امریکا کا آواز سے پانچ گنا تیز فاصلہ طے کرنےوالے ہائپر سونک ہتھیار کا کامیاب تجربہ

امریکا کا آواز سے پانچ گنا تیز فاصلہ طے کرنےوالے ہائپر سونک ہتھیار کا کامیاب ...
امریکا کا آواز سے پانچ گنا تیز فاصلہ طے کرنےوالے ہائپر سونک ہتھیار کا کامیاب تجربہ

  

نیو یارک (ما نیٹرنگ ڈیسک ) دفاعی شعبے میں ہونے والی ایجادات نے دنیا کو خطرے سے زیادہ نزدیک کردیا ہے اور اب یہ سوال اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے کہ ہم کیوں اتنے زیادہ برق رفتار ہونا چاہتے ہیں؟ ۔امریکا نے آواز سے پانچ گنا زیادہ رفتار سے فاصلہ طے کرنے والے ہائپر سونک ہتھیار کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ اس تجربے کے بعد اب امریکا دنیا بھر میں کسی بھی جگہ نہایت برق رفتاری سے فوجی حملہ کر سکتا ہے۔ امپیریل کالج کے سینئر لیکچرار ڈاکٹر پال روس کہتے ہیں کہ جب ہم تیز ترین فضائی سفر کرتے ہیں تو اس کے ردعمل میں ہوا گرم ہوجاتی ہے۔ کم درجہ حرارت پر ہوا آکسیجن اور نائٹریجن الیکٹران بناتی ہے، ہائپر سونک سپیڈ کی وجہ سے ہوا میں کیمیائی تبدیلیاں پیدا ہوں گی اور یہ بجلی کے جھٹکے بھی دے سکتی ہے۔ گزشتہ 50 برسوں میں ہونےوالی سائنسی ایجادات اور تھقیق کے نتیجے میں ہم ٹھوس اجسام کی حرکت سے ہوا میں پیدا ہونے والے اثرات کے حوالے سے کافی جان کاری رکھتے ہیں، لیکن اس کے باوجود اس وقت جو سب سے برا چیلنج درپیش ہے، وہ ہائپر سونک جہازوں کے انجن کی تیاری ہے۔ ہائپر سونک کے ابتدائی تجربات سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ہائپر سونک ہوائی جہاز گولی سے زیادہ رفتار سے نگاہوں سے اوجھل ہوجائے گا۔ ڈاکٹر پال بروس کہتے ہیں کہ ابھی اس ٹیکنالوجی کو سیٹلائٹ کے لئے ترجیحی بنیادوں پر استعمال کئے جانے پر کام ہورہا ہے۔ خلاﺅں میں جانے کےلئے یہ ٹیکنالوجی مفید ثابت ہوگی۔

مزید : سائنس اور ٹیکنالوجی