جنوبی افریقہ جانے والے پاکستانی ایف آئی اے کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور

جنوبی افریقہ جانے والے پاکستانی ایف آئی اے کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور
جنوبی افریقہ جانے والے پاکستانی ایف آئی اے کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور

  

جنوبی افریقہ جانیوالے پاکستانیوں کو ایف آئی حکام نے اپنی لوٹ مار کر ذریعہ بنا لیا ہے۔مقتدر اداروں کو کئی بار کی گئی شکایا ت بھی بے سود ثابت ہوئی ہیں۔اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے کسی بھی حکومت نے مخلص ہوکر کام نہیں کیا۔پاکستانی ساؤتھ افریقہ واپس آتے ہوئے 50سے60 ہزار روپے ایف آئی حکام کو دینے پر مجبور ہیں۔’’بھتہ‘‘ نہ دینے پر انہیں آف لوڈ کر دیا جاتا ہے۔ایجنٹوں کی مدد سے آنے والوں کو وی آئی پی پروٹوکول دیا جاتا ہے کیوں کے وہ بھاری رقم دے کر آتے ہیں۔اور جو لیگل طریقے سے آتے ہیں ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے جیسے وہ کوئی جرائم پیشہ افراد ہوں۔دیار غیر میں اپنے پیاروں کی جدائی کا غم برداشت کر کے اور خون پسینہ ایک کرکے وطن کے لئے قیمتی زرمبادلہ کمانے والے پاکستانیوں کو اپنے ہی ملک میں ذلیل وخوار کیا جانا معمول بن گیا ہے،کیا اس لئے کہ وہ دیار غیر میں بیٹھ کر اپنے ملک کی معیشت کو بہتر کرنے کے لئے اپنے پیاروں کی جدائی برداشت کر کے قیمتی زرمبادلہ بھیجتے ہیں۔حکومتی حکام اس معاملے کا پتہ ہونے کے باوجود پہلو تہی کر رہے ہیں۔اور محنتی پاکستانیوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے جو قابل مذمت ہے۔حکمران اپنی الیکشن کمپین میں عوام سے کئے گئے وعدوں کو اقتدار میں آکر بھول جاتے ہیں اور اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہو کر موج مستیوں میں مصروف ہو کر عوام کے مسائل بھول جاتے ہیں۔اور عوام کو ایسے بھول جاتے ہیں جیسے جانتے ہی نہ ہوں ووٹ لیتے ہوئے عوام سے جھو ٹ بولتے ہیں،پتہ نہیں وہ کون سا دن ہو گا جب حکمران دیار غیر میں مقیم پاکستانیوں کی مشکلات کا کم کرنے کے لئے کوئی اقدامات کریں گے اور ان مظلوموں کی بھی سنی جائے گی۔پاکستان سے واپسی پر پاکستانیوں سے جو ناروا سلوک کیا جاتا ہے اس کا فی الفور ازالہ کیا جائے ،تاکہ وہ بیرون ملک یکسوئی کے ساتھ اپنا کام کر سکیں اور پاکستان کی خدمت کریں۔

مزید :

عالمی منظر -