کماد صوبہ پنجاب کی اہم نقد آور فصل ہے ‘ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ

کماد صوبہ پنجاب کی اہم نقد آور فصل ہے ‘ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ

  

لاہور (کامرس رپورٹر)ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے شعبہ کماد کے زرعی ماہرین نے بتایا ہے کہ کماد صوبہ پنجاب کی اہم نقد آور فصل ہے کیونکہ اس کو شکر سازی کی صنعت میں بہت اہم مقام حاصل ہے ۔کاشتکار کماد کی ستمبرکاشت کو فروغ دے کر نہ صرف اپنی فی ایکڑ پیداوار بڑھا سکتے ہیں بلکہ ملک میں چینی کے بحران پر قابو پانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔کماد کی فصل سے بھرپور پیداوار لینے کے لئے اس کی اقسام کا کردار نہایت اہم ہے لہٰذا کماد کے کاشتکار سی پی 77-400، ایچ ایس ایف 240، سی پی 43-33، سی پی 72-2086، سی پی ایف 237، ایچ ایس ایف 242،سی پی ایف 243، ایس پی ایف 245، سی پی ایف 246، سی پی ایف 247اور ایس پی ایف 234میں سے2سے 3 اقسام کا انتخاب کریں ۔صحت مند، بیماریوں اور کیڑوں سے پاک فصل سے بیج کا انتخاب کیا جائے اس کے لیے ستمبر کاشتہ اور مونڈھی فصل کو ترجیح دی جائے ۔بیج کو بوائی کے کھیت میں لاکرچھیلا جائے اور سموں پر کھوری یا سبز پتوں کا غلاف نہیں ہونا چاہئے وگرنہ اگاؤ کم ہونے اور دیمک لگنے کا احتمال رہتا ہے۔ بیج تیار کرنے کے بعد بوائی میں تاخیر نہ کی جائے۔بیج کو پھپھوندی کش زہروں کے محلول میں 3 سے 5منٹ تک بھگو کر کاشت کریں۔بر وقت کاشت اور دیگر موزوں حالات میں فی ایکڑ چار آنکھوں والے 13 تا 15 ہزار سمے یاتین آنکھوں والے 17تا 20 ہزار سمے ڈالنے چاہئیں۔زمینوں میں نامیاتی مادہ کی کمی کے پیش نظر دیسی یا سبز کھاد کا استعمال کیا جائے۔لہذاگوبرکی گلی سڑی کھاد بحساب 3 تا 4 ٹرالیاں (75تا100 من ) یا پریس مڈ 2 تا4 ٹرالی فی ایکڑ ڈالیں۔ہموار زمین میں گہرا ہل چلا کرمناسب تیاری کے بعد سہاگہ لگائیں اور پھر رجر کے ذریعے 10تا 12 انچ کی گہری کھیلیاں چار فٹ کے فاصلے پر بنائیں۔

ان میں فاسفورسی اور پوٹاش کی کھادیں ڈالیں اور پھرسیاڑوں میں سموں کی دو لائنیںآٹھ تا نو انچ کے فاصلے پراس طرح لگائیں کہ سموں کے سرے آپس میں ملے ہوئے ہوں۔اب ان کو مٹی کی ہلکی سی تہہ سے ڈھانپ دیں اورہلکا پانی لگا دیں۔ 4فٹ کھلے سیاڑوں میں ستمبر کاشتہ کماد میں مسور ، ماش، پیازاور سورج مکھی کی مخلوط کاشت کے بہت اچھے نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ ستمبر کاشتہ کماد میں ان فصلوں کی مخلوط کاشت سے کاشتکار اضافی آمدن حاصل کر سکتے ہیں۔

مزید :

کامرس -