پاکستان کو علامہ عنایت اللہ مشرقی جیسے لیڈر کی ضرورت ہے، ڈاکٹر صبیحہ

پاکستان کو علامہ عنایت اللہ مشرقی جیسے لیڈر کی ضرورت ہے، ڈاکٹر صبیحہ

لاہور (پ ر) آج پاکستان کو عظیم مفکر مشرق حضرت علامہ عنایت اللہ خان المشرقیؒ جیسے عالم باعمل رہنما کی ضرورت ہے ۔ متحدہ ہندوستان کے مایہ ناز فرزند رینگلر سکالر بیچلر سکالر فاﺅنڈیشن سکالر صاحب ” تذکرہ “ اور بانی خاکسار تحریک کے یوم وفات کے موقعے پر خراج تحسین پیش کرنے نہیں آئے بلکہ آج کے دن ہمیں انہی کی راہ پر چلتے ہوئے نشان منزل کی طرف سیدھا صف ہو کر قطار بند ہو کر اپنی عظمت رفتہ کے حصول کا سفر شروع کرنا ہے پاکستان آج 67 سال کا ہو گیا ہے مگر اب اس خود فریبی کے ساتویں عشرے کے اختتام کے قریب آتے وقت چمکتے ہوئے خوابوں نے آنکھوں کو جھلسا کے رکھ دیا ہے خواب تو درکنا لوگ اپنے سامنے کا کوئی منظر دیکھنے کی جسارت بھی نہیں کر سکتے بارود بھری فضا میں قومی ترانوں کا سرکاری شور شرابہ بھی کسی بھوکے اور بیمار کی بے قابو آہ و بکا کی طرح سنائی دیتا ہے۔لیکن اس کے باوجود حکمران انتہائی ڈھٹائی سے یہ واویلا کرنے پر مصر ہیں کہ ہم زندہ قوم ہیں اور ترقی کی طرف سفر تیز ہوتا جارہا ہے۔ حقیقی صورتحال تو یہ ہے کہ زندہ ہونا تو کجا ہم ابھی ایک قوم بھی نہیں ہے۔قائد تحریک کے علاوہ کانفرنس کے شرکاءسے نائب قائد تحریک انجینئر نثار خان، ضیغم المشرقی ڈپٹی سیکرٹری جنرل متعمد خصوصی قاسم الکریم ڈاکٹر بشیر اختر ، خاکسار علی حیدر، عفنان ملک، خاکسار اقبال عابد، خاکسار یونس بھٹی، خاکسار عبدالستار اختر آبادی، خاکسار عابد ضیائ، خاکسار مصطفیٰ جٹ ، خاکسار شوکت جٹ، خاکسار شبیر سندھو، ملک شہباز اور دیگر سالار نے بھی خطاب کیا۔

مزید : میٹروپولیٹن 4