امریکہ کا حقانی نیٹ ورک کے رہنما عبدالعزیز حقانی کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان

امریکہ کا حقانی نیٹ ورک کے رہنما عبدالعزیز حقانی کا نام دہشت گردوں کی فہرست ...
امریکہ کا حقانی نیٹ ورک کے رہنما عبدالعزیز حقانی کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان

  

واشنگٹن ( صباح نیوز) امریکہ نے حقانی نیٹ ورک کے ایک اہم رہنما کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے حقانی نیٹ ورک کے بانی سراج الدین حقانی کے چھوٹے بھائی عبدالعزیز حقانی کا نام ”خاص عالمی دہشت گردوں“ کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ ترجمان محکمہ خارجہ کے مطابق عبدالعزیز حقانی گزشتہ کئی برسوں سے افغان حکومت کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں، اہداف پر بم حملوں اور ان کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔ اس کے علاوہ اپنے بھائی بدر الدین حقانی کے انتقال کے بعد انہوں نے حقانی نیٹ ورک کی جانب سے کیے گئے تمام بڑے حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔ امریکہ نے گزشتہ برس اگست میں عبدالعزیز حقانی کے سر کی قیمت 50لاکھ ڈالر مقرر کی تھی اور حقانی نیٹ ورک کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے۔ تنظیم کے سربراہ سراج الدین حقانی واشنگٹن کے سب سے اہم اہداف میں سے ایک رہے ہیں اور اب ان کے بھائی عزیز الدین حقانی کو بھی بلیک لسٹ میں شامل کرلیا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ سراج الدین حقانی کو افغان طالبان کے دو ڈپٹی رہنماﺅں میں سے ایک کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ عبدالعزیز اپنا خاندانی نیٹ ورک سراج الدین کے چچا، بہنوئی اور عبدالرﺅف ذاکر کے ساتھ مل کر چلاتے ہیں۔ عبدالرﺅف پر خودکش بمباروں کے مبینہ سربراہ ہونے کا بھی الزام ہے۔ حقانی نیٹ ورک پر الزام ہے کہ یہ تنظیم افغانستان میں امریکی افغان اور دیگر غیرملکی افواج اور اہلکاروں پر حملوں میں ملوث رہی ہے۔ افغان ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدالعزیز حقانی آج حقانی نیٹ ورک کے اہم عسکری کمانڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ سال اگست میں حقانی نیٹ ورک کے ایک اور اہم کمانڈر بدرالدین حقانی شمالی وزیرستان میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے جس کے بعد عبدالعزیز حقانی کو ان کی جگہ عسکری کمانڈر کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ عبدالعزیز حقانی کی عمر 25 سے 30 سال کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی کو گزشتہ مہینے افغان طالبان کے امیر ملا محمد منصور کا نائب مقرر کیا گیا تھا جس کے بعد تمام تر ذمہ داریاں عبدالعزیز کو سونپ دی گئی تھی۔

مزید :

بین الاقوامی -