ایران میں 14 سالہ دولہا، 10 سالہ دلہن کی شادی نے انٹرنیٹ پر ہلچل مچادی

ایران میں 14 سالہ دولہا، 10 سالہ دلہن کی شادی نے انٹرنیٹ پر ہلچل مچادی
ایران میں 14 سالہ دولہا، 10 سالہ دلہن کی شادی نے انٹرنیٹ پر ہلچل مچادی

  

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) شادیاں پوری دنیا میں ہی ہوتی ہیں لیکن ایران میں 14اگست 2015ءکو ہونیوالی ایک شادی نے انٹرنیٹ پر ہلچل مچادی جس کی وجہ دولہا دلہن کی کم عمری تھی ۔ انٹرنیٹ براؤ زنگ کے دوران آپ کو مکمل دلہن کے لباس میں سجی کم عمر بچیاں دکھائیں دیں گی۔ بعض جگہوں پر ان کم سن دلہنوں کے والدین بھی تصاویر میں نمایاں ہوتے ہیں۔

العربیہ کے مطابق ایرانی قانون مجریہ 2002ءمیں شادی کے لئے لڑکے کی قانونی عمر 15 جبکہ لڑکیوں کے لئے 13 برس مقرر ہے تاہم قانون بنانے والے پارلیمنڑینز نے اس میں ایک چھوٹ دیتے ہوئے قانونی حد سے کم عمر بچوں کی شادی کو اس شرط پر جائز قرار دیا کہ یہ عقد نکاح مصلحت کو سامنے رکھتے ہوئے ولی کی اجازت سے طے پایا ہو اور اس کی توثیق مجاز عدالت کے ذریعے کرائی جائے جبکہ ایران نے’چلڈرن رائٹس کنونشن‘ اور’شہری وسیاسی حقوق کے بین الاقوامی قانون‘ پر دستخط بھی کر رکھے ہیںاور 'چلڈرن رائٹس کنونشن' میں 18 سال سے کم عمر لڑکے اور لڑکی کو 'بچہ' قرار دیا ہے۔

بعض ماہرین کی رائے میں کم سنی ہی میں شادی کے بندھن میں باندھ دی جانے والی بچیوں کو وقت گذرنے کے ساتھ نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات ان کے ذہن پر اس کے شدید منفی اثرات مقرر ہوتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنا بچپن فطری انداز میں مکمل نہیں کیا ہوا ہوتا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -