ڈاکٹرعاصم کی گرفتاری پرزرداری سیخ پا،بلاول کی معنی خیز خاموشی

ڈاکٹرعاصم کی گرفتاری پرزرداری سیخ پا،بلاول کی معنی خیز خاموشی

  

کراچی سے(تجزیہ/نعیم الدین)

ڈاکٹرعاصم کی گرفتاری کے بعد سندھ میں کرپشن کے خلاف عملی طور پر مہم کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔ماضی میں عوامی حلقے اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ ایسے ادارے جو انتہائی ذمہ دار ہیں اور ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لیے عملی کوششیں کررہے ہیں، لیکن اس صورتحال میں وہ عملی اقدامات سے گریزاں ہیں۔ اور جو چھوٹے موٹے لوگ گرفتار ہوتے ہیں، وہ ضمانت پر رہا ہوجاتے ہیں، جبکہ محکموں میں کرپشن کا خاتمہ کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کہیں نظرنہیں آرہے ہیں۔ ان عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ صرف دھونس دھمکی دی جارہی ہے۔ماضی میں جو لوگ جیلوں سے رہا ہوئے اور انہوں نے آکر یہ تاثر دیا کہ عدالتوں میں جو الزامات لگائے گئے تھے، وہ ثابت نہیں ہوسکے۔ بیوروکریسی میں صرف خوف و ہراس پھیلایا جارہا ہے، جس کے باعث متعدد بیوروکریٹس چھٹیوں پر جاچکے ہیں یا ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں، یا پھر انہوں نے ممکنہ خطرے کے پیش نظر ضمانت قبل از گرفتاری کرائی ہوئی ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ سرکاری محکموں میں ایک خوف کی فضا قائم ہے کہ کس کا نمبر کب آجائے ۔ اس صورتحال میں بعض محکموں میں اوپر کی آمدنی بھی کم ہوگئی ہے ۔ اور لوگوں کے کام اب بہتر طریقے سے کیے جارہے ہیں۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ تحقیقاتی اداروں نے کرپشن کے خاتمے کے لیے باقاعدہ مہم کا آغاز کردیا ہے۔ اور صوبائی کابینہ میں شامل سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم اور سوئی سدرن گیس کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر کی حراست بھی بہت اہمیت کی حامل ہے۔ ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری پر آصف زرداری نے مذمت کی ہے ، لیکن بلاول بھٹو کی جانب سے اب تک کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ جبکہ دوسری جانب تحریک انصاف کی جانب سے ن لیگ کی تین وکٹ حاصل کرنے پر سیاسی حلقوں میں اس وقت تبدیلی آئی ہے۔ جوڈیشل کمیشن فیصلے کے بعد تحریک انصاف کا گراف جو کہ نیچے آیا تھا، اب وہ اوپر کی جانب رواں دواں ہے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ ن لیگ کا سیاسی میدان میں تحریک انصاف کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ ایک اچھا اقدام ہے اور ن لیگ چاہتی ہے کہ دو سال بعد آنے والے جوڈیشل کمیشن کے فیصلوں پر اپیل کی صورت میں یہ معاملہ مزید 2سال کے لیے موخر ہوسکتا ہے اس لیے بہتر ہے کہ اس کا فیصلہ عوامی عدالت میں کرلیا جائے ۔

مزید :

تجزیہ -