تحریک انصاف پنجاب اسمبلی سے بھی مستعفی،محمود الرشید نے 28ارکان کے استعفے سیکرٹری کو جمع کروا دیئے

تحریک انصاف پنجاب اسمبلی سے بھی مستعفی،محمود الرشید نے 28ارکان کے استعفے ...

لاہور(نمائندہ خصوصی،آئی این پی) اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی میاں محمود الرشید سمیت تحریک انصاف کے 28 اراکین اسمبلی نے اپنے استعفے سیکرٹری پنجاب اسمبلی رائے ممتاز حسین کو جمع کروا دیئے ‘دو اراکین اسمبلی نگہت انتصار بھٹی اور جہانزیب کھچی کی جانب سے آج استعفے جمع کروائے جانے کا امکان ہے جبکہ آئندہ اتوار سے پہلے تحریک انصاف خیبر پختونخواہ اسمبلی کے وزیر اعلی سمیت تمام اراکین نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بدھ کے روز اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے رکن پنجاب اسمبلی سعدیہ سہیل‘ ڈاکٹر مراد راس‘ اعجاز خان جہازی اور ملک احمد خان کے ہمراہ سیکرٹری پنجاب اسمبلی کو اراکین اسمبلی کے استعفے جمع کروائے۔ استعفے جمع کروانے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے کہا کہ ہم نے پارٹی قیادت کے حکم کے تحت اپنے استعفے جمع کروا دیئے ہیں اور انہیں واپس لینے کا کوئی امکان نہیں تاہم اگر پارٹی قیادت کوئی فیصلہ کریگی تو ہم اس کے بھی پابند ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکمران سمجھتے ہیں کہ وہ تحریک انصاف کے استعفوں کے بعدموجودہ نظام کو چلا لیں گے تو یہ ان کی بھول ہے انہیں بھی ہمارے ساتھ ہی گھر جانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے تو 14 اگست کے آزادی مارچ کے بعد ایوان صدر‘ ایوان وزیراعظم اور پارلیمنٹ ہاؤس پر قبضہ کر لیتے لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا اور اگر ملک میں مارشل لاء آتا ہے تو اس کے ذمہ دار ہم نہیں حکمران ہی ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ سول نافرمانی تحریک چلانے کا فیصلہ حتمی ہے اور اس کیلئے آئندہ ایک ماہ کے دوران بھر پور عوام رابطہ مہم چلائی جائے گی جس کے بعد حکمرانوں کا اقتدار میں رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 11 مئی کے انتخابات کو تسلیم کیا مگر دھاندلی کو تسلیم نہیں کیا تھا اور ہم نے 11 مئی سے لیکر اب تک دھاندلی کی تحقیقات کیلئے عدالت‘ الیکشن کمیشن‘ حکومت اور ٹربیونل سمیت ہر دروازہ کھٹکھٹایا مگر ہمیں انصاف نہیں ملا اور ہم چار حلقوں کی بات کرتے رہے حکومت نے اس مطالبے کو بھی تسلیم نہیں کیا جس کے بعد ہم نے سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب مطالبات کی منظوری تک سڑکوں پر موجود رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت آئینی اور قانونی نہیں دھاندلی زدہ حکومت ہے اور وفاقی کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت بھی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے بجلی کا ایک میگا واٹ بھی سسٹم میں شامل نہیں کیا گیا۔ صوبہ میں قتل‘ اغواء اور ڈکیتی کے جرائم میں 110 فیصد اضافہ ہوا ہے‘ 90 ہزار مقدمات ہی درج نہیں ہو سکے اور صوبہ پنجاب 5 سو ارب کا مقروض ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران میٹرو سمیت صرف ایسے منصوبوں پر ہی توجہ دیتے ہیں جہاں سے ان کو کمیشن آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان دھاندلی کے معاملات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے اور ہم ہر صورت دھاندلی کرنیوالے الیکشن کمیشن کے ممبران اور دیگر لوگوں کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کروائینگے اور ملک میں مکمل انصاف لایا جائیگا۔ ایک سوال کے جواب میں میاں محمود الرشید نے کہا کہ آئندہ اتوار سے پہلے وزیر اعلی سمیت خیبر پختونخواہ کے تمام اراکین اسمبلی بھی مستعفی ہو جائیں گے اور کے پی کے کی اسمبلی تحلیل نہیں کی جائے گی

مزید : صفحہ اول