آصف زرداری کی گرفتاری کا ہّوا سیاسی مقاصد کے تحت کھڑا کیا جارہا ہے

آصف زرداری کی گرفتاری کا ہّوا سیاسی مقاصد کے تحت کھڑا کیا جارہا ہے
آصف زرداری کی گرفتاری کا ہّوا سیاسی مقاصد کے تحت کھڑا کیا جارہا ہے

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری:

جو لوگ آصف علی زرداری کے دست راست ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کے بعد یہ اندازہ لگائے بیٹھے ہیں کہ اب خود آصف علی زرداری کے خلاف کارروائی ہوگی یہ ان کے اندر کا خوف یا کسی مخالف کی خواہش تو ہوسکتی ہے، لیکن بظاہر اس امر کا امکان بہت کم ہے کہ آصف علی زرداری کو فوری طور پر گرفتار کیا جانے والا ہے۔ سید خورشید شاہ اور ان کے ساتھیوں نے اگرچہ تلخ لہجے میں بات کی ہے لیکن اس سے زیادہ سخت بات تو خود آصف علی زرداری کرچکے ہیں جس کی بعد میں مختلف النوع تعبیریں اور وضاحتیں بھی سامنے آئیں اور پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں ڈی جی رینجرز سے ملاقات بھی کی، چند دن کی شورا شوری کے بعد زرداری کا بیان رفت گزشت ہوگیا، اور دوسرے مسائل سامنے آنے لگے، بدعنوانی کے الزام میں بہت سے سرکاری افسر گرفتار کئے جاچکے ہیں، دو روز قبل ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری بھی اگرچہ بعض ٹھیکوں میں بے قاعدگیوں کے سلسلے میں ہوئی ہے لیکن اس کے علاوہ بھی کچھ ایسی باتیں ہیں جن کا ان کی گرفتاری سے تعلق ہے۔

ڈاکٹر عاصم بنیادی طور پر سیاسی شخصیت نہیں ہیں، نہ وہ آصف زرداری کی دوستی سے پہلے سیاست سے کوئی دلچسپی رکھتے تھے، وہ پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں اور کراچی میں ان کے پرائیویٹ ہسپتال ہیں۔ ان کا تعلق آصف علی زرداری سے ان دنوں گہرا ہوا جب زرداری کراچی جیل میں تھے، جیل کے اندر وہ ڈاکٹر عاصم کے حسن سلوک سے متاثر ہوئے اور یوں ان میں دوستی کا رشتہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا گیا۔ جب آصف زرداری جیل میں تھے، محترمہ بینظیر بھٹو پارٹی کی چیئرمین تھیں اور پارٹی کے اندر آصف زرداری کا عمل دخل محدود تھا، اگرچہ پارٹی کی حکومتوں کے دوران وہ متحرک رہے اور اس تحرک کی بنا پر ان پر مختلف نوعیت کے الزام بھی لگتے رہے۔ 1996ء میں جب صدر فاروق لغاری نے اپنی پارٹی چیئرمین کی حکومت صدارتی احکامات کے تحت ختم کی تو اس وقت آصف زرداری گورنر ہاؤس لاہور میں تھے اور جب انہیں گرفتار کرنے کے لئے سیکیورٹی اہلکار پہنچے تو آصف علی زرداری نے نوائے وقت کے مرحوم ایڈیٹر مجید نظامی کو فون کرکے پنجابی میں کہا تھا ’’مینوں پھڑن لئی آگئے نئیں‘‘ نظامی صاحب زرداری کی بہادری کے معترف رہے اور انہیں ہمت و جرأت سے جیل کاٹنے پر ایک وقت میں ’’مرد حر‘‘ کا خطاب بھی دیا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب آصف زرداری رہا ہوئے تو خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ کوئی سیاسی کردار ادا کریں گے، وہ لاہور کو اپنی تازہ سیاسی تگ و تاز کا مرکز بھی بنانا چاہتے تھے، اس مقصد کے لئے انہوں نے کرائے پر گھر لے کر اسے ’’بہاول ہاؤس‘‘ کا نام دیا تھا۔ (اس وقت بحریہ ٹاؤن کا وسیع و عریض عالیشان محل ابھی بننا شروع بھی نہیں ہوا تھا) پھر معلوم نہیں کیا ہوا شاید پارٹی چیئرمین نے روک دیا، وہ توقع کے مطابق کوئی سیاسی کردار ادا نہ کرسکے اور کچھ عرصے کے بعد بیرون ملک چلے گئے، محترمہ بھی بیرون ملک تھیں، اس عرصے میں ان کی زیادہ سیاسی سرگرمیاں نہیں دیکھی گئیں۔ جس وقت 18 اکتوبر 2007ء کو بینظیر بھٹو کراچی آئیں، اور بعد میں وہ 27 دسمبر کو لیاقت باغ راولپنڈی میں سفر آخرت پر روانہ ہوگئیں، زرداری اس وقت دبئی میں تھے، اور بعد میں واپس آکر انہوں نے پارٹی قیادت سنبھالی ا ور جب سندھ میں توڑ پھوڑ ہو رہی تھی تو انہوں نے ’’پاکستان کھپے‘‘ کا نعرہ لگایا، پھر انہوں نے ایک وصیت کے مطابق پارٹی کی قیادت سنبھالی، تو 2008ء کے الیکشن کے بعد ان کی پارٹی برسراقتدار آگئی، وہ خود بھی جنرل مشرف کے استعفے کے بعد صدر بن گئے۔

ڈاکٹر عاصم کا عروج اس دور میں شروع ہوا، یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ سیاست میں زرداری کا نیا کردار شروع نہ ہوتا تو ڈاکٹر عاصم بے شک ان کے دوست ہوتے سیاست میں اس طرح متحرک نہ ہوتے۔ وہ سیاست کی وادی میں زرداری کی مہربانی سے آئے، اور ان کی سرپرستی کی وجہ سے ہی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوگئے۔ اس وقت بھی وہ زرداری کی چھتر چھاؤں میں ہی سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ بنے ہوئے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر عاصم کے ایم کیو ایم سے بھی تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے۔ بے شک انہوں نے تمام عہدے پیپلز پارٹی اور زرداری کی مہربانی سے حاصل کئے، لیکن انہوں نے ایم کیو ایم کی قیادت سے بھی اچھا تعلق رکھا۔ اس دوران اگر ایم کیو ایم کو ڈاکٹر عاصم کی کسی مدد کی ضرورت پڑی تو انہوں نے حسب توفیق اس میں اپنا کردار ادا کیا، ان کے پاس چونکہ وسائل کی کوئی کمی نہ تھی، ان کے پاس ذاتی کے علاوہ سرکاری وسائل بھی بہت تھے، اس لئے عین ممکن ہے کہ انہوں نے کسی وقت ایم کیو ایم سے تعاون میں کہیں زیادہ فراخ دلی کا مظاہرہ کر دیا ہو، جواب بدلے ہوئے حالات میں ان کے لئے مشکلات کا باعث بن گیا ہو، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب کبھی پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں اختلافات کی خلیج وسیع ہوئی یا ایم کیو ایم روٹھ کر حکومت سے الگ ہوگئی تو ڈاکٹر عاصم نے اختلافات ختم کرانے میں اپنا کردار ادا کیا، اگرچہ سامنے تو رحمن ملک ہی زیادہ آتے رہے اور لندن کے پھیرے بھی انہوں نے ہی لگائے، لیکن پس منظر میں ڈاکٹر عاصم کا کردار ہمیشہ اہم رہا۔ ڈاکٹر صاحب سابق صدر پرویز مشرف کے بھی قریب رہے اور ابھی دو دن قبل وہ ایک دعوت میں شریک تھے۔ اب ڈاکٹر عاصم پر جو بھی الزامات ہیں وہ تو جب پایہ ثبوت کو پہنچیں گے تو کوئی بات ہوگی لیکن ان کی گرفتاری سے لازماً یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ اب آصف زرداری بھی گرفتار ہوں گے، ابھی یہ محض واہمہ ہے، خواب و خیال ہے، یا پھر شیخ رشید کی خواہش ہے جو کوئی نہ کوئی پیش گوئی کرتے رہتے ہیں۔ ان کی باتوں پر جائیں تو اب تک موجودہ حکومت کو ختم ہوئے بھی عرصہ ہو جانا چاہیئے تھا۔

مزید :

تجزیہ -