے،جبکہ ئے پاکستا کی عوامی پارلیم ٹ 19اگست2014ءکو وجود میں آئی اس کے لئے ہ کوئی الیکش ہوا اور ہ مشورہ،18 کروڑ عوام میں سے چ د ہزار وہ لوگ جو اس ا قلاب و آزادی مارچ کا حصہ تھے ، وہی اس کے ”ووٹر“ تھے اور وہی اس کے م تخب ارکا قرار دیئے گئے،اس طرح سے یہ خوبصورت اور ا تہائی غیرجا بدار عوامی پارلیم ٹ معرض وجود میں آئی اور عوامی پارلیم ٹ کے ڈ ڈا بردار ارکا ے اسی کلمہ طیبہ کے ایک طرف اللہ کو گواہ ب ا ے کے بجائے اللہ کے ایک ایسے ب دے کو گواہ ب ایا جو اللہ کے معبود ہو ے پر یقی تو شاید رکھتا ہے لیک اس کا عمل و کردار کیا اس اقرار کا گواہ ہے ؟یہ سوالیہ شا پوری قوم کے سام ے موجود ہے اور بزرگوں کے ب ائے ہوئے اسلامی جمہوریہ پاکستا کو مغربی طرز کا جمہوری ملک ب ا ے کے عزم کا حلف لیاگیا اور پھر اس عوامی پارلیم ٹ ے اسلامی جمہوریہ پاکستا کے پارلیم ٹ ہاو¿س کی طرف دھاوا بول ے کی یت سے مارچ کر ا شروع کیا۔

جیسے ا لوگوں کا یوم آزادی س جیدگی سے عاری تھا ، عوامی پارلیم ٹ کا اسلامی جمہوریہ پاکستا کی پارلیم ٹ کی جا ب یہ مارچ بھی اِسی طرح س جیدگی و متا ت سے عاری تھا۔

آج 20اگست کی صبح ماز فجر کے بعد جب میں ے ٹیلی ویژ کھولا تو اس عوامی پارلیم ٹ کی عوامیت کی ا تہاء ظر آئی کہ سارے ارکا مساوات مرد و ز کا مو ہ ب ے ہوئے سڑک پر سور رہے تھے۔ شرم و حیا کی چادر تار تار ہوچکی تھی۔ ہ کوئی پردہ تھا ، ہ کوئی چادراور چار دیواری ۔جبکہ اس عوامی پارلیم ٹ کے سرکردہ افراد ہوٹلوں ،اپ ی حویلیوںاور محل میں خواب غفلت کے مزے لے رہے تھے، جس طرح کی یہ موسمی پارلیم ٹ ہے اسی طرح سیاسی موسم کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ بیا ات بھی تبدیل ہوتے رہے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستا کو اس طرح کا یا پاکستا ب ا ا اور اس طرح کی عوامی پارلیم ٹ مہیا کر ا، کیا ہمارا دی اس بات کی اجازت دیتا ہے؟ کیا ہماری ایما ی غیرت اس بات کو برداشت کرتی ہے؟ مگر شاید ہم مازِ فجر کے بعد بھی بہت گہری ی د سو ے کے عادی ہیں اور جب اس گہری ی د سے بیداربھی ہوتے ہیں تو سُستی اور بے عملی کی کیفیت سے دوچار رہتے ہیں۔ ہمارے شعور و احساس کی ساری م زلیں خواب غفلت میں چلی گئی ہیں، احساس کے سارے سوتے ب د ہوگئے ہیں اور جب قوم اور قوم کے زعماء،علماءاور پیشوا ایسی بے حسی میں مبتلا ہوجائیں تو پھر اللہ کا عذاب ازل ہوا کرتا ہے اورجب اللہ کا عذاب ازل ہوتا ہے تو وہ اس طرح کے مجرمی کے ساتھ ساتھ ا لوگوں کو بھی اپ ی لپیٹ میں لے لیتا ہے کہ جو بُرائی کو دیکھ کر ہ ہاتھ سے روک ے کی کوشش کرتے ہیں ، ہ قلم و زبا سے اور ہ ہی ا کی دلی کیفیات کسی برائی کو دیکھ کر متغیر ہوتی ہیں۔

اسلامی جمہوریہ پاکستا میں پارلیم ٹ قا و سازی کا ادارہ ہوتی ہے اور کسی کو ملزم یا مجرم قرار دی ے کے فیصلے ہمارا عدالتی ظام اور اس میں بیٹھے ہوئے جج صاحبا سرا جام دیتے ہیں، پوری قوم ہمارے ا م صفی کو سلام پیش کرتی ہے، جو عدل و ا صاف کا علم ا حالات میں بل د کرتے ہیں ، لیک یہ عوامی پارلیم ٹ ایک عجیب و غریب پارلیم ٹ ہے جو بغیر دو تہائی یا سادہ اکثریت کے قا و سازی بھی کرتی ہے اور بغیر کسی عدالتی ظام کے جس کو چاہتی ہے مجرم ٹھہرادیتی ہے اوراپ ی رائے سے اختلاف کر ے والے ہر شخص اور ہر طبقے کے لئے ازیبا زبا اور اگفتہ بہ الفاظ استعمال کرتی ہے۔

کیا یہ پارلیم ٹ قوم کو یکجہتی کا پیغام دے سکتی ہے ؟ کیا یہ پارلیم ٹ ، اس کے زعما پاکستا کے ایک صوبے میں بارش اور طوفا کی ذر ہو ے والے افراد کی شہادت پر س جیدہ ہو ے کے بجائے ،متاثرہ افراد کی مدد اور اس کی شعوری کوشش کے بجائے رقص وسرود میں مشغول رہتی ہے اور اس صوبے کے وزیراعلیٰ تی د کے بعد اپ ے صوبے کے صدر مقام پہ چتے ہیں تو بیا دیتے ہیں کہ ”مَیں دو د ہیں تھا تو کو سی قیامت آ گئی “۔

 ئے پاکستا کی کابی ہ ے فلسطی میں ہو ے والے واقعات اور وہاں کے مسلما وں پر ڈھائے جا ے والے مظالم کا ذرہ برابر بھی ذکر ہیں کیا۔ وہ مجمع جسے لاکھوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سم در کہا جارہا تھا، کیا اس سم در کی کسی لہر کو فلسطی کے مظلوموں کا کوئی خیال ہیں تھا، کیا فلسطی میں یہود کے ہاتھوں شہید ہو ے والے مسلما ہمارے بھائی ہیں ہیں؟ کیا ا کو قتل کر ے والوں کے خلاف کوئی آواز ہیں اٹھائی جاسکتی ؟ اس لئے کہ وہ ہمارے ارادت م د ہیں تھے؟ ہماری پارٹی کے افراد ہیں تھے، ہمارے جلسے یا جلوس میں شریک ہیں تھے، کیا یہ سوچ اس اسلامی ملک کے پارلیم ٹ کے ارکا یا اس کے زعماءکی ہو ی چاہئے؟

میں چشم تصور سے اس بات کو دیکھ رہا تھا کہ اگر اللہ ہ کرے یہ یا پاکستا ب گیا تو پھر آءدہ سال 23مارچ کو افواج پاکستا کی پریڈ کے بجائے مختلف میوزیکل گروپس کے مقابلے ہوں گے، رقص و سرود کی محفلیں ہوں گی اور افواج پاکستا کے چاق و چوب د دستے چبوترے پرپاکستا ی پرچم کو سلامی دی ے کے بجائے ملک وملت کے وجوا لڑکے اور لڑکیاں رقص کرتے ہوئے، دھمال ڈالتے ہوئے مج و ا ہ کیفیت میں گزریں گے۔

 کیا اسی طرح کی تقریبات کے لئے ہم ے یہ پاکستا آزاد کرایا تھا؟ اس طرح کی ساری حرکتیں تو ہم ا گریز کی حکومت میں بھی کرسکتے تھے، ایسی حرکتوں پر کوئی ہ دو مسلم فساد بھی کھڑا ہ ہوتا، لیک تحریک پاکستا کا ب یادی ظریہ کہیں دف ہوجاتا اور مجھے یوں ہی محسوس ہورہا ہے کہ پاکستا کے حقیقی ظریہ کو دف کر ے اور پاکستا کوماضی سے م قطع کر ے کے لئے یا پاکستا معرض وجود میں لا ے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ذرا ٹھ ڈے دل و دماغ سے سوچئے کہ تحریک پاکستا میں، پاکستا کے معرض و جود میں آ ے سے پہلے اس کی خاطر جا دی ے والوں کی روحیں اگر قیامت کے د ہم سے سوال کریں گی تو ہمارا کیا جواب ہوگا؟ پاکستا کی طرف سفر ہجرت کر ے والوں اور اس سفر ہجرت میں شہید ہو ے و الوں کی روحیں ہم سے پوچھیں گی تو ہمارا کیا جواب ہوگا؟ اگر ختم بوت کی تحریک اور 1977ءکی تحریکِ ظام مصطفی میں شہید ہو ے والوں کی روحیں ہم سے باز پرس کریں گی تو ہمارا کیا جواب ہوگا؟ اگر ہ دوستا سے مختلف لڑائیوں کے دورا پاک فوج کے شہیدوں کی روحیں ہم سے سوال کریں گی تو ہماراکیا جواب ہوگا؟ کیا ہمارے ا شہیدوں ے پاکستا کی جغرافیائی اور ظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے اپ ی جا و مال کی قربا ی اس لئے دی تھی کہ ہم ایک یا پاکستا ب ائیں اور اس ئے پاکستا میں مادر پدر آزادی کا جش م ائیں ؟

ذرا سوچئے تو سہی، ذرا دل کے دروازوں کو کھولئے تو سہی، ذرا سوچ کے دریچوں کو وا تو کیجئے، ذرا ٹھ ڈے دل و دماغ سے سوچ کر بتائیں کہ ہم اللہ کے سام ے کیا جواب دیں گے؟ اگر اللہ کاعذاب پر ہم آگیا تو ہم خود کو کیسے محفوظ رکھیں گے؟

آئیے ہاتھ اٹھا کر دُعا ما گیں کہ اے اللہ !وط عزیز پاکستا کو عزت اور سلامتی عطا فرما۔

اسلامی جمہوریہ پاکستا کو تاقیام قیامت قائم رکھ، ہمیں پاکستا کی ب یاد ظریہ اسلام کا محافظ ب ا۔ اے رب کاءات ہماری بداعمالیوں کے صلہ میں ہم پر اپ ا عذاب ہ مسلط فرما، اے رب کریم ہم بہت کمزور و اتواں ہیں ، تیرے غیظ و غضب کے متحمل ہیں ہوسکتے۔ ہمیں معاف فرما.... ہمیں معاف فرما....ہمیں معاف فرما۔

مزید : کالم