فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی

فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی


تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اسرائیل اور فلسطین کے درمیان غیر معینہ مدت تک جنگ بندی کے معاہدے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔اس معاہدے میں مصر نے ثالث کا کردار ادا کیا۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ ایک ماہ کے اندر اندر تمام متنازعہ معاملات پر بھی مذاکرات کا آغاز کر دیں گے۔ فلسطینی وفد کے سربراہ عزم الاحمد نے قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد یہ اطلاع دی۔ اگرچہ معاہدے کی تفصیلات ابھی پوری طرح سامنے نہیں آئیں، لیکن بین الاقوامی میڈیا میں آنے والی خبروں کے مطابق اسرائیل اور مصر کی جانب سے غزہ کی سات سال سے قائم اقتصادی ناکہ بندی میں نرمی کی جا رہی ہے۔ اعظم الاحمد نے بتا یا کہ 48گھنٹوں کے مسلسل مذاکرات کے بعد یہ طے پایا ہے کہ غزہ کی ناکہ بندی میں نرمی کرتے ہوئے اسرائیل امدادی سامان اور تعمیراتی مواد غزہ لے جانے کی اجازت دے گا اور غزہ کے باشندے نہ صرف ماہی گیری کر سکیں گے، بلکہ وہ آزادانہ نقل و حرکت کے ساتھ ساتھ تجارت بھی کر سکیں گے۔ بحیرہ روم میں ماہی گیری کے لئے3 سے 12 ناٹیکل میل کا زون مختلف مراحل میں بنایا جائے گا۔ اسرائیل کی طرف سے غزہ کی پٹی کے اندر بنایا گیا 700 میٹر کا بفر زون کم کر کے 300میٹر کر دیا جائے گا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق غزہ میں بڑے پیمانے پر تعمیر نو کی کوششوں کو فوری طور پر شروع کیا جا سکے گا۔ پہلے مرحلے میں اسرائیل کی جانب سے تجویز کردہ سرحد کے محاصرہ کیے گئے علاقے میں 300 ٹرک روزانہ کی بجائے 600 ٹرک روزانہ داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔

اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی ہے۔اسرائیلی حکام کے مطابق غزہ میں امداد اور تعمیری سامان پہنچانے کے لئے اسرائیل غزہ کے محاصرے میں نرمی کر دے گا۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے منگل کے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری جنگ بندی اور غزہ کیلئے امدادی سامان کی فراہمی وقت کی ضرورت ہے، جبکہ بعد ازاں دیگر مطالبات کے بارے میں بھی بات چیت کی جائے گی۔ محمود عباس نے کہا کہ مبہم مذاکرات کے ذریعے ہمیشہ کے لئے جنگ بندی ممکن نہیں ہے۔ الفتح اور حماس کی شراکت اقتدار کے ذریعے قومی اتحاد کی حکومت بنانے کی کوششیں بھی دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ ماہ شروع ہونے والے دوسرے مرحلے میں غزہ کی بندرگاہ کی تعمیر اور مقبوضہ مغربی کنارے میں حماس کے قیدیوں کی رہائی پر بات چیت کی جائے گی۔

مصر کی وزارت خارجہ امور کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ معاہدے کے مطابق غزہ کے لوگوں کے لئے سمندری راستوں میں آمدو رفت کے لئے نرمی کی جائے گی اور انہیں تجارت اور سفر کی سہولت مل جائے گی، جبکہ اسرائیل کی جانب سے ساحلی علاقے کو غیر مسلح کرنے پر معاملات طے پا چکے ہیں۔ خطے میں امن و استحکام کے لئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر بھی زور دیا گیا۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے غزہ پر پہلا حملہ آٹھ جولائی کو کیا تھا اور اس کے بعد سے اس نے جارحانہ اور پر تشدد حملوں کی انتہا کر دی۔ سات ہفتوں کو محیط اس جنگ میں2100 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوئے ،جن میں بچے، بوڑھے اور خواتین شامل تھیں۔ دوسری طرف صرف 68 اسرائیلی ہلاک ہوئے جن میں سے چار شہری اور باقی تمام فوجی تھے۔ 17,200 گھراور 216 سکول تباہ ہوئے اور پانچ لاکھ سے زائد فلسطینی بے گھر ہو گئے۔ غزہ میں جنگ بندی کی اطلاع ملتے ہی مساجد کے ذریعے فتح کے اعلانات کئے گئے، جس پر آتش بازی اور ہوائی فائرنگ کی گئی اور لوگوں نے سڑکوں اور گلیوں میں جشن منانا شروع کر دیا۔ حماس کے سیاسی رہنما ؤں نے اس معاہدے کو فلسطینی مزاحمت کی فتح قرار دیا ہے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کی خاتون ترجمان کے مطابق امریکہ نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کے اعلان کی مکمل حمایت کی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی جنگ بندی کا خیرمقدم تو کیا ہے لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ امن کی ایسی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہو گی جو بنیادی مسائل کو حل نہ کر سکے۔ بین الاقوامی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے اپنے عوام اور دوسرے ممالک کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث اس معاہدے پر اتفاق کیا ۔ایک سینئر اسرائیلی وزیر نے ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کو برے ذائقے کے ساتھ مجبوراً قبول کیا گیا ہے۔اسرائیل نے اس جنگ بندی کو جس طرح بھی قبول کیا ہو، حقیقت یہ ہے کہ دونوں فریق خطے میں امن قائم کرنے پر متفق ہو چکے ہیں۔ اس جنگ سے فلسطین کو تو نا قابل تلافی جانی و مالی نقصان پہنچا ہے، لیکن بین لاقوامی سطح پر اسرائیل کا مُنہ بھی کالا ہو گیا ہے۔ امریکہ، کینیڈا اور ان کے ہم نوا چند ممالک کے علاوہ پوری دنیا نے اسرائیلی جارحیت اور بر بریت کی پر زور مذمت کی، ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرے کئے اور اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا۔ یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ مسئلہ فلسطین حل نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ اسرائیل اور فلسطین میں طاقت کا عدم توازن ہے۔ فلسطینیوں کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا جواب اسرائیل تو طاقت کے بھر پور استعمال سے دے سکتا ہے، لیکن فلسطینی مُنہ توڑ جواب دینے کے وسائل نہیں رکھتے، اِسی وجہ سے گزشتہ جنگ بندی کے معاہدے ناکام ہوئے۔ اشد ضرورت اس بات کی ہے معاہدے کی تمام تفصیلات طے ہونے کے بعد اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے کوئی میکنزم بھی تیار کیا جائے۔ عالمی طاقتوں کو اس کی ضمانت فراہم کرنا ہو گی، کیونکہ اسرائیل متعدد بار اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظر انداز کرنے یا یہ کہئے کہ پرکاہ کے برابر حیثیت نہ دینے کا مظاہرہ کر چکا ہے۔

مزید : اداریہ