A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

پنجاب کابینہ بن گئی، امتحان شروع ہو گیا

پنجاب کابینہ بن گئی، امتحان شروع ہو گیا

Aug 28, 2018

نسیم شاہد

ملتان کے دوستوں نے پنجاب کابینہ پر پہلا اعتراض یہ کیا ہے کہ اس میں ملتان کی نمائندگی نہیں ہے۔ لاہور کو پھر پانچ وزارتیں دے دی گئی ہیں۔ پی ٹی آئی میں موجود شاہ محمود قریشی کے مخالف دھڑے یہ الزام لگا رہے ہیں کہ وہ نہیں چاہتے ملتان کو کوئی اور وزارت ملے، تاکہ ان کی اجارہ داری قائم رہے۔ کچھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ جہانگیر ترین چونکہ ملک میں نہیں تھے، اس لئے کسی نے جنوبی پنجاب اور ملتان کے لئے آواز نہیں اٹھائی، انہوں نے اس پر بھی تعجب کا اظہار کیا کہ شاہ محمود قریشی کو شکست دینے والے ایم پی اے سلمان نعیم متوقع وزراء کے اس وفد میں تو شامل تھے، جس نے بنی گالا میں وزیر اعظم عمران خان سے کابینہ کی تشکیل کے ضمن میں بلائے جانے والے اجلاس میں شرکت کی، لیکن آخر وقت پر ان کا نام کابینہ کے وزراء سے نکال دیا گیا۔ یہ کاری گری کس نے دکھائی اور ملتان کو ملنے والی اس صوبائی وزارت سے کس نے محروم کیا؟۔۔۔ میں نے ان دوستوں کو سمجھایا کہ 23 رکنی کابینہ کا کپتان جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے عثمان بزدار کو بنایا گیا ہے، یہ بہت بڑی نمائندگی ہے، اس لئے یہ کہنا مناسب نہیں کہ جنوبی پنجاب یا ملتان کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

خیر یہ باتیں تو اب چلتی رہیں گی، ممکن ہے اگلے مرحلے میں ملتان کو بھی نمائندگی مل جائے، اصل سوال یہ ہے کہ پنجاب کی اس کابینہ کو اس بات کا احساس ہے یا نہیں کہ ان کا اصل مینڈیٹ کیا ہے؟ اگر تو وہ وزارتوں کو اپنا حق سمجھ کر قبول کر رہے ہیں اور صرف یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں سیاست کا پھل مل گیا ہے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ عوام انہیں بہت غور سے دیکھ رہے ہیں، جس طرح انہوں نے عمران خان، وفاقی وزراء، گورنرز اور وزرائے اعلیٰ پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے، اُسی طرح وہ ان پر احتساب کی نگاہ ڈالیں گے۔ عثمان بزدار وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے اب تک صحیح جا رہے ہیں، لیکن انہیں بھی احتیاط کی ضرورت ہے۔ مثلاً مجھے ان کی ایک تصویر دیکھنے کا موقع ملا ہے، جس میں وہ اپنے خصوصی جہاز میں بیٹھے ہیں، ان کی فیملی اور شاید نوکر چاکر بھی ان کے ساتھ ہیں۔ اب بھلا یہ تصویر کھنچوانے کی کیا ضرورت تھی؟ وہ یہ کسے دکھانا چاہتے تھے کہ خصوصی جہاز میں سفر کر رہے ہیں۔ اب اس تصویر کی سوشل میڈیا پر جوگت بن رہی ہے۔

اس کا جواب کون دے گا۔ ایک طرف وزیر اعلیٰ عثمان بزدار ڈھابے پر بیٹھ کر چائے پیتے ہیں، ان کی ویڈیو وائرل ہوتی ہے تو لوگ انہیں عوامی وزیر اعلیٰ کا خطاب دیتے ہیں، لیکن دوسری طرف ان کی خصوصی طیارے کی تصویر آتی ہے تو مخالفین تیر چلانا شروع کر دیتے ہیں۔ شنید ہے کہ عمران خان نے کابینہ میں شامل کرنے سے پہلے ہر وزیر کا خود انٹرویو لیا اور ان سے پوچھا کہ وہ اپنی وزارت کیسے چلائیں گے اور اس وژن کو کیسے عملی جامہ پہنائیں گے جو تحریک انصاف کی حکومت نے اپنایا ہوا ہے؟ ظاہر ہے کہ سب وزراء اپنے قائد عمران خان کو مطمئن کر کے آئے ہیں اور ان کی گائیڈ لائن کے مطابق کام کریں گے، مگر جو سوال میرے ذہن میں اُٹھ رہا ہے، اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ بے شک یہ وزراء اپے وژن کا واضح تصور رکھتے ہوں، کیا ان میں اتنی استعداد اور صلاحیت ہے کہ اسے عملی جامہ پہنا سکیں؟ آگے تو بیورو کریسی کا منہ زور گھوڑا کھڑا ہے جو بہت گھاگ بھی ہے اور اڑیل بھی، اس کی تازہ مثال وفاقی وزیر ریلوے دیکھ چکے ہیں، جب انہی کے ایک افسر نے انہیں جواباً شٹ اپ کہا اور ساتھ ہی دو سال کی چھٹی کے لئے درخواست بھی دیدی۔

درخواست میں یہ بھی لکھا کہ وفاقی وزیر کے غیر شائستہ رویے کی وجہ سے وہ ان کے ساتھ کام نہیں کر سکتے۔ یہ احتساب سے بچنے اور جان چھڑانے کا ایک حربہ بھی ہو سکتا ہے۔ چھٹی منظور کرنے سے پہلے مذکورہ افسر کے دور کا مکمل آؤٹ ہونا چاہئے تاکہ اندازہ ہو سکے کہ اصل صورتِ حال کیا ہے۔

اس قسم کے واقعات صوبائی وزراء کو زیادہ پیش آ سکتے ہیں، کیونکہ ان کا واسطہ اس نوکر شاہی سے زیادہ پڑے گا جس کا تعلق عوامی مسائل سے زیادہ ہوتا ہے۔ کیا ان کی ایسی تربیت کی گئی ہے کہ وہ اس منہ زور گھوڑے پر کاٹھی ڈال سکیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کا انتخاب بہت درست کیا گیا ہے۔ وہ کئی برسوں سے ڈاکٹروں کی سیاست کا حصہ رہی ہیں اور جانتی ہیں کہ ان کے مسائل کیا ہیں، انہیں یہ بھی علم ہے کہ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں کیا گل کھلائے جا رہے ہیں اور کس طرح سینئر ڈاکٹرز صرف پرائیویٹ کلینک میں مریضوں کو دیکھتے ہیں اور ہسپتالوں کو انہوں نے جونیئر اور ہاؤس جاب کرنے والے ڈاکٹروں کے سپرد کر رکھا ہے۔

صحت کے شعبے کو بہتر بنانا تحریک انصاف کا بنیادی نعرہ ہے، اب یہ ذمہ داری ڈاکٹر یاسمین راشد پر ڈال دی گئی ہے، وہ پوری اہلیت رکھتی ہیں کہ تبدیلی لا سکیں۔ اگر وہ کامیاب رہتی ہیں تو یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہوگا۔ تعلیم کا شعبہ دو نوجوان وزیروں راجہ یاسر اور مراد راس کو سونپا گیا ہے۔ اس شعبے میں کام کرنے کی بڑی گنجائش موجود ہے۔ سرکاری یونیورسٹیوں کی حالت بہت بری ہے۔ ان میں تعلیم او رتحقیق کا معیار بہت گر چکا ہے۔ پنجاب پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین اس کی کھل کر نشاندہی کر چکے ہیں اسی طرح سرکاری کالج بھی معیار کے لحاظ سے پرائیویٹ سیکٹر کے مقابلے میں بہت پیچھے جا چکے ہیں۔ ادھر پرائمری و ثانوی تعلیم کا شعبہ بھی زبوں حالی کا شکار ہے۔ سکولوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے اور اساتذہ کی تربیت کا معیار ناقص ہے۔ دیہی سکولوں میں اساتذہ جاتے نہیں اور شہروں کے سکولوں میں اساتذہ تنظیموں کی وجہ سے ڈسپلن سوالیہ نشان بن چکا ہے۔

کالج اور سکول کی سطح پر نئے نصاب کی تیاری بھی ضروری ہے، کیونکہ اس وقت جو نصاب پڑھایا جا رہا ہے، وہ از کار رفتہ اور گھسا پٹا ہے۔ نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے ایک بڑی مشق کی ضرورت ہے۔ پھر عمران خان نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا ہے کہ نوجوانوں کو تکنیکی علوم سکھائیں گے تاکہ وہ روز گار حاصل کر سکیں۔ اس طرف بھی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے، اس کے لئے غیر روایتی اقدامات اٹھانے ہوں گے اور جب ایسے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں تو وہ ٹھہرے پانی میں پتھر پھینکنے کے مترادف ہوتے ہیں، جس کے منفی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

صوبائی کابینہ کے تمام وزراء کو ایک بات پلے باندھ لینی چاہئے کہ وہ اپنے محکمے میں پورے صوبے کے وزیر ہیں۔ ماضی میں یہ دیکھا گیا ہے کہ صوبائی وزیروں کا زیادہ تر وقت اپنے آبائی شہروں میں گزرتا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی تھی کہ سارے اختیارات شہباز شریف نے اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے تھے اور محکمے کا سیکرٹری بھی وزیر کو جوابدہ ہونے کی بجائے وزیر اعلیٰ کو جوابدہ ہوتا تھا، اس لئے وزراء اپنی عزت بچا کر آبائی حلقوں میں آ جاتے تھے تاکہ ہوٹر والی گاڑی میں گھوم پھر کر علاقے کے عوام پر اپنی دھاک بٹھا سکیں۔ امید ہے پی ٹی آئی کے وزراء اتنے بے بس نہیں ہوں گے۔ انہیں اپنے محکمے کی حد تک مکمل اختیار ہوگا اور وہ بہتری کے لئے کچھ بھی کر سکیں گے۔ بس یہی وہ آزادی ہے جو بیورو کریسی اور وزراء میں کشیدگی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت نے جو سادگی مہم اپنائی ہے، وہ پہلے ہی بیورو کریسی کو چبھ رہی ہے۔ گاڑیوں میں کمی، پٹرول میں کمی، چائے پانی میں سادگی اور پھر اہداف، یہ سب چیزیں بیورو کریسی کے افسران کو ایک آنکھ نہیں بھا رہیں۔ یہ لوگ تو ایک قبیلے کی صورت میں کام کرنے کے عادی ہیں اور سب سے بڑی طاقت خود کو سمجھتے ہیں۔ قارئین کو یاد ہوگا احد چیمہ کی گرفتاری کے بعد بیورو کریٹس ہڑتال پر چلے گئے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ احد چیمہ پر ہاتھ ڈال کر گویا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالا گیا ہے، اس لئے اب نیب کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ مگر جلد ہی انہیں اندازہ ہوگیا کہ ان کے اختیارات کی حد صرف دفتروں تک ہے، دفتروں سے باہر نکل کر احتجاج کیا تو قانون ان کی ساری اکڑ فوں نکال دے گا۔

اب تو ویسے ہی حالات بہت بدل چکے ہیں۔ ملک کے وزیر اعظم نے اپنی ذات سے جس اصلاحاتی پیکیج کو شروع کیا ہے، اسے نچلی سطح پر کون روک سکتا ہے، مگر اس کے باوجود پنجاب کابینہ کے وزراء کو جن میں نوجوان وزراء کی تعداد بہت زیادہ ہے، قانون قاعدے کے مطابق چلنا ہوگا۔ بیورو کریسی کے افسران کو بد دل کرنے کی بجائے انہیں بدلے ہوئے حالات کے مطابق کام کرنے پر آمادہ کرنا پڑے گا۔ پی ٹی آئی کی اصل ٹیم پنجاب کابینہ ہے، کیونکہ وزیر اعظم عمران خان کہہ چکے ہیں کہ اصل جنگ پنجاب میں لڑی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار پرعزم ہیں کہ تبدیلی لا کر دکھائیں گے، اُن کے اس عزم کو کابینہ کے یہ 23 ارکان کیا عملی جامہ پہنائیں گے، اس کا امتحان آج سے شروع ہوچکا ہے۔

مزیدخبریں