’’امریکہ میں ہندوستان یا تراپر بیش قیمت تبصرہ‘‘

’’امریکہ میں ہندوستان یا تراپر بیش قیمت تبصرہ‘‘

  

میرے گزشتہ کالم ’’امریکہ میں ہندوستان یاترا‘‘پر ایک انتہائی بیش قیمت تبصرہ پاکستان کی ایک جلیل القدرہستی حق نواز اختر کی طرف سے انگریزی میں بذریعہ ای میل موصول ہو اجو میرے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے کالم کو بے حد لطیف قرار دیتے ہوئے لکھا کہ شومئی قسمت سے جو لوگ برطانیہ یا امریکہ جا کر رہنے لگتے ہیں وہ اپنے اپنے ملک کے شہریوں سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ بیرون ملک رہائش پذیر اکثر افراد اپنی نقل مکانی کا جو بھی جواز پیش کریں وہ اپنےِ ملک کے لئے بے حدکشش محسوس کرتے ہیںیہی وجہ ہے کہ سمندر پار بھارتیوں اور پاکستانیوں کا مکالمہ اس مکالمے سے بالکل مختلف ہوتا ہے جو ہندوستان اور پاکستان کے شہریوں کے درمیان اس وقت ہوتا ہے جب وہ تجارتی وفود، کانفرنسوں یا ایک دوسرے کے ملک میں آمد کے موقع پر آپس میں ملاقات کرتے ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ بطور ہمسایہ دونوں ملکوں کے درمیان صاف دلی ،ذہنی میلان پر مبنی جو مکالمہ ہونا چاہئے اس کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔

اختر صاحب پاکستان کے ان شہریوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنی تقدیر خود بنائی اور اپنی قابلیت اور محنت کی بنا پر عام سی ملازمت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کر کے وفاقی سیکریڑی کے اعلیٰ ترین عہدے تک پہنچے۔ اس دوران ان کی زندگی کا سب سے بڑا چیلنج پاکستان اسٹیل کی تعمیروتنصیب تھی جہاں انہوں نے پہلے بطور ڈائریکٹر فنانس اور اس کے بعد چیرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور ریکارڈ مدت میں اس تکمیل کے بعد کارخانوں کو سو فیصد استعداد تک بطور آزمائش چلاکر دکھایا۔ ان کا پاکستان اسٹیل سے ہٹایا جانا ایک افسوسناک داستان ہے جس کے بیان کا یہ موقع نہیں۔ یہاں صرف یہ بتانا کافی ہوگا کہ وہ اپنے ملک سے عشق کی حد تک محبت کرتے ہیں اور انہوں نے اپنی تمام زندگی اس کیفیت میں ملک کے لئے قربانیاں دیتے ہوئے گزاری۔

سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد کلفٹن کراچی کے ایک فلیٹ میں زندگی بسر کرتے ہوئے انہوں نے اپنی زندگی میں پیش آنے والے مشاہدات بھی بے باکی سے ایک کتاب ’’اِف دا ٹرتھ بی ٹولڈ‘‘کی صورت میں قلم بند کئے جس کے عنوان کا اردو ترجمہ ہے’’اگر سچ کہا جائے‘‘پاکستان کی حالیہ تاریخ کی آئینہ دار اس کتاب کو جس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ججوں سے اپنے حق میں فیصلے کروا نے کے لئے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز پاکستان کی کس با ریش شخصیت نے نوٹوں سے بھرے بریف کیس ان میں تقسیم کئے تھے، ملک کی تاریخ لکھتے وقت کوئی مورخ نظر انداز نہیں کر سکتا۔ (کتاب کے بارے میں معلومات انٹرنیٹ پر حق نواز اختر کا نا م گوگل کر کے حاصل کی جاسکتی ہیں ) اختر صاحب کی جنہوں نے سچائی پر قائم رہنے کے لئے ہمیشہ جیب میں استعفیٰ رکھ کر نوکری کی اور نہ ضیاء الحق کی انتقامی کارروائیوں سے گھبرائے نہ ہی پیپلزپارٹی کی حکومت سے مرعوب ہوئے اگر میں خوبیاں بیان کر تا چلاجاؤں تو اس کے لئے بھی ایک اور کتاب درکار ہوگی لہٰذا ان کا ذکر ان الفاظ کے ساتھ کسی اور وقت کے لئے ملتوی کرتا ہوں کہ ایسے لوگ وہ نگینے ہیں جن کی آب و تاب سے ہمارے ملک کی آن بان قائم ہے۔

اس پس منظر میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات پر اختر صاحب کے تبصرے کو محض ایک دانشورانہ رائے نہیں بلکہ ان کی زندگی کے تجربے کا نچوڑ قراردیا جاسکتا ہے جن کے دوران انہیں ہندوستان آنے جانے اور وہاں کے لوگوں سے دیگر مقامات پر بھی ملاقات کا موقع ملتا رہا ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان میں ممتاز صحافی اُردن دتی رائے اور ممتاز فلم ڈائریکٹر مہیش بھٹ جیسے لوگ بھی ہیں جو نہ صرف اپنے ہم و طن مسلمانوں سے غیر متعصبانہ رویہ رکھتے ہیں بلکہ پاکستان سے بھی برادرانہ تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن ان کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی بلکہ اُردن دتی رائے پر تو غداری کا الزام بھی لگ چکا ہے، اور اگرچہ یہ بھی درست ہے کہ تاریخ کے ایک اہم موڑ پر واجپائی نے ایک مدبر سیاستدان کی حیثیت سے پاکستان کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کر کے بہتر تعلقات کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے لاہور تک سفر بھی طے کر لیا تھا لیکن کارگل کے واقعہ کے باعث انہیں خود اپنوں کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔

بہر حال ہندوستان سے تعلقات کے حوالے سے مجموعی طور پر دیکھا جائے تو وہاں کی سیاسی قیادت کا رویہ چاہے وہ کانگریس کی شکل میں ہو یا بی جے پی کی،پاکستان کے لئے ایک سا ہی رہا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے کی جس سازش پر اندرا گاندھی نے فخر کا اظہار کیا تھا مودی نے بھی حال ہی میں بنگلہ دیش کے دورے کے موقعہ پر اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی۔ (اس بھارتی سازش کی تفصیلات بھی حال ہی میں امریکہ میں شائع ہونے والی کتاب ’’بلڈٹیلی گرام انڈیاز سیکرٹ وار ان ایسٹ پاکستان‘‘ کے ذریعے منظر عام پر آ چکی ہیں۔ امریکہ کے ایوان صدر سے حاصل کردہ دستاویزات پر مبنی یہ کتاب پرنسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر گیری جے باس نے جو صحافی بھی رہ چکے ہیں لکھی ہے۔ کتاب تک رسائی انٹرنیٹ پر گوگل کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ ان حالات میں دونوں ہمسائیوں کے درمیان صاف دلی ا ور ذہنی ہم آہنگی کا ماحول تو فی الحال دور دور تک نظر نہیں آتا اگر کبھی پیدا ہو سکتا ہے تو صرف اسی صورت میں جب چین کے مقابلے میں ایشیا میں چودھراہٹ کی متمنی ہندوستان کی سیاسی قیادت وسعت نظری اور کشادہ دلی کا ثبوت دیتے ہوئے پاکستان کو اپنا مزارع سمجھنے کے بجائے اخلاقی اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق برابر کے ہمسائے کا درجہ دے۔ لیکن یہ وسعت نظری اور کشادہ دلی اگر موجود ہوتی تو پاکستان ہی کیوں بنتا؟

مزید :

کالم -