آزاد کشمیر میں بلدیاتی انتخابات

آزاد کشمیر میں بلدیاتی انتخابات
آزاد کشمیر میں بلدیاتی انتخابات

  

گزشتہ دِنوں آزادکشمیر کے ضلع بھمبر کی یونین کونسل دھندڑ کوٹ کے صدر مقام دھندڑ کلاں میں ایک محدود اوورز کے کرکٹ ٹورنامنٹ کا اہتمام کیا گیا،جس کا سہرا دھندڑ کی کرکٹ ٹیم اور اسی ٹیم کی انتظامی کمیٹی کے سر ہے۔ اس ٹورنامنٹ کا فائنل تحصیل برنالہ کی ٹیم ڈونگی کرکٹ کلب اور بھمبر شہر کے کرکٹ کلب کے درمیان کھیلا گیا۔ ڈونگی کرکٹ کلب نے یہ فائنل میچ اپنے نام کر کے ٹورنامنٹ ٹرافی جیت لی۔ ڈونگی کرکٹ کلب کی یہ پہلی جیت نہیں تھی یہ ٹیم بہت مضبوط ٹیم ہے اور اس سے پہلے بھی کئی ٹورنامنٹ اپنے نام کر چکی ہے۔ مجھے اور انجینئر چودھری رضوان کو اس ٹورنامنٹ کے فائنل میں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا تھا۔ ہم نے اس میچ کو خوب انجوائے کیا۔ اور میچ کے اختتام پر انعامات تقسیم کئے۔

مَیں نے یہاں جو بات بہت شدت سے محسوس کی وہ یہ کہ ہمارے دیس میں جتنا ٹیلنٹ ہے اتنا ہی سہولیات اور انتظامات کا فقدان ہے اور اس کی بڑی وجہ نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی نہ ہونا اور حکومتی عدم توجہی ہے۔ کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی کا سوچ بھی نہیں سکتا، جب تک وہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل نہیں کرتا،اور معاشرے کے تمام طبقوں اور علاقوں میں یکساں طور پر سہولیات کی فراہمی کا انتظام نہیں کرتا۔ آزادکشمیر کی آبادی کی بہت بڑی تعداد چھوٹے دیہات پر مشتمل ہے جہاں کھیلوں کے فروغ کے لئے کوئی انتظامات نہیں ہیں۔ کسی بھی یونین کونسل میں کوئی پارک ہے نہ گراونڈ، تعلیمی اداروں کے اندر غیر نصابی اور صحت مندانہ سرگرمیوں کا تصور بھی نہیں ہے۔ سرکاری شعبے میں تعلیم کا حال بہت برا ہونے کی وجہ سے تعلیم نجی شعبے میں چلی گئی ہے اور نجی سکول اور کالج رہائشی عمارتوں میں قائم کئے گئے ہیں۔ ان عمارات میں کھیل کی سہولت تو دور کی بات یہاں تو سانس بھی کھل کر نہیں لیا جا سکتا۔ کسی بھی ملک کے کسی بھی شعبے کی ترقی کا دارومدار گراس روٹ لیول سے کام کرنے کا تقاضا کرتی ہے، لیکن ہمارے ہاں گنگا الٹی بہتی ہے اور تمام ترقی چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہات سے بالا بالا ہی ہوتی ہے۔

پاکستان میں عدالتی دباؤ پر بلدیاتی انتخابات تو بالآخر ہو گئے تھے، لیکن ابھی تک بلدیاتی اداروں کو اختیارات منتقل کئے گئے ہیں نہ انہیں فعال بنایا گیا ہے،جبکہ آزادکشمیر حکومت عدالتی حکم کو بھی آسانی سے نظر انداز کر گئی ہے۔ آزادکشمیر میں آخری بلدیاتی انتخابات 1991ء میں ہوئے تھے۔ ذرا غور کیجئے کہ اس خطے میں 27 سال سے جمہوریت بغیر بلدیاتی اداروں کے چل رہی ہے۔ دُنیا میں کوئی اور ملک بھی ہے، جہاں جمہوریت بھی ہو اور بلدیاتی ادارے نہ ہوں؟ کیا بلدیاتی نظام کے بغیر حقیقی جمہوریت کا تصور کیا جا سکتا ہے؟ تمام ترقی یافتہ ممالک میں جمہوری ادارے بہت مضبوط اور فعال ہیں اور انتہائی نچلی سطح تک اختیارات کی تقسیم کی گئی ہے۔

بلدیاتی اداروں کے علاوہ بھی سول سوسائٹی بہت متحرک ہے اور ہر شعبے میں اپنی مقامی تنظیمیں ہیں، جن کے معاملات میں حکومت کو دخل نہیں ہوتا۔ اسی لئے ترقی یافتہ ممالک میں عوام انتہائی ذمہ دار ہیں اور ملکی ترقی میں اپنا فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ دُنیا کے بیشتر ممالک میں ٹیکس وصولی سے لے کر بیشتر اختیارات شہری حکومتوں کے پاس ہوتے ہیں اور وہ علاقائی پالیسیوں کے مرتب کرنے میں خود مختار ہوتی ہیں، جبکہ پاکستان میں چھوٹے سے چھوٹے مسئلے پر وزرائے اعظم یا وزرائے اعلیٰ کی طرف دیکھا جاتا ہے۔ ہر آدمی اپنی شکایت وزیراعظم، آرمی چیف اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب تک پہنچانا چاہتا ہے۔ اِسی لئے آئے روز چیف جسٹس صاحب اور وزرائے اعظم ہر چھوٹے سے چھوٹے معاملے کا نوٹس لیتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز میں قیادت کا بھی بہت فقدان ہے اور انتخابات میں عام آدمی کی بجائے جاگیردار، سرمایہ دار اور طاقتور لوگ ہی حصہ لے سکتے ہیں۔

پاکستان میں تحریک انصاف کی نئی حکومت قائم ہو چکی ہے، جس سے عوام بالخصوص پی ٹی آئی کے اپنے ووٹر بہت توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں، جبکہ تحریک انصاف کی قیادت نے بھی بڑے بڑے وعدے اور دعوے کر رکھے ہیں۔ تو پھر جان لینا چاہئے کہ بڑے بڑے دعوؤں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے چھوٹے چھوٹے علاقوں تک اختیارات کی منتقلی لازمی ہے۔ آزادکشمیر میں اس وقت مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہے اور اس حکومت کے ابھی دو سال گیارہ ماہ باقی ہیں۔ آزادکشمیر کی حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے کا حق ہے اور امید ہے کہ حکومت پاکستان آزاد حکومت کو نہ صرف آزادی سے کام کرنے کا مکمل موقع دے گی،بلکہ ان کی مدد بھی کی جائے گی،کیونکہ آزادکشمیر کی حکومتوں کا دارومدار پاکستان کی مالی اور اخلاقی مدد پر ہوتا ہے، لیکن آزاد حکومت کو بھی اپنے وعدوں اور اپنے انتخابی منشور پر عمل کرنا چاہئے۔

مَیں مسلم لیگ (ن) کی آزاد حکومت کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ 2016ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے انتخابی منشور کا تیسرا نکتہ یہ تھا کہ ہم دسمبر 2016ء تک آزادکشمیر میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کریں گے۔ یہ وعدہ ابھی پورا نہیں ہوا۔ تو کیا دسمبر 2018ء تک پورا ہو سکتا ہے؟

بدقسمتی سے قانون ساز اسمبلی کے ممبران اپنی توجہ قانون سازی سے ہٹا کر اپنی تمام تر توجہ نالی، گلی، سڑک، کھمبے اور سرکاری ملازمین کے تقرر و تبادلوں پر مرکوز کر لیتے ہیں،جو ان کا کام ہی نہیں ہے۔ ہماری حکومتوں کو یہ جان لینا چاہئے کہ اختیارات کی تقسیم نچلی سطح تک لائے بغیر ملک ترقی کر سکتا ہے نہ جمہوریت کو دوام مل سکتا ہے۔ اس لئے بلا تاخیر آزادکشمیر میں بلدیاتی انتخابات کروا کر اختیارات عوام کے سپرد کئے جائیں اور عوامی مسائل کو مقامی سطح پر حل کیا جائے۔ مَیں عام لوگوں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں کسی کوتاہی کے مرتکب نہ ہوں اور اپنا کردار ادا کرتے ہوئے خود کو بااختیار بنائیں۔ جہاں تک کھیلوں کے فروغ کا تعلق ہے تو اس میں بھی حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مقامی سطح پر مخیر حضرات کھیلوں میں مدد کریں۔ تاکہ بچوں اور نوجوانوں میں صحت مند سرگرمیوں کا رحجان پیدا ہو اور وہ منفی ایکٹیوٹیز سے دور رہیں۔

مزید : رائے /کالم