جناب وزیر اعظم ، ابھی یا کبھی نہیں

جناب وزیر اعظم ، ابھی یا کبھی نہیں
جناب وزیر اعظم ، ابھی یا کبھی نہیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

قومی عام انتخابات کے بعد وفاقی اور صوبائی سطحوں پر حکومتیں قائم ہو گئی ہیں۔ ان حکومتوں خصوصاً وفاقی حکومت کو کیسے کیسے مگر مچھوں جیسے مسائل کا سامنا ہے، اس کا ادراک وزیراعظم عمران خان اور ان کے با ہوش رفقاء کو بہت اچھی طرح ہوگا۔جن حالات میں عمران خان نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی ہے، وہ کسی حالت میں بھی بہتر یا بہترین نہیں ہیں بلکہ بہت خراب ہیں خصوصاً ملک کی معاشی حالت کسی طور پر اطمینان بخش نہیں ہے۔ کس کو شکایت کریں یا کس کو ذمہ دار قرار دیں ، بے مقصد بات ہوگی۔

بیرونی ذرائع سے قرضوں کے حصول میں ماضی کے سب ہی حکمران پیش پیش رہے ۔ قرضوں کا بوجھ بڑھتا گیا، کسی نے قرضے اتارنے یا کم کرنے کو اپنا مقصد نہ جانا بلکہ اپنا وقت یا دور گزارنے کے لئے ’’ اور قرضہ لے لو ‘‘ کے اصول پر کار بند رہے۔ قرضہ اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ اب تو اس پر دیئے جانے والے سود کی ادائیگی بھی بے قابو ہو گئی ہے۔ کیا یہ عمران خان کی غلطی ہے کہ انہوں نے ملک کی معیشت کے بہتر ہونے کا انتظار کرنے کی بجائے انتخابات میں حصہ لیا اور اکثریت حاصل کر لی۔

اب تو ملک کی باگ ڈور یا طوق ان کے گلے کی گھنٹی ہی ہے۔ حکومت کو ایک سو دن نہیں بلکہ کم از کم ایک سال اطمینان کے ساتھ منصوبہ بندی کرنے اور اس پر عمل دآمد کرنے کے لئے وقت لگانا چاہئے۔ وزیراعظم کو ابتدا معیشت کی بہتری اور نظام انصاف میں با مقصد تبدیلی لانے سے کرنا چاہئے ۔ نظام انصاف کو بہترین بنانے کے لئے حکمرانی تبدیل کرنی ہوگی۔ مولانا کوثر نیازی اپنی کتاب ’’ جنہیں میں نے دیکھا ‘‘ میں لکھتے ہیں ’’شاہ فیصل (سعودی عرب کے بادشاہ ) ہفتے میں ایک دن دربار عام منعقد کرتے جس میں ہر فرد و بشر کو آنے اور اپنی شکایت پیش کرنے کی اجازت تھی۔ محفل میں قاضی اور علماء بھی موجود ہوتے ، ضرورت ہوتی تو ان سے مشورہ کر لیتے۔ کوئی پیچیدہ معاملہ ہوتا تو تحقیقات کا حکم دیتے ورنہ وہیں شکایات کا ازالہ کردیتے اور اس طرح بلا تاخیر فریادی کی داد رسی ہوجاتی۔ اس دربار عام کے علاوہ بھی ان تک عام آدمی کی رسائی کوئی ایسی مشکل نہ تھی ۔ ان کی سواری نکلتی تو فریادی راستہ میں ’یا فیصل‘ کی آواز دے کر انہیں روک لیتے‘‘۔

بھارت کی سپریم کورٹ کے ایک معزز رٹائرڈ جج مرکنڈے کاٹجو نے تو عمران خان کو اپنے توئٹر کے ایک پیغام میں ’’ بے خبر خان ‘‘ قرار دیا ہے۔ جناب کاٹجو پریس کونسل آف انڈیا کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ مرکنڈے کاٹجو لکھتے ہیں کہ ’ ’ میں سوچ رہا تھا کہ کون سے تاریخی شخص سے میں عمران خان کا موازنہ کر سکتا ہوں، اورکافی دیر سوچنے کے بعد ’’بوربن فرانسیسی بادشاہ لوئس 16‘‘ کا نام میرے ذہن میں آیا، جس کی قسمت (انجام ) ہم سب جانتے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ’عمران خان اسی مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں جس کا سامنا لوئس 16 کرچکے ہیں اور وہ ’بڑا قومی قرضہ‘ ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان تقریبا 30 کھرب روپوں کا مقروض ہے جو پاکستانی معیشت کا 87 فیصد ہے۔ عمران خان کے پاس صرف ایک ہی ذریعہ ہے کہ وہ ’آئی ایم ایف‘ سے رقم لیکر کام کرے جیسا لوئس 16نے کرنا چاہا تھا مگر انہیں جلد اس بات کا احساس ہوگیا تھا کہ ایسا کرنے سے محض قوم کا قرضہ بڑھے گا ‘‘۔ معیشت کی بہتری اسی لئے پہلا اہم ترین قدم قرار پاتا ہے۔’’ جنہیں میں نے دیکھا ‘‘ میں ہی مولانا کوثر نیازی رقم طراز ہیں ’’ شاہ فیصل(شہید) نے جب حکومت (سعودی عرب میں ) سنبھالی تو بیت المال میں صرف 317 ریال (جی ہاں ، صرف 317 ریال )باقی تھے اور حکومت کے ذمہ آرامکو (سعودی عرب میں تیل کا کاروبار کرنے والی کمپنی) سے لیا جانے والا2 ہزار ملین ریال کا قرضہ واجب الادا تھا‘‘۔ عمران خان کو ملک چلانے کے لئے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی بجائے پاکستان کے مال دار طبقے سے ڈالر اور پاکستانی روپے میں قرضہ لینا چاہئے۔ ڈالر سے آئی ایم ایف کا قرضہ اتارنا چاہئے اور پاکستانی روپے سے ملک کا نظم و نسق چلانا چاہئے۔ سخت قسم کی پابندیاں عائد کرنی چاہیں خواہ کچھ بھی کرنا پڑے۔ حکومت کو ہر قسم کی در آمدات پر فوری طور پر سخت پابندی عائد کرنا چاہئے ماسوائے جان بچانے والی ضروری دوائیں، پیٹرول اور فوجی ساز و سامان۔ ملک میں پیٹرول کے استعمال پر راشن بندی ہونا چاہئے تاکہ زر مبادلہ بچایا جا سکے۔ نجی کاروں اور گاڑیوں کی بجائے بسوں میں سفر کی حوصلہ افزائی کرنا چاہئے بلکہ پابندی ہونا چاہئے۔ مشاہدہ میں آیا ہے کہ کراچی سے اسلام آباد تک افسران بھاگ بھاگ کر اجلاسوں میں اس تواتر کے ساتھ جاتے ہیں کہ ان کے سفر اور اسلام آباد میں رہائش پر ہی کروڑوں روپے ماہانہ خرچ ہو جاتے ہیں۔ تمام اجلاس وڈیو کانفرنس کالوں پر کئے جاسکتے ہیں۔ اندرون سندھ اور دیگر صوبوں سے افسران دارالحکومتوں کا بار بار چکر لگاتے ہیں اسے فوری بند کیا جانا چاہئے۔

کسی بھی ملک کی معیشت کو اسمگلنگ دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔ پاکستان میں آج اسمگلنگ کے سامان کی فروخت کھلے عام ہوتی ہے۔ ہر قسم کے سامان کی اسمگلنگ اور فروخت پر سخت پابندی ہونا چاہئے اور اسمگلنگ کا سامان بحق سرکاربغیر کسی لیت و لعل ضبط ہونا چاہئے۔ حد ہے کہ ایرانی پیٹرول براستہ بلوچستان پورے سندھ سے گزر کر کراچی پہنچ جاتا ہے اور فخریہ انداز میں فروخت کیا جاتا ہے۔ پولس کسٹم و دیگر محکمے کے لوگ منافع میں حصہ دار ہوتے ہیں۔

ایران پر امریکی پابندیوں کے سلسلے میں پاکستان نے اپنے بازاروں میں ایرانی سامان کی کھپت پر نظریں بند کر لی تھیں۔ چاکلیٹ، ٹافی، چپل، چادر وغیرہ وغیرہ تک فروخت ہو رہی ہیں ۔ اب تو خود پاکستانیوں پر کڑا وقت ہے۔ چین سے بھی بڑے پیمانے پر سامان اسمگلنگ ہو کر آتا ہے ۔ بھارت سے تو کپڑا اور مصنوعی جیولری تک اسمگلنگ کر کے لایا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ متعلقہ محکموں کے افسران کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ کسٹمز کے کام کرنے کے طریقوں کو تبدیل کرنا چاہئے ۔ جس بے دریغ انداز سے سامان آتا ہے اور اس پر ٹیکس انتہائی کم اس لئے لگایا جاتا ہے کہ افسران اپنی قیمت وصول کر لیتے ہیں۔ آنے والے سامان کی چیکنگ کا نظام بھی درست کرنے کی ضرورت ہے۔ چین تک سے جو سامان منگایا جاتا ہے اس پر برائے نام کسٹم ادا کیا جاتا ہے۔

جس ڈبے پر سامان کی تعداد ایک درج ہوتی ہے اس میں درجنوں سے زیادہ سامان ہوتا ہے جس پر ڈیوٹی ادا نہیں کی جاتی ہے ۔ جب تک ملکی زر مبادلہ کی حالت بہتر نہیں ہوتی، پیٹرول کے بے دریغ استعمال پر پابندی ہونا چا ہئے۔ پیٹرول پمپ ایک روز بند کرنا ضروری نہیں ہے اور یہ مسلہ کا حل بھی نہیں ہے، راشنگ ہونا چاہئے۔ کاریں بنانے والی کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ کچھ سالوں کے لئے 800 سی سی سے زیادہ قوت کی گاڑیاں بنانا بند کردیں۔ بازاروں کو ہر قیمت پر مغرب کے وقت بند کرانا چاہئے تاکہ جنریٹر میں استعمال ہونے والے پیٹرول کی بچت کی جاسکے۔ دوکانداروں کے مفاد سے زیادہ ملکی اور قومی مفاد عزیز ہونا چاہئے۔ سرکاری گاڑٰیوں کے دفتری اوقات کے بعد ذاتی استعمال پر پا بندی ہونا چاہئے۔ جو بھی افسران اپنی آمدنی کے مقابلے میں کہیں زیادہ شان و شوکت سے زندگی گزارتے ہیں، انہیں پابند کیا جائے۔ ٹیکس وصول کرنے کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ ایف بی آر کے افسران اگر ٹارگٹ پورا نہیں کر سکتے ہیں تو وصولی کا نظام ٹھیکے پر دینے میں کیا قباحت ہوگی ۔

ڈالر کا ہار جیسا فواد چوہدری نے کیا، پہن کر قرضہ کم نہیں کیا جا سکتا اور جیسا شیخ رشید نے کہا ہے کہ ریلوے کا خسارہ پورا کرنے کے لئے وہ ریلوے ریسٹ ہاؤسس کو فروخت کر دیں گے۔ بھلا کہیں اثاثے فروخت کر کے خسارے پورے ہوئے ہیں جو پاکستان ریلوے کے پورے ہو سکیں گے۔ شیخ رشید صاحب، ریلوے کی اربوں روپے مالیت کی زمینوں پر با اثر افراد سمیت لوگوں کا قبضہ ہے، اسے خالی کرائیں یا مارکٹ کی قیمت پر انہیں فروخت کر دیں۔ ویسے عمارتیں اور گاڑیاں فروخت کرنے سے قرضہ اترے گا نہ ہی ملکی خسارہ کم کرنے میں کوئی قابل ذکر کمی آئے گی۔ وزیر موصوف کو افسران کی بے عزتی کرنے کا اختیار نہیں ملا ہے۔ اگر کوئی افسر اپنی ذمہ داریوں کی ادائگی میں کوتاہی برتتا ہے تو اسے قانونی طریقہ کار کے تحت فارغ کیا جا سکتا ہے۔ نجکاری ایک بھیانک نقصان دہ خواب ہے۔ نجکاری کے تمام منصوبوں کو دفن کردینے میں ہی عافیت ہوگی۔

محمد خان جونیجو بھی اس ملک میں ضیاء مارشل لاء دور میں وذیراعظم رہے تھے ۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں بڑی گاڑیوں کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی۔ اس پابندی کا اطلاق فوجی افسران پر بھی کیا گیا تھا۔ نتیجہ تو کچھ نہیں نکلا تھا۔ افسران نے پہلے سے زیادہ بڑی گاڑیاں استعمال کرنا شروع کر دیں اور ان کی اولادوں نے بھی استعمال کرنا شروع کر دیا۔ مہران کار یا کلٹس کار میں سفر کرنا وہ لوگ اپنی شان کے خلاف تصور کرتے ہیں۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے دور میں دفاتر میں ’’ بجلی بچاؤ ‘‘ مہم کے دوران پابندی عائد کی گئی تھی کہ افسران ایئر کنڈیشن استعمال نہیں کریں گے۔ ہفتہ میں دو روز کی تعطیل اسی لئے کی گئی تھی لیکن کوئی نتیجہ اس لئے نہیں نکلا کہ افسران نے حکم ایک کان سے سنا، دوسرے سے نکال دیا۔ اس تماش گاہ میں اس قوم کے افسران آسائشوں پر ہلے ہوئے ہیں ، جس کا جتنا بڑا مرتبہ وہ اپنے آپ کو اتنا ہی زیادہ مراعات اور سہولتوں کا حق دار سمجھتا ہے۔

اراکین سینٹ، قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی اور وزراء کی تنخواہوں ، مراعات، سرکاری خرچ پر سہولتوں میں بھی کمی پر غور کرنا چاہئے۔ عمران خان کو ’خان بے خبر یا آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے بیٹے خافی خان کی طرح ’شاہ بے خبر ‘ کا لقب دینا اچھی علامتیں نہیں ہیں۔ پاکستانیوں کو اپنی قسمت کے بارے میں معلوم ہونا چاہئے اور جناب کاٹجو کو علم ہونا چاہئے کہ پاکستانیوں کے پاس یہ ’’ ابھی یا کبھی نہیں ‘‘ کا موقع ہے ۔

مزید : رائے /کالم