سانحہ ماڈل ٹاﺅن،حکومت کا وزیراعظم سمیت 21 اعلیٰ حکام کےخلاف ایف آئی آر درج کر وانے کا اعلان

سانحہ ماڈل ٹاﺅن،حکومت کا وزیراعظم سمیت 21 اعلیٰ حکام کےخلاف ایف آئی آر درج ...
 سانحہ ماڈل ٹاﺅن،حکومت کا وزیراعظم سمیت 21 اعلیٰ حکام کےخلاف ایف آئی آر درج کر وانے کا اعلان

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) وفاقی وزراءنے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی ایف آئی آر درج کر انے کا اعلان کر دیا ،وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی ایف آئی آر کے اندراج کا عمل شروع ہوچکا ہے اور حکومت ایف آئی آر درج کرنے کے لیے تیار ہے، ایف آئی آر میں وزیراعظم نواز شریف سمیت تمام 21 اعلیٰ حکام کو شامل کیا جائے گا، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ شاہراہ دستور پر کھڑے دو حضرات غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں، دونوں کی باتیں غداری کی حدوں کو چھو رہی ہیں، یہ لوگ کسی خام خیال میں نہ رہے، اب انہیں سیاست چمکانے کیلئے کوئی لاشیں نہیں ملیں گیں،قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ حکومت طاہرالقادری اور عمران خان سے اب بھی مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہے، تحریک انصاف کے چھ میں سے پانچ اور طاہر القادری کے دس میں چھ مطالبات کو براہ راست تسلیم کرلیا ہے، حکومت عدالتی فیصلے کے خلاف کسی قسم کی درخواست دائر کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے۔انہوں نے عمران خان سے اپیل کی کہ وہ دھرنے میں موجود لوگوں کا خیال کریں اور معاملے کو حل کرنے کی کوشش کریں۔سعد رفیق کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کا خاتمہ آئین کے خلاف ہے اور استعفے دینے کے بعد ہم عوام کے پاس کس منہ سے جائیں گے، عمران خان نے حکومت کے خلاف وہ زبان استعمال کی جو انہیں زیب نہیں دیتی ہے، لیکن اس کے باوجود بھی ہم نے انہیں متعدد پیشکش کی ہیں۔ان کا کہنا تھا حکومت نے لانگ مارچ کے شرکاءکو لاہور سے اسلام آباد کے ریڈ زون میں آنے کی اجازت دی اور ہم کسی قسم کا تصادم نہیں چاہتے ہیں۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی ایف آئی آر درج کرنے کا آغاز کر دیا ہے ، اندراج مقدمہ سانحے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کا حق ہے، ہم سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ کا فیصلہ مانتے ہیں،خواجہ آصف نے واشگاف الفاظ میں اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور وزراءفیصلے کیخلاف نہ ہی انٹرا کورٹ اپیل کریں گے اور نہ سپریم کورٹ جائیں گے،طاہر القادری کی غیر آئینی شرائط سے متعلق وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں کہ وہ ٹیکنوکریٹ حکومت بنائیں، وزیراعظم کے پاس اسمبلی تحلیل کرنے کا بھی کوئی اختیار نہیں ہے اور وہ آئین اور قانون سے تجاوز نہیں کرسکتے۔وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ دھرنے والوں کا کوئی غیرآئینی اور غیر قانونی مطالبہ قبول نہیں کرینگے، آئین کے دفاع کیلئے آخری حد تک لڑیں گے، یہ لوگ چاہتے ہیں تصادم ہو اور لاشوں پر سیاست چمکائیں، حکومت چاہتی تو انہیں کہیں بھی روک سکتی تھی لیکن حکومت کی جانب سے تحمل کا مظاہرہ کیا گیا۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں