کرپشن کے مقدمات اور انکوائریوں میں ملوث 23ایگزیکٹو انجینئر پروموشن کی دوڑ سے باہر

کرپشن کے مقدمات اور انکوائریوں میں ملوث 23ایگزیکٹو انجینئر پروموشن کی دوڑ سے ...

  

لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل)سی اینڈڈبلیو کے تمام ایکسین کے لیے ترقی خواب بن گئی۔رشوت اور کرپشن کے مقدمات اور انکوائریوں میں ملوث 23ایگزیکٹو انجنئیرپروموشن کی دوڑ سے باہر ہوگئے۔پنجاب بھر سے محض 16نام پراونشل سلیکشن بورڈ ون کو بھجوائے جائینگے۔معلوم ہواہے کہ محکمہ مواصلات وتعمیرات پنجاب کو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سے شفاف کردار کے حامل ایگزیکٹو انجینئروں کی فہرست موصول ہوگئی ہے۔ سی اینڈڈبلیو پنجاب کے سیکرٹری کی طرف سے سیکشن افسر نبیلہ جاوید نے 3مارچ 2015کو سنیارٹی لسٹ کے مطابق 39ایکسینز کی فہرست ایک فہرست کلئیرنس کے لیے ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن کو ارسال کی ۔جس کے جواب میں اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ نے پوری چھان بین کے بعد 20اگست2015کو سی اینڈڈبلیو کو جوابی فہرست ارسال کی جس میں بتایا گیا کہ 39میں سے محض 16ایگزیکٹو انجنئیر دوران سروس شفافیت برقرار رکھ سکے ہیں۔ جبکہ دیگر کے خلاف مقدمات اور انکوائریاں زیر التوا ہیں۔اینٹی کرپشن سے کلیرنس حاصل کرنے والے انجنئیروں میں محمد ساجد اختر ، اسلام اللہ خان، محمد نواز غازی ،اکرام اللہ ،محمد شریف ، محمد عبداللہ، خالد فاروق، غلاحسین ، رشید احمد ، جاوید بشیر سلہریا، محمد آصف طارق ، محسن شکور خان،ساجد رشید بٹ ، محمد حسنین شاہ ، انصر محمود اور امجد رضا کے نام شامل ہیں۔اینٹی کرپشن کی رپورٹ کے مطابق جو 23ایکسینز ترقی کی دوڑ سے باہر ہوئے ہیں۔ ان میں افتخار احمد چوہدری کے خلاف اینٹی کرپشن سرگودھا کا مقدمہ نمبر 75/12۔اینٹی کرپشن میانوالی کا مقدمہ نمبر 7/10، اینٹی کرپشن بھکر کا مقدمہ نمبر 36/09، اینٹی کرپشن میانوالی کا مقدمہ نمبر 2/09اور اینٹی کرپشن مظفر گڑھ کا مقدمہ نمبر 10/10شامل ہیں۔ اسی طرح ای ڈی او ورکس اینڈ سروسز خانیوال کے طورپر فرائض انجام دینے والے ناصر جلال کے خلاف اینٹی کرپشن لودھراں کا مقدمہ نمبر 1/14، ملتان ریجن کی انکوائری نمبر 400/15اور ساہیوال ریجن کی انکوائری نمبر 890/14زیر التوا ہیں۔ایکسین عرفان احمد قاضی کے خلاف راولپنڈی ریجن میں زیر التوا انکوائری نمبر 235/15،سپرنٹنڈنٹ انجنئیر ملتان کے طورپر فرائض انجام دینے والے خاور تحسین اختر کے خلاف اینٹی کرپشن فیصل آباد ریجن کا زیر التوا مقدمہ نمبر 141/13، ایکسین محمداقبال کھوکھر کے خلاف اینٹی کرپشن بہاولنگر کا زیر التوا مقدمہ نمبر 26/14، ریاض احمد خان کے خلاف ملتان ریجن کی زیر التوا انکوائری نمبر 1010/12اور 186/13، ایکسیئن ارشد محمود الحسن کے خلاف زیر التوا اینٹی کرپشن سرگودھا کا زیر التوا مقدمہ نمبر 49/13، رانا نوید احمد کے خلاف اینٹی کرپشن سرگودھا کا مقدمہ نمبر 61/09، رضوان قمر کے خلاف جہلم کا مقدمہ نمبر 3/11،خالد پرویز کے خلاف ملتان کی زیر التوا انکوائری نمبر 857/13اور وہاڑی کے انکوائری نمبر1517/12، ایکسین ھائی ویز سرگودھا ون محمد غلام احمد فاروق کے خلاف ملتان میں زیر التوا انکوائری نمبر 810/13، انکوائری نمبر 558/15،انکوائری نمبر 394/10شامل ہیں۔ اسی طرح ایکسین ندیم الدین کے خلاف اینٹی کرپشن ملتان کا مقدمہ نمبر 12/14،اینٹی کرپشن گوجرانوالہ کا مقدمہ نمبر 03/12اور اینٹی کرپشن لودھراں کی انکوائری نمبر 384/13شامل ہیں۔ایکسین محمد ارشد کے خلاف اینٹی کرپشن گوجرانوالہ کا مقدمہ نمبر 02/14اور انکوائری نمبر 750/13، ڈی او روڈز فیصل آباد عبدالخالق کے خلاف فیصل آباد میں زیر التوا مقدمہ نمبر 28/15گوجرانوالہ کا مقدمہ نمبر44/14اور سرگودھا کا مقدمہ نمبر 28/13شامل ہیں۔ایکسین محمد شاہد خان کے خلاف بہاولپور ریجن میں زیر التوا انکوائری نمبر 678/13انکوائری نمبر 57/14، انکوائری نمبر 483/14، انکوائری نمبر 608/14اور انکوائری نمبر 108/15شامل ہیں۔ایکسین محمد اقبال اعوان کے خلاف اینٹی کرپشن لاہور میں زیر التوا مقدمہ نمبر 12/14،انکوائری نمبر 1620/14انکوائری نمبر 1621/14،انکوائری نمبر 749/15,، انکوائری نمبر 1310/14، انکوائری نمبر 506/15، انکوائری نمبر 228/14اور انکوائری نمبر 826/15شامل ہیں۔ایگزیکٹو انجنئیر سید اطہر حسین بخاری کے خلاف اینٹی کرپشن سرگودھا میں زیر التوا مقدمہ نمبر 45/13، مقدمہ نمبر 75/12،مقدمہ نمبر 60/13، ایکسین وسیم طارق کے خلاف ملتان میں زیر التوا انکوائری نمبر 302/14، انکوائری نمبر 392/14، انکوائری نمبر 575/15،انکوائری نمبر 556/15اور اینٹی کرپشن مظفر گڑھ کا مقدمہ نمبر 19/14شامل ہیں۔ڈی او روڈز حافظ آباد انور تارڑ کے خلاف اینٹی کرپشن نارووال کی انکوائری نمبر 127/14،ایکسین عبدالمجید کے خلاف بہالپور کی انکوائری نمبر 530/13اور ااینٹی کرپشن لاہور کا مقدمہ نمبر 10/14،ایکسین نسیم اختر کے خلاف زیر التوا انکوائری نمبر 149/15اور ڈی او روڈز شیخوپورہ لہراسب خان کے خلاف اینٹی کرپشن لاہور ریجن میں زیر التوا انکوائری نمبر 252/15شامل ہیں۔

ایکسین

مزید :

صفحہ آخر -