شیر کا فیصلہ، مقابلہ میدان میں!

شیر کا فیصلہ، مقابلہ میدان میں!
 شیر کا فیصلہ، مقابلہ میدان میں!

  

قریشی صاحب کو شکوہ تھا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے خلاف حمایت حاصل کرنے کے لئے شاہ محمود قریشی کو پیپلزپارٹی سے مدد لینے کے لئے کیوں کہا؟ سیر صبح والی محفل کے یہ ریٹائرڈ آفیسر تحریک انصاف کے حامی ہیں اور زور دار دلائل بھی دیتے ہیں، آج جب الیکشن ٹربیونل کے فیصلوں اور عمران خان کی طرف سے الیکشن کمیشن کے اراکین سے استعفوں کی بات ہوئی اور شاہ محمود قریشی کی قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ سے ملاقات کا بھی حوالہ آ گیا قریشی برہم ہوئے کہ ہمارے سیاست دانوں کا بھی کوئی ٹھکانہ نہیں اور نہ ہی ان کے اندر کوئی استقامت۔ کل تک عمران خان باریوں کا ذکر کرتے اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ پیپلزپارٹی اور آصف علی زرداری کے خلاف بھی الزام پر الزام لگاتے تھے وہ آج اسی جماعت سے اپنے مفاد کے لئے بھیک مانگنے نکلے ہیں۔ اس پر صدیق چودھری نے لقمہ دیا کہ وہ تو ایم کیو ایم سے بھی رابطہ کرنے کی فکر میں ہیں۔

اس پر بات اسی موضوع پر چل نکلی کہ پاکستان میں سیاست میں مہذب پن، اصول اور اخلاق نام کی کوئی چیز نہیں، یہاں مفاد کی بات ہے جس کا جو مفاد ہو اسی کے مطابق عمل بھی کرتا ہے۔ استدلال یہ تھا کہ جب یہ حضرات ایک دوسرے کے مخالف ہوں تو الزام سے گالی گلوچ اور پھانسی لگانے تک آ جاتے ہیں اور پھر جب ضرورت ہو تو انہی سے رجوع کرتے ہیں۔ جواب یہ دیا جاتا ہے سیاست میں سب ممکن ہے۔

طارق بٹ اپنی اہلیہ کے ساتھ بیٹے کے پاس امریکہ گئے ہوئے تھے وہ طویل قیام کے بعد آئے ہیں وہ بھی جانے سے پہلے تحریک انصاف ہی کے حامی تھے لیکن اب ان کا طرز فکر تبدیل ہو چکا وہ کہہ رہے تھے کہ امریکہ اور برطانیہ سمیت ترقی یافتہ ممالک کی ترقی ہی مستقل مزاجی، روشن خیالی اور اصول پرستی کے باعث ہے۔ وہاں سیاست میں بھی مہذب پن ہے، دوسروں پر ایسے الزام نہیں لگائے جاتے جو اخلاق سے گراوٹ کی نشان دہی کریں اور نہ ہی روز روز اصول تبدیل ہوتے اور مفادات کے تحت موقف بدلتا رہتا ہے۔ وہ امریکہ میں شہریوں کے حقوق اور پر امن مہذب رہن سہن کی بات کر رہے تھے۔ خواجہ طارق کا کہنا تھا کہ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ڈیوڈ کیمرون کی ایک تصویر شائع ہوئی جس میں وہ انڈر گراؤنڈ ٹرین میں سفر کر رہے ہیں۔ ان کو نشست نہ ملی تو ٹرین ہی میں ایک کنارے کھڑے ہو کر اخبار پڑھتے نظر آئے ان کا کہنا تھا کہ آج تو دہشت گردی اور سیکیورٹی کی بات کی جاتی ہے اور اس کی آڑ میں گاڑیوں کے قافلے بنتے ہیں لیکن یہاں تو امن کے اچھے دور میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ہم نے اپنی یادداشت کھنگالی اور ان کو بتایا کہ ایوبی دور میں ایک وزیر تھے مسعود صادق، وہ اکثر صبح کے وقت خود ہی بازار سے سودا سلف لیتے نظر آ جاتے تھے۔ خصوصاً کوپر روڈ کے کونے پر سبزی والے سے سبزی لیتے اور بھاؤ تاؤ کرتے بھی دیکھے جاتے تھے۔

بات گھوم پھر کر پھر الیکشن ٹربیونل کے فیصلوں پر آ گئی کہ کپتان کو فتح ملی ہے اور وہ اپنے موقف میں مزید استقامت پیدا کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ مرزا منور حسین بیگ نے توجہ دلائی کہ حضرات مسلم لیگ (ن) کی طرف سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ تینوں نشستوں پر ضمنی انتخاب میں حصہ لیا جائے گا اور مسلم لیگ (ن) اپنی عوامی حمایت کا مظاہرہ کرے گی۔ چودھری صدیق نے پھر لقمہ دیا کہ یہ ہے شیر کا فیصلہ اور یہ پہلے روز ہی کر لینا چاہئے تھا انہوں نے کہا سردار ایاز صادق اپنے حلقے میں مقبول ہیں ان کے مقابلے کے لئے تحریک انصاف میں کوئی تیار نہیں ہوگا۔ ایک صاحب بولے! چودھری سرور امیدوار ہوں گے، تو یاد دلایا گیا کہ ان کے گورنر شپ سے استعفے کو ابھی دو سال نہیں ہوئے اس لئے وہ الیکشن میں حصہ لینے کے اہل ہی نہیں ہیں ہم نے پھر توجہ دلائی کہ عبدالعلیم خان ہیں اِسی حلقے کی ایک صوبائی نشست سے ایم پی اے بھی رہ چکے ہیں اور ان کو چیئرمین عمران خان کا قرب بھی حاصل ہے اس پر اتفاق ہوا کہ ممکنہ امیدوار علیم خان ہی ہو سکتے ہیں۔ چودھری صدیق کے مطابق وہ سردار ایاز صادق کو ہرا نہیں سکتے۔

یہ بحث دلچسپ تھی کہ اس میں پارٹی بازی تھی تو تہذیب اور اخلاق کی بات بھی ہو رہی تھی۔ مجموعی طور پر اس اطلاع کو سراہا گیا کہ مسلم لیگ (ن) تحریک انصاف کو ضمنی انتخاب میں چیلنج کر ے گی۔ حاضرین کے مطابق سیاسی حکمت عملی کے تحت یہ دانش مندانہ فیصلہ ہے اور مسلم لیگ (ن) کو یہی کرنا چاہئے کہ سپریم کورٹ سے ریلیف مل بھی گئی تو اخلاقی پہلو کمزور رہے گا۔ چنانچہ ضمنی انتخاب ہی بہتر راستہ اور سیاسی عمل ہے کہ خواجہ سعد رفیق بھی اپنی اپیل واپس لے لیں تاکہ ان تینوں حلقوں میں ایک ہی روز انتخابات ہو سکیں۔

اس سلسلے میں مولانا فضل الرحمن کے تازہ ترین انٹرویو پر بھی بات ہوئی ان (مولانا) کے مطابق عمران خان پھنس گئے کہ اگر ضمنی انتخابات میں ان کی جماعت کے امیدوار ناکام ہو گئے تو پھر ان کے پاس کیا جواز باقی رہے گا۔ محفل برخاست ہونے سے پہلے ’’شیر‘‘ کے ’’فیصلے‘‘ پر اطمینان ظاہر کیا گیا کہ میدان سجے گا تو نتائج سے پتہ چل جائے گا کہ کون کتنے پانی میں ہے اور مسلم لیگ (ن) کو یہی فیصلہ کرنا چاہئے کہ یہ سیاسی عمل ہے۔

الیکشن ٹربیونلز کے یکے بعد دیگرے دو فیصلوں نے واقعی میدان گرم کر دیا ہے اور یہ اطلاع بڑے اچھے انداز میں لی گئی کہ مسلم لیگ (ن) میدان میں مقابلہ کرے گی۔ بہر حال اس بات سے مسلم لیگ (ن) کے پرجوش حامی بھی متفق تھے کہ مسلم لیگ (ن) والوں کو اپنے خلاف ٹربیونلز کے فیصلوں پر تنقید نہیں کرنا چاہئے کہ جب کپتان کو تہذیب کا درس دیا جاتا تھا اب یہ خود ہی اخلاقی حدود کو پار کر رہے ہیں خصوصاً رانا ثناء اللہ کے الزام بد ذوقی کے مظہر ہیں۔

مزید :

کالم -