’’حادثہ ایک دم نہیں ہوتا‘‘

’’حادثہ ایک دم نہیں ہوتا‘‘

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ویسے تو دنیا کے ہر ملک میں ٹریفک حادثات ہوتے ہیں مگر جتنے حادثات ہمارے ملک میں ہوتے ہیں شائد ہی کسی اور ملک میں ہوتے ہوں اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنی ہلاکتیں ہمارے ہاں ٹریفک حادثات میں ہوتی ہیں کہیں نہیں ہوتیں بلکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹریفک حادثات میں ہونے والی ہلاکتیں، دہشت گردی کے باعث ہونے والی ہلاکتوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان ہر قسم کے ٹریفک حادثات میں ایشیاء میں پہلے نمبر پر ہے ایک رپورٹ کے مطابق2016،2017 یعنی ایک سال کے دوران پاکستان میں 9582 حادثات ہوئے جن میں 5047 افراد ہلاک ہوئے۔ میرے خیال میں یہ تعداد اس سے بھی کہیں ذیادہ ہے اور دن بدن بڑھ رہی ہے یہ صرف روڈ ایکسیڈنٹ کی حالت ہے اس کے علاوہ ٹرین،جہاز کے حادثات، آگ لگنے کے واقعات، ڈوبنے سے ہلاکتیں، عمارتیں گرنے سے، فیکٹریوں وغیرہ میں ہونے والے حادثات کا شمار نہیں اور یہ ایک انتہائی خطر ناک صورٹ حال ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں انسان کی بالکل قدر ہی نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے ملک میں سب سے فالتو چیز انسان ہیں اگر کچھ ہلاک بھی ہوجائیں تو کوئی بات نہیں۔ آبادی بہت ہے اورآ جائیں گے۔ دوسری وجہ ٹریفک قوانین کا نہ ہونا اگر ٹریفک قوانین ہیں بھی تو ان پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے دنیا کے تمام مہذب ممالک میں ٹریفک قوانین پر ہر صورت عمل کروایا جاتا ہے تاکہ حادثات کم سے کم ہوں۔ سخت ترین سزائیں دی جاتی ہیں تاکہ قیمتی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔
میں یہاںUAEکاذکر کرنا چاہونگا وہاں ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کیلئے کسی بھی شخص کو پہلے فیس جمع کروانی ہوتی ہے،پھر میڈیکل چیک اپ ہوتا ہے، پھر ٹریننگ اٹینڈ کرنا پڑتی ہے پھر پریکٹیکل اور تھیوری ٹیسٹ دینا پڑتا ہے اور ٹیسٹ دینے والے شخص کو چھوٹی سے چھوٹی غلطی پر بھی فیل کردیا جاتا ہے اور دوبارہ اسی پراسس سے گزارا جاتا ہے یعنی پھر فی، ٹریننگ اور پھر ٹیسٹ بلکہ لوگوں کو لائسنس حاصل کرنے کے اس طریقہ کار سے کئی کئی مرتبہ گزرنا پڑتا ہے اور اوسطاً ایک شخص کو لائسنس حاصل کرنے کیلئے تقریباً 10 ہزار درھم فیس ادا کرنا پڑتی ہے یہ سب اس لئے ہے کہ ڈرائیور بننے والے کو لائسنس کی اہمیت کا احساس ہو اور اسکی ڈرائیونگ انتہائی اچھی ہو جائے اور اسے غلطی کرنے سے پہلے کئی بار سوچنا پڑے یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ بہت زیادہ ٹریفک ہونے کے باوجود نہ صرف ٹریفک حادثات بلکہ انسانی جانوں کے ضیاع کو کم سے کم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اگر کوئی ڈرائیور غلطی کرے تو اسے بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے بعض اوقات غلطی پر غلطی کرنیوالے کا لا ئسنس بھی کینسل ہو جاتا ہے تین سال پرانی گاڑیوں کو ہر سال فٹنس ٹیسٹ سے گزرنا پڑتا ہے اگر گاڑی ان کے معیارپر پوری نہیں اترتی تو وہ روڈ پر نہیں آسکتی مگر ہمارے ملک میں نہ توڈرائیور کی معقول ٹریننگ کا کوئی بندوبست ہے نہ کوئی پراپر ٹیسٹ ہوتا ہے UAEمیں صرف وہی شخص ڈرائیونگ کر سکتا ہے جس کے نام پر گاڑی ہو، مگر ہمارے ہاں چار دن ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھنے والا پانچویں دن ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ جاتا ہے اور پھر مبینہ طور پر رشوت دے کر لائسنس حاصل کر لیتا ہے پھر وہ کچھ بھی کر سکتا ہے یعنی اسے گورنمنٹ کی طرف سے لوگوں کو مارنے کا لائسنس مل جاتا ہے، جیس، ہمارے ہاں وہ گاڑیاں جو پہلی جنگ عظیم کے دور میں استعمال ہوئی تھیں وہ بھی سڑک پر چل رہی ہوتی ہیں کوئی بھی پوچھنے والا نہیں، ہمارے ملک میں ہر چیز کا اللہ ہی حافظ ہے نہ کوئی پراپر قانون، نہ عمل درآمد، نہ کوئی سزا صرف معصوم جانوں کا ضیاع ہی ضیاع۔
شیخوپورہ آبادی کے لحاظ سے اتنا بڑا ضلع نہیں مگر یہاں سے پورے پاکستان کو لنک کرنے والی سڑکیں نکلتی ہیں گوجرانوالہ روڈ راولپنڈی اسلام آبادسے ہوتا ہوا خیبر پختون خواہ ،سرگودھا روڈلاہور روڈ اور فیصل آباد روڈز ملک کے دوسرے اضلاع کو آپس میں جوڑتے ہیں سب سے زیادہ ٹریفک کا رش فیصل آباد روڈ اور لاہور روڈ پر دیکھنے کو ملتا ہے جہاں لاتعداد ٹریفک حادثات بھی روزانہ کی بنیاد پر رونما ہوتے ہیں اور ان ٹریفک حادثات میں روزانہ درجنوں افراد کے ہلاک ،معزور اور زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوتی رہتی ہیں عوامی رد عمل کے مطابق مین سٹرکوں پر بسوں اور دیگر گاڑیوں کے ڈرائیورز انتہا ئی تیز رفتاری میں غلط تین طریقہ کار سے گاڑیاں ڈرائیو کرتے ہیں جن سے حادثات رونما ہوتے ہیں مین فیصل آباد روڈ پر بعض جگہوں پر لوگوں نے زبردستی مین سڑک پر غیر قانونی کٹ بنا رکھے ہیں جہاں لاتعداد لوگوں کی زندگیوں کا ضیاع ہو چکا ہے مگر کسی ذمہ دار آفیسر کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ہے سب سے خطر ناک غیر قانونی کٹ ملک فلنگ اسٹیشن نذد نیشنل فیڈز فیکٹری بنایا گیا ہے جہاں آئے روز حادثات رونما ہوتے ہیں اس کٹ کے حوالے سے قومی اخبارات میں خبروں کی اشاعت بھی ہوتی رہتی ہے مگر با اثر پٹرول پمپ مالکان اس کٹ کو بند کرنے نہیں دیتے لوگوں کے مطابق اس پٹرول پمپ سے ٹرکوں ، بسوں اور دیگر مسافر بردار گاڑیوں کے ڈرائیوز تیل ڈلوا کر نکلتے ہیں اور بے احتیاطی سے سڑک پر گاڑی کو لے آتے ہیں جس سے ٹریفک حادثات رونما ہوتے ہیں اس کٹ پر ہونے والے حادثات میں جان سے ہاتھ دھونے والے ،معزور ہونے اور زخمی ہونے والے افراد کی تعداد سینکڑوں میں بیان کی گئی ہے اس کٹ پر حادثات کا نا تھمنے والا سلسلہ جاری و ساری ہے اسی وجہ سے مقامی لوگوں نے اس کٹ کا نام خونی کٹ رکھ دیا مگر ذمہ دار محکموں نے پھر بھی مسلسل چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے شیخوپورہ شہر میں رکشوں ، مسافر ویگنوں کا اس قدر رش رہتا ہے کہ لوگوں کا سڑک تک کراس کرنا محال ہو جاتا ہے اور اسی وجہ سے ٹریفک حادثات میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت اس قدر کمزور ہے کہ مین روڈ ز پر اوباش لڑکوں کے گروہ موٹر سائیکلوں پرون ویلنگ کرتے دیکھائی دیتے ہیں جو ٹریفک حادثات کا شکار ہو کر ایک تو خود زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں دوسری طرف سڑک پر دیگر افراد کی زندگیوں کے لئے بھی خطرناک ثابت ہو رہے ہیں صدر چوک شیخوپورہ میں مین سڑک کے عین اوپر موٹر سائیکلوں کی ورکشاپس بنی ہوئی ہیں جو مین سڑک کے اوپر ہی موٹر سائیکلوں کو کھول کر پارٹس تبدیل کرتے ہیں جس سے ایک تو ہر وہ گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگی رہتی ہیں تو دوسری طرف ٹریفک حادثات میں غیر معمولی حد تک اضافہ کا سبب بنتے ہیں اسی طرح شہر سے ملحقہ بعض جگہوں پر ریلوے پھاٹکوں پر گیٹ تو نصب ہیں مگر ٹرین گزرنے کے اوقات میں کیٹ بند کرنے والا عملہ اکثر غائب ہونے سے حادثات رونما ہوتے ہیں اور لوگ اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں آج کل سٹرکوں کی تعمیر کے لئے پٹھر سے لوڈ ڈمپر ز کی زد میں آ کرہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو چکا ہے ڈمپرز کے ڈرائیورز انتہائی لا پرواہی سے ڈمپرز ڈرائیو کرتے ہیں جس سے سینکڑوں لوگ اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں ڈمپر حادثات میں بے پناہ ہلاکتوں کے اضافے کے پیش نظرڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے ارکان کے ڈمپرز سے ہلاک ہونے والے افراد کے حق میں احتجاجی مظاہرہ میں بھی کیا جس پر ضلعی انتظامیہ نے وکلاء اور ہلاک ہونے والے افراد کے ورثاء کو اعتماد میں لینے کے لئے ڈمپرز کو شہر میں داخلے پر پابندی لگاتے ہوئے ان کے خلاف آپریشن کر کے لاتعداد ڈمپرز اور ڈرائیورز کو شہر کے مختلف تھانوں میں بند کر وا کر ان کے خلاف مقدمات بھی درج کروائے گئے مگر بعد میں معاملہ پھر سے جوں کا توں ہی چلنے لگا جبکہ لوگوں نے ڈمپرز کو خونی ڈمپرز کا لقب دیتے ہوئے تاحال واویلہ جاری ہے عوامی سماجی حلقوں کے مطابق مین روڈ پر بس سٹاپوں سے ملحقہ ناجائز تجاوزات بھی حادثات کا باعث بن رہی ہیں سروے کے مطابق شہر شیخوپورہ ، بتی چوک، لاہور روڈ، گوجرانوالہ روڈ، سرگودھا روڈ، اور فیصل آباد روڈ پر ہر بس سٹاپ پر ناجائز تجاوزات کی اس قدر بھر مار ہے کہ لوگوں کا وہاں سے گزرنا محال ہے رکشہ مالکان، ریڑھی بانوں ، خوانچہ فروشوں ، نے سڑک کو نصف سے زائد کور کر رکھا ہے اور ان ناجائز تجاوزات کی وجہ سے بھی روڈ حادثات ہو رہے ہیں ،نکاسی آب کا نا ہونا بھی کسی حد تک روڈ حادثات کا سبب بن رہا ہے گردونواح کے زیادہ تر قصبوں اور دیہات کے عوام نے نکاسی آب کے موثر انتظامات نا ہونے کی وجہ سے نواں کوٹ سٹاپ، جیون پورہ سٹاپ، بھکھی ، کھاریانوالہ ، آرائیانوالہ اور دیگر جگہوں پر گٹروں اور نالیوں کا گندہ پانی مین سڑکوں پر چھوڑ رکھا ہے جہاں پانی تالابوں کی شکل میں مین سڑکوں پر کھڑا ہونے کی وجہ سے ٹریفک روانی میں دقت پیش آ رہی ہے اور بعض جگہوں پر گاڑیوں کے ڈرائیورز پانی سے گزرنے سے گریز کرتے ہوئے ون وے کی خلاف ورزیاں کرتے ہیں جس سے ٹریفک حادثات ہو رہے ہیں جبکہ ضلعی حکومت اس طرف توجہ دینے سے قاصر نظر آتے ہیں شیخوپورہ شہر میں تین ارب کے قریب فنڈز ،انڈر پاسزز، اوور ہیڈ برج، اور بائی پاسزز کے مہیا کئے گئے تھے ان فنڈز سے سابق حکمران جماعت نے چند ایک جگہوں پر بائی پاسزز ،اوورہیڈ برج، اور انڈر پاسزز بنائے گئے تاکہ شہر میں ٹریفک کا لوڈ کم ہو اور عوام ٹریفک حادثات سے محفوظ رہ سکیں مگر ان بائی پاسزز بارے عوام کو موثر طریقہ کار سے اگاہی نہیں دی گئی جس وجہ سے زیادہ تر گاڑیوں کے مالکان شہر کی طرف ہی سفر کرتے ہیں اور بائی پاسزز پر لگائی جانے والی خطیر رقوم ضائع ہو گئی ہیں عوام کو اوور ہیڈ برج کے استعمال بارے اگاہی نہیں دی گئی جس وجہ سے لوگ شہر میں بنائے گئے اوورہیڈ برج استعمال نہیں کرتے اور سڑک کراس کرتے ہوئے حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں شہر میں ٹریفک کو درست طریقہ کار سے چلانے کے لئے ٹریفک پولیس کے جوان تعینات کئے گئے ہیں جنہیں اب ٹریفک وارڈنز کی وردیاں پہنا کر سٹرکوں پر کھڑا کر دیا گیا ہے جو ٹریفک قوانین بارے اگاہی دینے کے بجائے ہر وقت مبینہ طور پر مال پانی کے چکر میں رہتے ہیں لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس ملازمین کی وردیاں تبدیل کر کے وارڈنز کی وردیاں زیب تن کروا دینے سے تبدیلی نہیں آئے گی تبدیلی آئے گی چہرے تبدیل کرنے سے، اگر دیکھا جائے تو جو حالات ٹریفک کے حوالے سے ضلع شیخوپورہ کے ہیں ویسے ہی حالات سوائے چند ایک شہروں کے پورے پاکستان کے اضلاع کے ہیں جنہیں تبدیل کرنا انتہائی ضروری ہے۔
اس کے بر عکس باقی مہذب ممالک جیسے امریکہ، انگلینڈ، کینیڈا اور جرمنی وغیرہ میں تقریبا اسی طرح کے ٹریفک قوانین لاگو ہیں جن پر پوری طرح عملدرآمد کرایا جاتا ہے اس طرح وہ لوگ بہت حد تک ان حادثات پرقابو پا چکے ہیں مگر ہمارے ہاں صبح اٹھتے ہی ٹی وی آن کریں تو اس طرح کی خبریں دیکھنے کو ملتی ہیں بس نہر میں گر گئی، ٹرک نے وین کو ٹکر ماردی، گاڑی نے موٹر سائیکل سوار کوکچل دیا، ریلوے پھاٹک پر رکشہ ٹرین کی زد میں آگیا، ٹرالر الٹ گیا، ریس لگاتے ہوئے دو گاڑیاں سڑک کنارے کھڑے لوگوں پر چڑھ دوڑیں،گاڑی درخت سے ٹکراکر الٹ گئی، بس کھائی میں گر گئی، وین بے قابو ہو کر نہر میں جا گری، کوئلے سے بھرا ٹرک وین پر الٹ گیا اور وین میں سوار تمام افراد جاں بحق وغیرہ وغیرہ ہمارے اخبارات بھی اسی قسم کی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں۔ اس طرح کی افسوسناک خبریں سارا دن ملتی رہتی ہیں اور یہی روزانہ کی روٹین ہے۔ ان حادثات میں بہت سے معصوم لوگ دوسروں کی غلطی کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے اور بہت سے زندگی بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ ان حادثات کی وجوہات کچھ اس طرح سے ہیں۔ روڈ انفراسٹرکچر کا پراپرنہ ہونا، ڈرائیورزکی پراپر ٹریننگ کا بندوبست نہ ہونا، ڈرائیورز کا ٹریفک/ سیفٹی قوانین کا خیال نہ رکھنا۔ تقریبا 80فیصد پاکستانی سڑکوں پر لگے بنیادی اشاروں کو فالونہیں کرتے یعنی سیٹ بیلٹ کا نہ باندھنا، ہیلمٹ نہ پہننا وغیرہ، اوور سپیڈنگ،سیفٹی کا خیال کئے بغیر روڈ پر آجانا، الٹی سمت میں ڈرائیو کرنا، صحیح طریقہ کار کے مطابق لین تبدیل نہ کرنا،گاڑیوں میں درمیانی وقفہ پراپر نہ ہونا، حادثے کے بعد ذمہ داروں کو سزا نہ ملنا وغیرہ جبکہ ترقی پذیر ممالک میں بغیر انڈیکیٹر لین تبدیل کرنے والوں کو بھی بھاری جرمانہ کیا جاتا ہے مگر ہمارے پاکستان میں لاپرواہی سے لوگوں کو کچل کر مارنے والا بھی جیل نہیں جاتا اس کی اگلے ہی روز ضمانت منظور ہو جاتی ہے موجودہ حکومت کے لئے ٹریفک حادثات میں ہلاکتوں پر قابو پانے کے لئے موثر اور فول پروف طریقہ کار اپنانے کی اشد ضرورت ہے ۔

مزید :

ایڈیشن 2 -