وقت بہت کم ہے ،دونوں فریقین تیسری قوت کو دیکھنے کے بجائے حل نکالیں،سراج الحق

وقت بہت کم ہے ،دونوں فریقین تیسری قوت کو دیکھنے کے بجائے حل نکالیں،سراج الحق ...

                        لاہور ( اے این این ) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ وقت بہت کم ہے ¾ دونوں فریقین تیسری قوت کو دیکھنے کے بجائے حل نکالیں ¾ ہمیں مذاکرات سے مایوس نہیں ہونا چاہیے چاہے اس کےلئے ہمیں 100 دن ہی کیوں نہ بیٹھنا پڑے ¾ دھاندلی ثابت ہوگئی تو موجودہ حکومت کے پاس اسمبلیوں میں بیٹھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا ¾ بحران طویل ہو گیا تو پاکستان کےلئے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔منصورہ میں جماعت اسلامی کے مشاورتی اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے ایک نقطے کے علاوہ باقی تمام معاملات پر اتفاق رائے ہے لیکن طریقہ کار پر اختلاف ہے ۔ انتخابی اصلاحات پر تحریک انصاف نے تمام جمہوری قوتوں کی نمائندگی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے عمران خان کے مطالبات کی دستور کی روشنی میں حمایت کی ہے ، حکومت نے تحریک انصاف کے بیشتر مطالبات تسلیم بھی کر لیے ہیں ۔ سراج الحق نے کہا کہ وزیر اعظم کے استعفے کےلئے بھی آئینی راستے موجود ہیں ، کسی نہ کسی ادارے کو مصالحتی کردار کےلئے اختیار دینا ہوگا تاکہ مسئلے کا حل نکل سکے۔ انہوں نے کہاکہ دھرنے کے شرکاءاور حکومت نے مسلسل صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے جس پر ہم دونوں فریقین کے شکرگزار ہیں، جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں بلکہ بچے بچے کی خواہش ہے کہ اس بحران کا حل مذاکرات سے نکالا جائے، مذاکرات سے ہمیں مایوس نہیں ہونا چا ہیے چاہے اس کے لئے ہمیں 100 دن بھی بیٹھنا پڑے تو ہمیں بیٹھنا چاہیئے۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت پاکستان تحریک انصاف کے سوائے ایک مطالبے کے تمام مطالبات تسلیم کر چکی ہے بس ان مطالبات پر عمل درآمد کے لئے طریقہ کار طے کرنا باقی ہے۔ ان مطالبات کو تسلیم کرنے کے لئے سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں مستقبل میں موجودہ حکومت کی حیثیت کے بارے میں بھی یکسوئی پائی جاتی ہے، اگر سپریم کورٹ کی تحقیقات کے بعد یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ انتخابات میں بڑے پیمانے پردھاندلی کی گئی تو پھر اس کے بعد موجودہ حکومت کے بعد اسمبلیوں میں رہنے کا کوئی اخلاقی جواز باقی نہیں رہ جاتا۔سراج الحق نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی کے تحریک انصاف کے مطالبے پر سیاسی جماعتوں کا نقطہ نظر ہے کہ اس مطالبے کو آئین اور قانون کی روشنی میں حل کیا جائے، یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ نے خود کو اس معاملے میں نیوٹرل رکھا ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات تمام سیاسی جماعتوں کا مطالبہ ہے، اچھی بات ہے کہ تحریک انصاف نے اس مسئلے کو اٹھا کر پوری قوم کی نمائندگی کی۔ دونوں فریقین کے پاس وقت بہت کم ہے، جتنا جلد ممکن ہو سکے اس معاملے کو مل کر حل کر لیا جائے اسی میں ہماری بہتری ہے، پاکستان ایک ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک ہے، ہمارے دوست ممالک چین، ایران اور دیگر پڑوسی ممالک کا بھی یہی کہنا ہے کہ اگر بحران طویل ہو گیا تو پاکستان کے لئے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ دونوں فریقین سے درخواست ہے کہ کوئی تیسرا راستہ اختیار کرنے کے بجائے یا پھر کسی تیسری قوت کی جانب دیکھنے کے بجائے معاملے کو آپس میں ہی حل کر لیں، ساری قوم کسی بہتر حل کی منتظر ہے۔

مزید : صفحہ اول