جنگ کھیڈنئیں ہوندی زنانیاں دی

جنگ کھیڈنئیں ہوندی زنانیاں دی
 جنگ کھیڈنئیں ہوندی زنانیاں دی

  

اس وقت طاہر القادری کے دیئے گئے وقت کے مطابق ڈیڈ لائن میں تقریباً ایک گھنٹہ باقی ہے،اگر کوئی مذاکراتی گروپ درمیان میں اپنا ”پنگہ “ ڈال کے نہ بیٹھ گیاجس کے آثار نظر آنا شروع ہو چکے ہیں تو پھر امید کامل ہے کہ بروز بدھ نماز مغرب تک حضرت طاہرالقادری جام شہادت نوش فرماتے نظر آئیں گے، اور اگر بات نماز عشاءتک چلی گئی تو پھر طاہر القادری کا پروگرام شہادت بدل بھی سکتا ہے، کیونکہ وہ اندھیرے میں جام شہادت کسی بھی قیمت پر نوش نہیں کریں گے ان کی خواہش ہوگی کہ وہ دن کے اجالے میں جام شہادت نوش کریں۔

بہرحال شہادت سے پہلے غسل، انہوں نے فرمالیا ہے، کفن نہ صرف انہوں نے منگوالیا ہے، بلکہ سلوانے کے بعد اپنے مریدوں کو اس کا دیدار بھی کرادیا ہے ان کا کفن جس نے بھی خریدا ہے طاہر القادری کی شان کے مطابق خریدا ہے، موصوف چونکہ لباس کے معاملے میں خاصے باذوق ہیں، سو کفن کے لٹھے پر احتیاطاً اچھا خاصا نیل بھی لگادیا گیا ہے تاکہ شہید کا کفن ہے، لال و لال نظرنہ بھی آئے تو کم ازکم نیل وتیل ،، تو نظر آئے، طاہر قادری خوش قسمت ہیں کہ وہ جس کربلا، میں موجود ہیں وہاں غسل کے لئے پانی بھی موجود ہے کفن کے لیے کپڑا بھی میسر ہے اور مزید خوش قسمتی یہ بھی ہے کہ ”دوگز دفن“ کی جگہ کے حوالے سے بھی انہیں کوئی پریشانی نہیں ہے ادارہ منہاج القرآن کے احاطے میں ایک گوشہ ¿ درود شریف بھی ہے اس گوشہ ¿ درود شریف کو ایک خوبصورت مزار کی طرح بنایا گیا ہے۔ اس پر موجود سبز گنبد دور سے ہی لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے، افواہ یہی ہے کہ حضور، کی آخری آرام گاہ یہی ہوگی، بعداز شہادت ان کی کوئی وصیت ، بھی یقینی طورپر منظرعام پر آئے گی۔ ان کی وصیت کے مطابق ظاہر ہے کہ ان کے دونوں فرزند ہی ان کے جانشین ہوں گے، دونوں چونکہ اس وقت ملک سے باہر ہیں، سوان کی واپسی کے لئے ٹکٹ وغیرہ کی خریداری بھی وصیت میں شامل ہوگی اس وصیت میں شیرپنجاب ملک غلام مصطفی کھر کے بارے میں بھی ذکر ہے کہ نہیں مگر گزشتہ ایک دوروز سے سرپر ٹوپی پہنے وہ جس طرح طاہر قادری کے آگے پیچھے ہاتھ باندھے نظر آتے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مزار شریف پر جھاڑو دینے کے فرائض انہیں ہی سونپے جائیں گے اور اگر بالفرض سابق وزیر خارجہ آصف احمد علی قصوری بیچ میں اپنا ”لچ تل“ کے بیٹھ گئے تو پھر رحیق عباسی کی مداخلت پر شیر پنجاب کو مزار شریف پر ”جوتیاں“ سنبھالنے کی ذمہ داری بھی سونپی جاسکتی ہے، وصیت میں چودھری برادران کے لئے بھی کوئی نہ کوئی فرمان ضرور موجود ہوگا۔ جو ظاہر ہے یہی ہوسکتا ہے کہ دربار پر آئے مسکینوں، غریبوں کے کھانے پینے کا بندوبست انہی کے ذمے ہو گا اور وہ بھی سال کے بارہ مہینے، مگر ساتھ ہی یہ فرمان بھی ہوسکتا ہے کہ ان میں سے کسی کو بھی کسی موقعہ پر مزار شریف کے احاطے میں تقریر کرنے کی اجازت نہ دی جائے کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ یہ لوگ مرے بعد میرے حسن اور حسین کو بھی شہید کروا کے دم لیں گے، ان کی وصیت میں شیخ رشید کے لئے صرف یہی لکھا ہو گا کہ اس مکار، عیار، دھوکے باز، چالباز اور فریبی شخص کو میرے جنازے میں شریک نہ ہونے دیا جائے ، اور ساتھ یہ بھی لکھا ہوگا کہ اللہ کی عزت کی قسم، اگر یہ شخص کسی بھی طرح میرے جنازے میں شریک ہوگیا۔ تو شہید کی روح تمام مریدوں اور لواحقین کو کبھی معاف نہیں کرے گی، اللہ اللہ خیر صلا“

مگر....مگر ان کی شہادت کے بعد ایک علمی بحث شروع ہوجائے گی۔ جس کی وجہ سے ان کی شہادت متنازعہ بھی بن سکتی ہے، مثال کے طورپر جب وہ شہادت کے لئے نکلیں گے تو ان کے مدمقابل ملک کا آئین وقانون ہوگا۔ جو انہیں اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دے گا کہ وہ پارلیمنٹ کو آگ لگادیں یا ایوان وزیراعظم پر چڑھائی کردیں، سپریم کورٹ پر ہلہ بول دیں یا ایوان صدر پر گولیاں چلوا دیں ان حالات میں تو پھر قانون حرکت میں آئے گا۔ قانون کے محافظ انہیں ”باغی“ تصور کرتے ہوئے روکنے کی کوشش کریں گے، وہ نہ رکے اور انہوں نے زبان کے بجائے گولی سے کام لیا تو پھر جواباً قانون کے محافظ بھی گولی چلائیں گے، اور اگر اس دوران خدانخواستہ وہ گولی کی زد میں آگئے تو پھر قانون کے مطابق وہ ”بغاوت “ کی موت مریں گے شہادت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا البتہ اگر وہ شہادت کے پروگرام میں تھوڑی سی تبدیلی کرتے ہوئے پاک فوج کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف جہاد کرتے ہوئے جام نوش شہادت کریں تو پھر نہ صرف یہ کہ پوری قوم انہیں شہید تسلیم کرلے گی، بلکہ پورے قومی اعزاز کے ساتھ انہیں قومی شہید کا درجہ بھی دے گی۔ مگر وہ ایسا نہیں کریں گے، کیونکہ طالبان کے ساتھ آمنے سامنے کھڑے ہوکے دوبدو لڑنا پڑتا ہے اور طاہر قادری ایسی شہادت چاہتے ہیں جو بہت ساری خواتین کے عقب میں کھڑے ہوتے ہوئے نصیب ہو،

طاہر القادری اعلان شہادت کرتے وقت خاصے پرجوش نظر آئے، ایک موقعہ پر انہوں نے آنسو بہانے کی بھی کوشش کی، مگر کم بخت آنسو کہیں اٹک کر رہ گئے، انہوں نے سر سے پاﺅں تک زور لگایا کہ آنسو آنکھوں میں اتر آئیں مگر آنسو بھی اپنی ضدپر اڑے رہے کہ اعلیٰ حضرت آنکھوں میں تو ہم بھی نہیں اتریں گے، اس اجتماع میں انہوں نے اپنے ذوق شاعری کے جلوے بھی دکھائے، انہوں نے جب یہ شعر پڑھا :

کیا اس لئے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے

بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگا دے

تومیرے قریب بیٹھے شاعر ”پاکستان“ ناصر بشیر ان کی بلائیں لیتے نظر آئے مگر جب انہوں نے ایک مشہور زمانہ شعر

”دمادم مست قلندر، علی دا پہلا نمبر، میں تحریف کرتے ہوئے کہا کہ اب دمادم مست قلندر ، غریب دا پہلا نمبر ہوگا تو ناصر بشیر نے میری طرف اور میں نے ناصر بشیر کی طرف دیکھا .... اور بے ساختہ ہمارے منہ سے نکلا۔

”ایتھے رکھ“

طاہرقادری، ماشاءاللہ بقول ان کے پانچ سو کے قریب کتابوں کے مصنف ہیں، انہوں نے یقینی طورپر پاکستان کے شعراہ کو نہ سہی، عرب کے شعراءکو تو پڑھا ہوگا، اور پھر انہیں یہ بھی معلوم ہوگا کہ تحریف ایک فن ہے اور پیروڈی کرتے وقت نہ صرف شعر کو بامفہوم بنانا پڑتا ہے بلکہ اس کے وزن کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے، مثال کے طورپر کسی استاد کا شعر ہے۔

مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا

حضرت یوسفی نے اس میں تحریف کرتے ہوئے فرمایا:

”مشاعرہ“ تو دل ناتواں نے خوب کیا،

یعنی حضرت یوسفی نے ”مقابلہ“ کے وزن پر ”مشاعرہ“ باندھااور شعر کو ایک دوسرے مفہوم میں بدل دیا۔

طاہر قادری نے شعر کے دوسرے مصرعے میں لفظ ”علی“ کے متبادل کے طورپر ”غریب“ باندھا ہے جس وجہ سے شعر کا وزن بگڑ گیا۔ جو فن شعر کے حوالے سے ان کی کم علمی ظاہر کرتا ہے، حلقہ ارباب ذوق کے دوستوں کو چاہئے کہ وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ اس معاملے پر غور کریں۔ بصورت دیگر عوامی تحریک کے ساتھ وابستہ شعراءکرام اپنے مرشد کی تقلیدمیں بے وزن شاعری کا طوفان کھڑا کرسکتے ہیں۔ اس شعر کے حوالے سے ایک روحانی پہلو بھی ہے، وہ یہ کہ ”دمادم مست قلندر ، علی ؓ دا پہلا نمبر.... محض ایک نعرہ یا شعر نہیں ہے۔ محبان علیؓ ، کے نزدیک یہ ایک ”وظیفہ “ بھی ہے۔ جسے کروڑوں محبان علی ؓ پورے جوش وجذبے اور عقیدت کے ساتھ پڑھتے ہیں اور صدیوں سے کسی بھی شخص یا شاعر کو یہ ہمت نہیں ہوئی کہ وہ اس مصرعے میں ترمیم، تحریف کرے، تو پھر طاہر قادری کویہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ اس شعر یا مصرعے میں ترمیم کر کے کروڑوں محبان علی، کے جذبات مجروح کریں۔ شعر کے حوالے سے یہ ایک روحانی پہلو ہے اس کے لئے طاہر قادری کے دائیں جانب کھڑے حضرت مولانا ناصر عباس سے پوچھنے کی ضرورت ہے کہ کیا وہ دمادم مست قلندر، علی ؓ دا پہلا نمبر“ کے بجائے غریب دا پہلا نمبر کی تحریف سے متفق ہیں۔ اگر ان کا جواب ہاں میں ہے تو پھر ان کی مرضی، لیکن اگر وہ اختلاف رکھتے ہیں تو پھر ان پر لازم ہے کہ وہ طاہر قادری سے مطالبہ کریں کہ وہ جام شہادت نوش کرنے سے پہلے پہلے دمادم مست قلندر کی تحریف کا فیصلہ واپس لیں، اب علامہ ناصر عباس پرہے کہ وہ محبان علی ؓ، کے مطالبے پر کیا کرتے ہیں ، البتہ عمران خان کے بارے میں گزارش یہی ہے کہ ان کی ”کِل کِل“ اور ”کل کل“ ابھی تک جاری ہے ، نواز شریف کے مستعفی ہونے تک انہوں نے اسلام آباد سے نہ جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک سال تک اس ”ڈربے“ میں پڑے رہیں گے اور اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے، جب تک وزیراعظم نہیں بن جاتے، ان کے اس اعلان کے بعد ان کے دھرنے میں شریک 2/3ہزار لوگوں نے فیصلہ کیا ہے، اگر عمران خان ”ڈربے“ میں رہیں گے تو پھر ہم بھی پارلیمنٹ کے سامنے کچی بستی بنانے کا اعلان کرتے ہیں، اور پھر مالکانہ حقوق حاصل کرنے تک یہاں سے نہیں اٹھیں گے، عمران خان نے جلسے میں شادی کا اعلان کرکے اپنے کارکنوں کو بہت خوش کردیا تھا۔ بہت سی خواتین نے شادی کی تیاریاں بھی شروع کر دی تھیں، نوجوانوں نے سفید سوٹ، اور زرد رنگ کے کپڑے بھی خرید لئے تھے، مگر عمران خان نے دوسرے دن جب تردیدی بیان دیا کہ نیا پاکستان بننے کے بعد وہ شادی کریں گے، تو جلسے میں موجود خواتین وحضرات خاصے مایوس ہوئے، بلکہ ”بٹ ساﺅنڈوالے“ نے تو باقاعدہ دھاڑتے ہوئے کہا کہ ظالم نے ایسی شرط رکھ دی ہے کہ

نہ تو من تیل ہوگا اور نہ رادھا ناچے گی

بٹ ساونڈوالے کے تبصرے کے بعد اب میرے پاس تو لکھنے کو باقی کچھ نہیں ہے البتہ نجانے کیا بات ہے کہ کل سے 1965ءکے زمانے کا ایک ملی نغمہ بار بار ، قلم کی نوک پر آنے کے لئے مچل رہا ہے، اس نغمے کے یہ بول، صرف بول سمجھ کے پڑھئے گا.... انہیں عمران خان، طاہر قادری کی طرف منسوب کرنے کی اجازت نہیں ہے ، مصرعہ ہے:

مہاراج اے کھیڈ تلواردی اے

”جنگ“ کھیڈ نی¿ں ہوندی زنانیاں دی

مزید : کالم