اگر آپ ابلے ہوئے پانی کو کبھی کبھی دوبارہ بھی ابال لیتے ہیں تو یہ تشویشناک خبر پڑھنے کے بعد آپ یہ عادت ضرور چھوڑ دیں گے

اگر آپ ابلے ہوئے پانی کو کبھی کبھی دوبارہ بھی ابال لیتے ہیں تو یہ تشویشناک ...
اگر آپ ابلے ہوئے پانی کو کبھی کبھی دوبارہ بھی ابال لیتے ہیں تو یہ تشویشناک خبر پڑھنے کے بعد آپ یہ عادت ضرور چھوڑ دیں گے

  

کراچی(نیوزڈیسک)اگر آپ پانی کو دوبار ابالنے کی عادت رکھتے ہیں تو خبردار ہوجائیں اور اپنی اس عادت کو فوری طور پر ترک کردیں۔کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ ابلے ہوئے پانی کو دوبارہ ابال کر چائے یا کافی بنانے لگتے ہیں۔

ماہرین صحت کاکہنا ہے کہ یہ انتہائی خطرناک بات ہے کہ اس طرح وہ پانی زہریلا ہوجاتا ہے اور ہماری صحت کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ابلا ہواپانی ہماری صحت کے لئے مفید ہے لیکن پانی کو دوبارہ یا بار بار ابالنے سے اس میں کئی طرح کے مادے اور دھاتیں پیدا ہوتے ہیں جو انسانی صحت کو تباہ کردیتے ہیں۔آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ پانی کو دوبار ابالنے سے اس میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔

نائیٹریٹ

یہ دھات دنیا میں ہر جگہ اور پانی میں پائی جاتی ہے،اگر پانی کوایک بار ابالا جائے تو ٹھیک ہے لیکن اگر اسے دوبارہ ابالا جائے تو پانی میں موجود نائیٹریٹ تبدیل ہوکر نائیٹروسیمان بن جاتی ہے جو جسم میں جاکر مختلف طرح کے کینسرز کاباعث بن سکتی ہے۔

فلورائیڈ

پانی کو دوبارہ ابالنے سے اس میں فلورائیڈ کی مقدارمیں اضافہ ہوجاتا ہے۔Environment Health Sciencesمیں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق پانی میں فلورائیڈ کی موجودگی سے انسان کی ذہانت کا معیار کم ہونے لگتا ہے۔

آرسینیک

پانی میں موجود آرسینیک کی وجہ سے بھی ہمارے جسم کو بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے جو کہ دوباراہ ابالنے سے سے پیداہوسکتا ہے۔

مزید :

تعلیم و صحت -