ماسکو میں افغانستان کانفرنس (2)

ماسکو میں افغانستان کانفرنس (2)
ماسکو میں افغانستان کانفرنس (2)

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

آج افغانستان کی صورتِ حال وہی ہے جو چار پانچ برس پہلے 2014ء کے اواخر میں،اوباما ایڈمنسٹریشن کے دور میں تھی۔ اوباما کی سوچ تھی کہ اس برس کے آخر تک تمام امریکی ٹروپس کو واپس بلا لیا جائے گا۔ لیکن انہوں نے بھی دو سال تک نجانے کس کے اکسانے پر سات آٹھ ہزار ٹروپس کو وہیں مقیم رکھا جن کو بظاہر افغان آرمی اور افغان پولیس کی ٹریننگ کا کام سونپ دیا۔ میرے خیال میں یہ ایک بہانہ تھا۔ کچھ ٹروپس سپیشل فورسز کے نام سے بھی کابل میں رکھے گئے۔ جب اوائل 2017ء میں ٹرمپ صاحب آئے تو انہوں نے اپنے جرنیلوں کی بریفنگ کے بعد یہ سوچا کہ اگر تمام امریکیوں کو افغانستان سے واپس بلوا لیا گیا تو ان کا اپنا نام بھی ان صدورِ امریکہ کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جنہوں نے کوریا، ویت نام، عراق اور شام وغیرہ سے پسپائی اختیار کرنے کے احکامات دیئے تھے۔

چنانچہ ٹرمپ نے دو کام کئے۔۔۔

ایک تو کابل و قندھار میں موجود امریکی فوجیوں کو افغان ائر فورس کی جدید تر ٹریننگ کا مشن سونپا گیا۔۔۔ اور دوسرے جنوبی ایشیا کے اس خطے کو ’’چودھری انڈیا‘‘ کے سپرد کر دیا ۔۔۔ لیکن ٹرمپ کی یہ دونوں حکمت عملیاں بُری طرح ناکام ہو گئیں۔افغان ائر فورس کے عہدیداروں کی ٹریننگ کے لئے جس بنیادی آئی کیو (IQ) کی ضرورت تھی وہ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے ہم وطنوں میں کہاں تھا؟۔۔۔ اور دوسرے جو چودھراہٹی مشن انڈیا کو سونپا گیا تھا وہ اس کی ’’اوقات‘‘ سے بڑھ کر تھا۔ وہ اگر پچھلے 70برسوں میں پاکستان کو رام نہیں کر سکا تھا تو اب یہ ہمالہ کیسے سر کر سکتا اور یہ ہفت خواں کیسے طے کر سکتا تھا؟ چنانچہ پاکستان کا رحیم بھارت کے رام پر چھا گیا۔ ٹرمپ نے پاکستان کی ساری کی ساری عسکری، سویلین، ایجوکیشنل اور ٹریننگ گرانٹیں ختم کرکے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مار لی۔ وہ پاکستان کہ جو 1948ء سے اب تک امریکی بلاک کارکن سمجھا جاتا تھا اس نے ایک امریکی نشیمن کھو کر روس اور چین کی شکل میں نئے چمن اور نئے آشیاں ڈھونڈ لئے!۔۔۔ آخر اب جا کر امریکہ کو معلوم ہوا ہے کہ سردیوں کی شاموں میں اداس ہو کر مارا مارا پھرنے کا مطلب کیا ہوتا ہے!

امریکی صحافیوں کا معمول ہے کہ وہ قومی غیرت کے نام پر اس وقت تک بے غیرتیاں کرتے رہتے ہیں جب تک ان کا وہ مصنوعی قوم پرستی کا ملمع اتر نہیں جاتا جو انہوں نے ایک عرصے سے اپنے اوپر چڑھایا ہوا ہوتا ہے۔بالآخر ان کو ایسا آئینہ مل جاتا ہے جس میں ان کو اپنا اصلی چہرہ نظر آنے لگتا ہے۔ ہم سب کو معلوم ہے کہ برسوں تلک انہوں نے افغانستان میں، اپنی عسکری کامیابیوں کے ڈھنڈورے پیٹے۔لیکن جب تماش گاہ میں اکّا دکّا تماشائی نظر آنے لگا تو ڈھنڈورچی نے اپنا نقارہ اٹھا کر کابل کے میوزیکل انسٹرومینٹل سٹور میں جمع کروا کر وہاں سے ایسی نفیری ایشو کروا لی جس میں ماتمی دھنیں اور افسردہ نغمے بھرے ہوئے تھے۔۔۔

حال ہی میں ایک مشہور امریکی معاصر ’دی نیویارک ٹائمز‘ نے اپنی 23 اگست 2018ء کی اشاعت میں صفحہ اول پر ایک وسیع و عریض آرٹیکل شائع کیا ہے جس میں امریکی کامیابی کے نقاروں کی جگہ ناکامیوں کی نفیریوں کی ماتمی دھنیں سنائی دے رہی ہیں۔اس آرٹیکل کے مصنف کا نام راڈ نورڈلینڈ(Rord Nordland) ہے۔ وہ مشہور پروفیشنل صحافی ہے جو 2001ء میں افغانستان پر امریکی حملے سے بھی پہلے کئی برس تک کابل و قندھار آتا جاتا رہا اور پچھلے آٹھ برسوں سے کابل میں ’دی نیویارک ٹائمز‘ کا بیورو چیف ہے۔۔۔ اس کے آرٹیکل کے بعض حصوں کا ترجمہ ملاحظہ کیجئے:

1۔افغان آرمی اور افغان پولیس کئی برسوں سے امریکہ سے ساڑھے 6ارب ڈالر سالانہ وصول کر رہی ہے۔ لیکن اس گرانٹ کا بیشتر حصہ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔ سیکیورٹی یونٹیں ہمیشہ شکائت کرتی رہتی ہیں کہ ان کو جو راشن ایشوکیا جاتا ہے وہ ناکافی ہوتا ہے اور جو گولہ بارود اور ہتھیار دیئے جاتے ہیں وہ بھی طالبان سے مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔۔۔ اگر افغان سیکیورٹی فورسز کا مقابلہ طالبان سے کیا جائے تو طالبان نسبتاً حکومتی فورسز سے بہتر طور پر مسلح ہیں، ان کے وسائل بھی زیادہ ہیں اور ان کے اسلحہ جات بھی زیادہ جدید اور کارگر ہیں۔صوبہ لوگر کے ایک کونسلر نے تو یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ اگر یہی صورتِ حال رہی تو طالبان جیت جائیں گے۔

2۔صوبہ فراہ افغانستان کا ایک مغربی صوبہ ہے جس کے صوبائی دارالحکومت کا نام بھی فراہ (Faraha) ہے۔ تین ماہ پہلے (مئی 2018ء میں) طالبان نے فراہ پر حملہ کرکے اس شہر کو خاک و خون میں نہلا دیا تھا، ناچار امریکن ٹروپس کو بلانا پڑا جنہوں نے آکر اس علاقے کو مزید خونریزی سے بچایا۔ لیکن فراہ شہر کے مضافاتی علاقوں میں آج بھی طالبان آزادانہ گھومتے پھرتے ہیں۔ اس صوبے کے گورنر کے ایک ترجمان نثار احمد کا کہنا ہے کہ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس جنگ میں کوئی فریق بھی نہیں جیتے گا۔ گزشتہ 17برس سے ہم بربادی اور قتل و غارت گری کے مناظر دیکھ رہے ہیں جن کی ذمہ داری طالبان اور حکومتی فورسز پر یکساں عائد ہوتی ہے۔ اگر مزید 17برس بھی گزر جائیں تو بہتری یا بحالی کی کوئی صورت نظر نہیں آئے گی۔ہر طرف خاک ہی خاک اُڑے گی!

3۔ پہلے گاہے بگا ہے کئی امریکن کمانڈر دعوے کیا کرتے تھے کہ ’’ہم یہ جنگ جیت رہے ہیں‘‘ لیکن آج کوئی کمانڈر یہ کہتا نظر نہیں آتا۔یہ 14000امریکی ٹروپس وہ کچھ کیسے حاصل کرسکتے ہیں جو ایک لاکھ چودہ ہزار امریکی فوج کئی برسوں کی کوششوں کے بعد بھی حاصل نہ کرسکی!

4۔طالبان لیڈروں نے ہمیشہ یہ اصرارکیا ہے کہ جب تک ایک امریکی بھی افغانستان میں موجود ہے ہم نے اگر مذاکرات کرنے بھی ہیں تو اسی ایک امریکی سے کریں گے، اور کسی افغان حکومتی کمانڈر یا عہدیدار سے کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں کریں گے۔

5۔صدر ٹرمپ کے بہت سے مشیر جو پہلے طالبان سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کو ’’گناہ‘‘ سمجھتے تھے، وہ گزشتہ ماہ(جولائی 2018ء میں) دوحہ(قطر) جاکر انہی طالبان سے بات چیت کرچکے ہیں۔

آپ نے ایک موقر امریکی روز نامے میں شائع ہونے والا یہ ’کٹروا سچ‘ پڑھا۔ میری نظر میں یہ آرٹیکل طالبان کے حق میں بارش کا پہلا قطرہ ہے۔ افغانستان میں امریکی کمانڈر اپنے پیش رو کمانڈروں کی طرح، اب بھی یہی رَٹ لگائے جارہا ہے کہ ہماری حکمت عملی افغانستان میں کامیاب ہو رہی ہے جبکہ امریکی سنٹرل کمانڈ کے کمانڈر، جنرل جوزف واٹل (Vottel) نے یہ اعتراف کرکے اپنے صدر کو جھٹلا دیا ہے کہ : ’’افغانستان میں ایک ’’تعطل‘‘ (Stalemate) کی سی صورتِ حال ہے۔‘‘ جنگ و جدل کی ڈکشنری میں ’’تعطل‘‘ اس جنگی صورتِ حال کو کہتے ہیں جب کوئی بھی فریق جیتتا نظر نہ آرہا ہو۔ تاہم امریکی ایڈمنسٹریشن افغانستان کے دریائے کابل میں ڈوب مرنے سے پہلے آخری بار ہاتھ پاؤں مارتی نظر آتی ہے۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ مائک پومپیؤ (Pompeo) نے کل ہی زلمے خلیل زاد کو افغانستان میں اپنا خصوصی سفارتکار مقرر کردیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر طالبان، کابل حکومت سے مذاکرات کرنے کو تیارنہیں اور امریکیوں سے ہی براہ راست بات چیت پر مُصرہیں تو وہ زلمے خلیل زاد سے بات کرسکتے ہیں جو امریکہ کا نمائندہ ہے اور اشرف غنی حکومت سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔

زلمے خلیل زاد کے نام سے پاکستانیوں کی اکثریت واقف ہوگی۔ وہ افغانستان میں پیدا ہوا، بیروت کی امریکی یونیورسٹی اور شکاگو یونیورسٹی میں تعلیم پائی، کابل اور عراق میں امریکی سفیر رہا اور اُسی دور میں پاکستانیوں سے ’’مقبولیتِ عامہ‘‘ کی سند حاصل کی۔۔۔۔ ماسکو میں جو کانفرنس ہورہی ہے اور جو اس کالم کا موضوع ہے اس میں شرکت کا کوئی عندیہ اگرچہ امریکہ کی طرف سے ابھی تک ظاہر نہیں کیا گیا لیکن امریکہ اگرچہ افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے لیکن روسی دارالحکومت میں جاکر اور وہاں طالبان سے بات چیت کرکے یہ تاثر نہیں دینا چاہتا کہ اِس 17سالہ جنگ کے خاتمے پر افغانستان میں امریکی ہزیمت کی وہی پرچھائیاں نظر آرہی ہیں جو 1980ء کے عشرے کے وسط میں سوویت یونین کی افواج کی افغانستان سے پسپائی کے دور میں دیکھی گئی تھیں!

سطور گزشتہ میں لکھا جا چکا ہے کہ عید قربان کے دن جب اشرف غنی قوم سے خطاب کررہے تھے تو ان پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا۔۔۔ ذرا تصور کیجئے کہ اگر یہ حملہ کامیاب ہو جاتا توکیا کابل حکومت بچ سکتی تھی؟

افغان قوم کی دو باتیں (یا صفات/ خصوصیات) ایسی ہیں جو حیران کن ہیں اور جو اس کا قومی کردار کہی جاسکتی ہیں۔۔۔ ان میں ایک ان کا مالِ غنیمت سے ’’گہرا یارانہ‘‘ ہے اور دوسری دشمن کو معاف نہ کرنے کی وہ دیرینہ عادت ہے جو ہر افغان کے رگ وپے میں سمائی ہوئی ہے۔ اس قوم کی ساری تاریخ اٹھاکر دیکھ لیں۔ آپ کو یہی دونوں باتیں اس کی سرشت میں رچی بسی نظر آئیں گی۔ محمود غزنوی سے پہلے درۂ خیبر کے اُس پار افغانوں کی ترک تازیاں اور محمود غزنوی کے بعد سے لے کر قیامِ پاکستان تک درۂ خیبر کے اِس طرف ان کی یلغاریں آپ کو ان دونوں خصوصیات کا ثبوت دیتی صاف نظر آئیں گی۔ کشمیر وار 1947ء پر آپ نے بہت کچھ پڑھ سن رکھا ہوگا لیکن یہ افسوسناک حقیقت بھی شائد آپ کی نظروں سے گزری یا نہیں کہ اگر ہمارے قبائلی لشکر 26اکتوبر 1947ء سے پہلے بجائے سری نگر کے گردونواح میں ڈوگرہ محلات کو لوٹنے کے، سری نگر ائرپورٹ پر قبضہ کرلیتے تو بھارت کی ائربورن یونٹ(وَن سکھ انفنٹری)سری نگر کے ہوائی اڈے پر لینڈ نہ کرسکتی اور کشمیر ہمارے ہاتھوں سے نہ نکل جاتا۔

اور جہاں تک افغانوں کے جذبۂ انتقام کا تعلق ہے تو یاد کیجئے فرسٹ اینگلو افغان وار جس میں (1842ء میں) ایک پوری برٹش آرمی کو کابل سے جلال آباد پسپا ہوتے وقت تہہ تیغ کردیا گیا تھا۔ یہ فوج ایک برٹش میجر جنرل سرولیم الفنسٹون(Elphinstone)کی قیادت میں جب کابل سے روانہ ہوئی تو اس کی منزل (جلال آباد)تھی جو 90میل (140کلو میٹر) دور تھی۔ اس کی تعداد4500 ریگولر ٹروپس اور 12000 ہندوستانی مددگاروں پر مشتمل تھی۔ اس فوج میں عورتیں بھی تھیں، بچے بھی اور بڑے بوڑھے بھی۔سردیوں کا موسم تھا۔ 13جنوری 1842ء کو گندامک (Gandamak) کے مقام پر افغان آرمی نے وزیر اکبر خان کی کمانڈ میں، جنرل الفسٹون کی برٹش فوج کو شکست فاش دی۔ صرف ایک یورپین ڈاکٹر( جس کا نام ولیم برائڈن تھا) اس حال میں جلال آباد پہنچا کہ گھوڑے کی کاٹھی پر اوند ھالیٹا ہوا تھا اور آخری سانسیں لے رہا تھا۔ لیکن اس اندوہناک شکست کی تفصیل بتانے کے لئے زندہ بچ گیا تھا۔

اس فرسٹ اینگلو افغان وار کو آج 176برس گزر چکے ہیں۔اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ افغانوں نے اپنے اُسی قومی کردار کو زندہ رکھا ہوا ہے جس کے بارے میں اقبال نے اپنی آخری شاہکار نظم:’’محراب گل افغان کے افکار‘‘ میں لکھا تھا:

میرے کہستاں تجھے چھوڑ کے جاؤں کہاں

تیری چٹانوں میں ہے میرے اب و جد کی خاک

باز نہ ہوگا کبھی بندۂ کبک و حمام

حفظِ بدن کے لئے روح کو کردوں ہلاک؟

ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ وقت قریب آرہا ہے جب افغانوں کی ’’زندہ روح‘‘ دو عشروں بعد اپنی تاریخ کو دہرائے گی! (ختم شد)

مزید : رائے /کالم