وزیر اعظم سے پارلیمانی جماعتوں کے لیڈر کی ملاقات مکمل حمایت کی یقین دہانی

وزیر اعظم سے پارلیمانی جماعتوں کے لیڈر کی ملاقات مکمل حمایت کی یقین دہانی ...

                اسلام آباد(آئی این پی)وزیراعظم نواز شریف سے پارلیمنٹ ہاﺅس میں تمام پارلیمانی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈر کی ملاقات ، وزیراعظم کو اپنی مکمل حمایت کی یقین دہانی ، وزیراعظم سے ہر طرح کے دباﺅ کے باوجود مستعفی نہ ہونے کا مطالبہ ، پارلیمانی جماعتیںکسی صورت وزیراعظم کا استعفیٰ قبول نہیں کریں گی ، ،آئین و جمہوریت کی بالا دستی کی مکمل حمایت اور کسی بھی مارواءآئین اقدام کی پوری طرح سے ڈٹ کر مخالفت کی جائیگی ، پارلیمانی راہنماﺅں کی طرف سے اپنی دو ٹوک حمایت پر وزیراعظم نے ان کا شکریہ ادا کیا ،قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہاکہ وزیراعظم کو عہدہ سے ہٹانا پارلیمنٹ کا اختیار ہے ،دباﺅ کے تحت آج وزیراعظم استعفیٰ دیتے ہیں تو کل کوئی بھی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کر سکے گا ، پارلیمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ وزیراعظم استعفیٰ نہیں دینگے اس معاملے پر اپوزیشن داکٹر طاہر القادری اور عمران خان سے براہ راست مزاکرات کریگی۔تفصیلات کے مطابق بدھ کو پارلیمنٹ ہاوس میں وزیراعظم کے چےمبر میں قومی اسمبلی میں پارلیمانی راہنماﺅں نے قائد حزب اختلاف سید کورشید شاہ کی قیادت مین وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی ،ملاقات میں داکٹر فاروق ستار ،مولانا فضل الرحمن ،ھاجی غلام احمد بلور ،و¿فتاب احمد خان شیر پاﺅ،انجیئنر طارق اللہ،حاجی بسم اللہ ،حیدر عباس رضوی اور دیگر شامل تھے ،ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتوںنے وزیراعظم کو پارلیمانی نظام بچانے کے لیے مکمل حمایت کا عندیہ دیا اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے مددل خطاب کو سراہااور کہا کہ کسی صورت استعفیٰ کا مطالبی تسلیم نہ کیا جائے پارلیمنٹ نے آ پ کو مینڈیٹ دیا ہے ۔دھرنے کے شرکاءکے مطالبات آئین و قانون کے دائرے میں رہ کہ پورے کیے جائیں بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ وزیراعظم کو عہدہ سے ہٹانا پارلیمنٹ کا اختیار ہے ،دباﺅ کے تحت آج وزیراعظم استعفیٰ دیتے ہیں تو کل کوئی بھی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کر سکے گا ،انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو ہٹانے کا طریقہ کار عدم اعتماد ہے ،انہوں نے کہا کہ مائنس ون کے علاوہ تمام مظالبات پورے کیے جا سکتے ہیں ،ارٹیکل245کے تحت فوج ریڈ زون کی حفاظت کے لیے آئی ہے ،انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی جوڈیشنل کمیشن تشکیل دیا جا چکا ہے ۔خورشید شاہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے استعفیٰ پر بات چیت ہو سکتی ہے تاہم جوڈیشنل کمیشن وزیراعلیٰ کو غیر جانبدار قرار دے چکا ہے ،انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ وزیراعظم استعفیٰ نہیں دینگے اس معاملے پر اپوزیشن داکٹر طاہر القادری اور عمران خان سے براہ راست مزاکرات کریگی

مزید : صفحہ اول