سلاٹر ہاﺅس منصوبہ، حکومت ایرانی کمپنی سے ہاتھ کرگئی

سلاٹر ہاﺅس منصوبہ، حکومت ایرانی کمپنی سے ہاتھ کرگئی
سلاٹر ہاﺅس منصوبہ، حکومت ایرانی کمپنی سے ہاتھ کرگئی

  

لاہور (ویب ڈیسک)پنجاب حکومت نے شہرمیں جدید اور ماڈل سلاٹر ہاﺅس شاہ پور کانجراں میں بنانے والی مشہد میٹ کمپنی ایران کے ساتھ ہاتھ کردیا ہے ، مشہد میٹ کمپنی 34 کروڑ روپے کی خطیر رقم انویسٹ کرنے کے باوجود خالی ہاتھ ہے جس پر ایرانی کمپنی نے انصاف کے لئے عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے ویژن پر حکومت نے شہر میں جدید نظام کے تحت جانوروں کو ذبح کرنے کے لئے ڈیڑھ ارب روپے سے ز ائد مالیت کا سلاٹر ہاﺅس تعمیر کیا تھا،تین سال قبل ایران کے شہر مشہد میں قائم جدید سلاٹر ہاﺅس کی طرز پر تعمیر کےلئے مشہد میٹ کمپنی کی خدمات لی تھیں جس پر کمپنی نے سلاٹر ہاﺅس میں جدید مشینری کی تنصیب کےلئے اور حکومت سے شراکت داری کےلئے340 ملین روپے دیے۔ معاہدے کے مطابق اس وقت لاہور میٹ کمپنی اور موجودہ پنجاب ایگری کلچر اینڈ میٹ کمپنی نے تھرڈ پارٹی ایویلیوایشن کے تحت یورپ کے مختلف ممالک سے منگوائی گئی تھی، مشینری کی مالیت کا تخمینہ لگانا تھا جو زیادہ سے زیادہ بیس فیصد تک رکھا جانا تھا۔ ذرائع کے مطابق مشہد میٹ کمپنی کو نہ ہی کوئی منافع دیا گیا اور نہ ہی ان کی بنیادی انوسیٹمنٹ واپس کی گئی جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ذرائع نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے پہلے نزول کی زمین کو سرکاری اراضی دکھا کر ایم ایم سی کو دھوکا دیا جو بعد میں ثابت ہوگئی کہ بکر منڈی شاہ پور کانجراں کی 717 کنال اراضی میں سے 320 کنال اراضی پر سلاٹر ہاﺅس بنایا گیا اور ایم ایم سی کو دھوکہ دیتے ہوئے سرکاری زمین دکھا کر اراضی کا جعلی تخمینہ بھی لگایا گیا جسکے معاملات منظر عام پر آنے پر مشہد میٹ کمپنی نے اپنے پیسوں کی معاہدے کے مطابق واپسی کا مطالبہ کیا ،مطالبہ پورا نہ ہونے پر مشہد میٹ کمپنی نے ایرانی قونصلیٹ کے توسط سے عدالت سے رجوع کررکھا ہے۔ دوسری جانب کچھ عرصہ قبل عدالت کے حکم پر مشہد میٹ کمپنی سے مصالحت کےلئے بیس رکنی سرکاری وفد ایران گیا اور سلاٹر ہاﺅس کو ٹھیکے پر چلانے کےلئے مشہد میٹ کمپنی سے ایک اور معاہدہ کرایا۔ باوثوق ذرائع نے کہا کہ میٹ کمپنی کے اس معاہدے کو وزیراعلیٰ نے انتہائی ناپسند کیا جس پر پیمکو ایک مرتبہ پھر معاہدے سے منحرف ہوگئی ہے جس پر مشہد میٹ کمپنی سراپا احتجاج ہے اور وزیراعظم نواز شریف کے دورہ ایران کے موقع پر ایرانی حکومت نے اس تمام واقع پر وزیراعظم کو شکایت بھی کی تھی۔ ذرائع نے کہا ہے کہ سلاٹر ہاﺅس کو مشہد میں کئے جانے والے حالیہ معاہدے کے مطابق نجی ٹھیکیدار دس کروڑ روپے سالانہ پر چلانے کو تیار ہیں جسے حکومتی دباﺅ کی بنا پر پیمکو نہیں دے رہی۔ پنجاب حکومت سلاٹر ہاﺅس کو دس کروڑ روپے سالانہ کا نقصان ہورہا ہے اور حکومت کا عالی شان منصوبہ سفید ہاتھی بن کر رہ گیا ہے۔

مزید : لاہور