مذاکرات ناکام ،طاہر القادری نے آج یوم انقلاب کا اعلان کر دیا،کپتان بھی اہم اعلان کرینگے

مذاکرات ناکام ،طاہر القادری نے آج یوم انقلاب کا اعلان کر دیا،کپتان بھی اہم ...

                  اسلام آباد (خصوصی رپورٹ+مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت اور طاہر القادری کے درمیان مذاکرات گزشتہ روز ناکام ہوگئے طاہر القادری کا موقف تھا کہ حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی ایف آئی آر درج کرنے اور پنجاب حکومت نے مستعفی ہونے سے انکار کردیا جس پر مذاکرات ناکام ہوئے جبکہ حکومت کا موقف تھا کہ حکومت سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی ایف آر درج کرنے کو تیار تھی مگر طاہر القادری دھرنا ختم کرنے کو تیار نہیں تھے جس پر مذاکرات ناکام ہوئے۔ادھر پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہو گئے، آج یوم انقلاب ہو گا اور عوام فیصلہ کرے گی۔ انقلاب مارچ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت مسائل حل کرنے میں غیر سنجیدہ ہے اور آئینی طریقوں پر یقین نہیں رکھتی ہے۔حکومت شہباز شریف اور نامزد وزراءکے استعفے تو دور کی بات، سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے شہداءکی ایف آئی آر بھی کاٹنے کو تیار نہیں ہے۔ ہم نے آخری حد تک فریضے کو نبھایا، ڈنکے کی چوٹ پر کہہ رہا ہوں، ہمارے اوپر کوئی اخلاقی بوجھ نہیں رہا،آج انقلاب کا دن ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد مذاکراتی ٹیم دوبارہ آئی اور پھر آدھا گھنٹہ طلب کیا جس پر انہیں یہ بھی بتا دیا گیا کہ عوامی تحریک نے جو 2 شرائط پیش کی ہیں اگر وہ پوری نہیں ہو سکتیں تو پھر دوبارہ آنے کی ضرورت نہیں۔ طاہر القادری کا کہنا تھا کہ امن کو موقع دینے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن اب مذاکرات کے دروازے بند ہو چکے، اب کوئی مذاکرات کیلئے آنے کی تکلیف نہ کرے۔طاہر القادری نے کہا کہ آج سے انقلاب کے بارے میں تمام فیصلے ایک جگہ کرے گا جو دھرنے کے شرکاءپر مشتمل ہوگا انہوں نے دھرنے کے شرکاءکو خبردار کیا وہ رات کو جاگتے رہیں تاکہ حکومت کوئی کریک ڈاﺅن نہ کرسکے۔ اس سے قبل گزشتہ شام اسلام آباد میں صورتحال کو معمول پر لانے اور دھرنون کو پر امن طور پر ختم کرانے کےلئے حکومت کو زبردست کوششیں شروع ہوگئیں، حکومت کی مذاکراتی کمیشن کی طاہر القادری سے ملاقات کے فوراً بعد گورنر سندھ عشرت العباد اور گورنر پنجاب چودھری سروع طاہر القادری سے ملاقات کے لئے کنٹینر میں پہنچ گئے جس پر طاہر القادری نے اپنے الٹی میٹم کو چند دنوں کےلئے مو¿خر کردیا۔ طاہر القادری نے مطالبہ کیا ہمارے دو مطالبات منظر کرنے پر الٹی میٹم کو چند دن مو¿خر کرسکتے ہیں۔ ان دو شرائط میں پہلی شرط سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی 21افراد کے ایف آر درج کی جائے اور وزیر اعلیی اور وزراءمستعفی ہوجائیں۔ ان دونوں مطالبات پر وزارت میں ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا رات گئے گورنر سندھ اور گورنر پنجاب بھی دھرنے سے واپس چلے گئے اس موقعے پر گورنر سندھ نے دھرنے پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم عوامی تحریک کے ان مطالبات کی حمایت کرتی ہے جو آئین اور قانون کے اندر رہتے ہوئے پورے ہوسکتے ہیں۔دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم سمیت 21افراد کیخلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ تسلیم کرلیا تھا۔ ہم اپنے خلاف جھوٹی ایف آئی درج کرانے کو تیار تھے مگر طاہر القادری دھرنا ختم کرنے کو تیار نہیں تھے۔ حکومت چاہتی تھی کہ طاہر القادری نے جن عورتوں اور بچوں اور کویرغمال بنا رکھا ہے انہیں گو جانے دیں مگر طاہر القادری اس بات پر تیار نہیں تھے۔

مزید : صفحہ اول