قوم تبدیلی کے لئے تیار نہیں

قوم تبدیلی کے لئے تیار نہیں
قوم تبدیلی کے لئے تیار نہیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اک ذرا چشم تصور وا کیجئے اور سوچئے کہ اگر نواز شریف کی نون لیگ 2018ء کے عام انتخابات جیت چکی ہوتی تو کیا ہوتا؟ بڑے بڑے اداروں کو سر تسلیم خم کرنا پڑ رہا ہوتا، پانامہ مقدمات پس پشت پڑ چکے ہوتے، آئین کے آرٹیکل 62اور 63میں ترمیم کی بحث عام ہوتی ، سپریم کورٹ کے آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت بے جا اختیارات میں ترامیم تجویز کی جا رہی ہوتیں، نواز شریف اور مریم نواز کو ضمنی انتخابات لڑوا کر منتخب کروایا جا رہا ہوتا، ترکی کے طیب اردوان کی طرح ایک ایک ادارے اور میڈیا سے جمہوریت مخالف عناصر کی سرکوبی ہو رہی ہوتی، عوام کے غضب کا پارہ تب بھی چڑھا ہوتا لیکن وہ یوں تلملائے نہ پھرتے جس طرح اب پھر رہے ہیں، ووٹ کو عزت دو کے نعرے کی تشریحات ہو رہی ہوتیں ، وزیر اعظم کے عہدے کی توقیر ہوتی اور عوام کا جمہوریت پر اعتبار جم چکا ہوتا۔

لیکن ایسا لگتا ہے کہ عوام ابھی ایسی بڑی تبدیلی کے لئے تیار نہیں ہیں اور اگر عوام تیار ہیں تو عدلیہ اور میڈیا تیار نہیں ہیں ۔تبھی تو اسٹیٹس کو کی حامی قوتوں کو کھل کھیلنے کا موقع ملا ہے اور ایک مصنوعی تبدیلی کے بینر تلے کھلاڑی اناڑی مداری کی طر ح لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے جتن کر رہا ہے مگر اس کی دال نہیں گل رہی ہے۔

عوام کے بعد میڈی اور عدلیہ جمہوریت کے دو بڑے سٹیک ہولڈر ہیں جواسٹیٹس کو سے ٹکرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن چونکہ میڈیا مالکان میں اکثر سرمایہ کاروں کے مسائل اتنے بڑے ہیں کہ وہ کسی نظریے کی بنیاد پر ٹی وی چلا ہی نہیں رہے ، ان کے پاس تو چونکہ بے تحاشا پیسہ تھا اس لئے انہوں نے ٹی وی چینل کھول لیا ۔ اس سے بڑھ کر ان کا مطع نظر اور کچھ نہ تھا۔

ایک بڑی تبدیلی کے لئے سوسائٹی کے ہر طبقے کو جدوجہد کرنا پڑتی ہے تب کہیں جا کر تبدیلی کا عمل شروع ہوتا ہے وگرنہ چہرے بدلتے ہیں ، اور کچھ نہیں بدلتا۔خاص طور پر ملک میں تبدیلی لانے کے لئے عدلیہ کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ بنچ اور بار ہی دو ایسے فورم ہوتے ہیں جہاں لوگ قانون کو اور قانون کی روح کو سمجھتے ہیں ۔ چونکہ قانون میں کوئی نون لیگ، کوئی پیپلز پارٹی یا کوئی پی ٹی آئی نہیں ہوتی اس لئے قانون کے طالب علموں کو درپیش صورت حال کا قانونی پہلوؤں سے جائزہ لینا آتا ہے اور اگر اس ضمن میں کوئی کجی یا خامی نظر آئے تو اس کی تصحیح کا سامان بھی کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تبدیلی کا عمل دراصل قانون کی عملداری سے شروع ہوتا ہے۔

اسی طرح میڈیا میں ایسے اذہان موجود ہوتے ہیں جو سماجی عوامل کے نبض شناس ہوتے ہیں اور قوم کو سمت دکھا سکتے ہیں ۔ تاہم چونکہ عدلیہ اور میڈیا دونوں ہی کمزور فورم ہیں بہت سے تو اسٹیٹس کو قوتوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اس لئے عوام کو قانونی پوزیشن سمجھ آتی ہے اور نہ ہی کوئی سمت نظر آتی ہے۔

اس صورت حال کی ایک مثال اس مذاکرے کی ہے جس کا عنوان تھا کہ مضبوط معیشت ہی مضبوط دفاع کی علامت ہے۔ مذاکرے کے شرکاء سے پوچھا گیا کہ آیا ملک کی معیشت مضبوط ہے تو سب نے یک زبان ہو کر انکار کیا اور معیشت کی تباہی کی ذمہ داری سیاستدانوں کے سر مڈھنے میں زمین آسمان ایک کردیئے۔ جب سیاستدانوں کو گالیاں نکال کر ان کی خوب تشفی ہو چکی تو ان کو پوچھا گیا کہ آیا ملک کا دفاع مضبوط ہے تو سب نے بیک آواز اقرار میں سر ہلایا لیکن جب ان کو باور کرایا گیا کہ مذاکرے کا موضوع تو یہ ہے کہ مضبوط معیشت کے بغیر دفاع مضبوط نہیں ہو سکتا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ معیشت تو تباہ حال ہو اور دفاع مضبوط تر ہو تو مذاکرے کے شرکاء نے پھر سے سیاستدانوں کے خلاف دشنام طرازی شروع کردی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاستدانوں کا کردار اور ان کی ساکھ ہی سب کچھ ہے ۔ اس کے بغیر قوم کا اعتماد نہیں جمتا ہے ۔ یہ نتیجہ اس امر کی غمازی بھی کرتا ہے کہ سیاستدان اگر اپنا قبلہ درست کرلیں تو میڈیا اور عدلیہ بھی ہمت کرکے ان کے پیچھے آن کھڑے ہوتے ہیں ۔ مثال کے طور پر اگر پیپلز پارٹی کے لوگ اس امیدوار کو ووٹ نہیں دینا چاہتے جس نے آصف زرداری کی تصویر لگا رکھی ہو تو میڈیا اور عدلیہ چاہیں بھی تو ووٹر کے ذہن کو تبدیل نہیں کر سکتے ہیں لیکن اگر ووٹر نواز شریف کو جیل جانے کے باوجود ووٹ دینا چاہتا ہو تو بھلے اس کے ساڑھے 16ہزار کارکن بھی کیوں نہ اٹھالئے جائیں ، اس کی پارٹی پنجاب میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھرتی ہے۔

مزید : رائے /کالم