لودھراں کے قومی حلقے میں دوبارہ انتخاب کا حکم

لودھراں کے قومی حلقے میں دوبارہ انتخاب کا حکم

  

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے154(لودھراں) سے کامیاب امیدوار محمد صدیق بلوچ کو الیکشن ٹریبونل نے جعلی ڈگری کی بنا پر عمر بھر کے لئے الیکشن لڑنے کے نااہل قرار دے دیا ہے، اور حلقے میں دوبارہ الیکشن کا حکم دیا ہے، محمد صدیق بلوچ آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیاب ہوئے تھے، کامیابی کے بعد مسلم لیگ(ن) میں شامل ہو گئے اُن کی کامیابی کے خلاف دوسرے نمبر پر رہنے والے تحریک انصاف کے جہانگیر ترین نے انتخابی عذر داری دائر کی تھی، جس کا فیصلہ گزشتہ روز سنایا گیا، اور حلقے میں دوبارہ انتخاب کا حکم دیا گیا۔اس حلقے میں مسلم لیگ(ن) کا امیدوار تیسرے نمبر پر رہا تھا۔یہ حلقہ اُن چار حلقوں میں شامل تھا، جنہیں کھولنے کا مطالبہ عمران خان اس وقت سے کر رہے تھے جب سے انہوں نے2013ء کے الیکشن میں مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف تحریک شروع کی تھی، اس سے پہلے لاہور کے دو حلقوں این اے125 اور این اے122 کے فیصلوں میں بھی کامیاب امیدواروں خواجہ سعد رفیق اور ایاز صادق کا انتخاب کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔ سعد رفیق نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس نے الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ معطل کر کے اپیل سماعت کے لئے منظور کر لی ہے۔

لودھراں کے حلقے میں کامیاب امیدوار کو جعلی ڈگری کی بنا پر آئندہ الیکشن لڑنے کے لئے بھی نااہل قرار دیا گیا ہے اس فیصلے کے خلاف وہ سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے تازہ فیصلے کے مطابق ایاز صادق سپریم کورٹ میں فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے، مگر حکم امتناعی کی درخواست دائر نہیں کریں گے۔ سپریم کورٹ میں قانون کے مطابق فیصلہ ہو جائے گا، جبکہ اس دوران سردار ایاز صادق دوبارہ الیکشن لڑیں گے، سعد رفیق بھی عدالت سے حکمِ امتناعی کی درخواست واپس لے کر الیکشن لڑیں گے۔لودھراں کے حلقے کا فیصلہ لاہور کے دو حلقوں سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ لاہور میں متاثرہ حضرات دوبارہ الیکشن لڑ سکتے ہیں، جبکہ اس حلقے میں متاثرہ رکن صدیق بلوچ اس وقت تک دوبارہ امیدوار نہیں بن سکتے، جب تک سپریم کورٹ الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ معطل یا ختم نہیں کر دیتی بہرحال مسلم لیگ (ن) کے فیصلے سے ووٹروں کو ایک بار پھر موقع مل جائے گا کہ وہ اپنی آزادانہ رائے کا اظہار کر سکیں، تاہم بنیادی ضرورت اس بات کی ہے کہ الیکشن کمیشن کے عملے کے حوالے سے جو بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں یا ووٹوں کی تصدیق نہیں ہو سکی، اُن کا کوئی ایسا فول پروف طریقِ کار وضع کر دیا جائے کہ یہ شکایت دوبارہ پیدا نہ ہو، اس مقصد کے لئے انتخابی عملے کی تربیت بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ کوئی ایسی تکنیکی یا فنی خرابی نہ چھوڑیں، جس کی بنا پر الیکشن کی ثقاہت متاثر ہو اور عملے کی کسی کوتاہی کی سزا کامیاب امیدوار کو نہ ملے۔

مزید :

اداریہ -