طواف میں ان باتوں کا خیال رکھیں :

طواف میں ان باتوں کا خیال رکھیں :

  

 اس کے بعد آپ حجر اسود کے سامنے کھڑے کھڑے سیدھے ہاتھ کی طرف اپنے پاؤں کا رخ موڑ لیں، اور دائیں طرف سے بیت اللہ کا طواف کرنا شروع کر دیں ،طواف کے دوران ان باتوں کا خیال رکھیں ۔(1) ایک طواف میں سات چکر ہوتے ہیں ،ہر چکر حجر اسود سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہو گا،اس طرح سات چکر لگائیں جائیں گے ۔(2) شروع کے تین چکروں میں مرد ’’ رمل ‘‘کریں گے ، اس طواف میں رمل کرنا سنت ہے ۔ ’’رمل ‘‘کا مطلب یہ ہے کہ سینہ نکال کر مونڈھے ہلاتے ہوئے اکڑ کرپہلوانوں کی طرح چلیں ، بعد کے چار چکروں میں اطمینان سے چلیں اگر کوئی شخص پہلے چکر میں رمل کرنا بھول جائے تو بعد کے صرف دو چکروں میں رمل کرے ، خواتین رمل نہیں کریں گی ۔(3) ہر چکر میں جب حجر اسود کے سامنے پہنچیں تو اسی طرح ’’استلام‘‘ کریں جس طرح طواف شروع کرتے وقت کیا تھا ۔(4) حجر اسود والے کونے سے پہلے کونے کو رکن یمانی کہتے ہیں بہت سے لوگ طواف کے دوران جب ’’رکن یمانی ‘‘ پر پہنچتے ہیں تو اس کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہیں۔یاد رکھئے !اس طرح ہاتھ سے اشارہ کرنا مکروہ اور بدعت ہے،صحیح طریقہ یہ ہے کہ اگر کسی کو تکلیف پہنچائے بغیر ’’رکن یمانی‘‘ کو ہاتھ لگا سکتے ہوں اور اس پر خوشبو لگی ہوئی نہ ہو تو اس صورت میں ’’رکن یمانی ‘‘ کو دونوں ہاتھ لگائیں ،یا صرف دایاں ہاتھ لگائیں مگر صرف بایاں ہاتھ نہ لگائیں اور نہ سامنے کھڑے ہو کر اس کی طرف اشارہ کریں،اور نہ رکن یمانی کو بوسہ دیں۔(5) ’’رکن یمانی ‘‘سے حجر اسود تک : رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّا رِ ط پڑھیں۔(6) طواف کے دوران حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ بیت اللہ کے دوسرے حصوں کو ہاتھ لگانا مکروہ ہے ۔(7) طواف کے دوران بیت اللہ کی طرف دیکھنا یا پشت کرنا بھی مکروہ ہے۔(8) جب سات چکر پورے ہو جائیں تو ساتویں چکر کے ختم پر حجر اسود کے سامنے کھڑے ہو کر آٹھویں مرتبہ حجر اسود کا استلام کریں۔یاد رکھئے!پہلا استلام اور آٹھواں استلام سنت مؤکدہ ہے، اور درمیان کے استلام سنت یا مستحب ہیں،اب آپ کے عمرہ کا پہلا کام یعنی ’’طواف‘مکمل ہو گیا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -