عالمی عدالت انصاف میرٹ پر فیصلہ کرے

عالمی عدالت انصاف میرٹ پر فیصلہ کرے
عالمی عدالت انصاف میرٹ پر فیصلہ کرے

  

عالمی عدالت انصاف نے پاکستان میں گرفتار ہونے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے متعلق کیس آئندہ برس فروری میں سماعت کے لیے مقرر کیاہے۔ 19 سے 25 فروری 2019 ء تک روزانہ کی بنیاد پرسماعت ہو گی۔

عدالت انصاف میں پاکستان اور بھارت نے کلبھوشن یادیو کیس میں دو، دو جوابات جمع کرائے ہیں۔پاکستان نے پہلا جواب 13 دسمبر 2017ء اور دوسرا جواب رواں برس17 جولائی کو جمع کرایا تھا۔

پاکستان نے اپنے جمع کرائے گئے جوابات میں بھارت کے تمام اعتراضات کے جواب دیئے تھے۔ کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2016ء کو بلوچستان کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پر پاکستان میں دہشت گردی اور جاسوسی کے سنگین الزامات ہیں اور بھارتی جاسوس نے تمام الزامات کا مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف بھی کیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کلبھوشن کے خلاف ٹھوس ثبوت ہیں۔

عالمی عدالت میں کامیابی ملے گی، جبکہ قوم کو تلخ فیصلوں کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ عالمی عدالت میں اپنا موقف موثر طور پر پیش کریں گے۔ پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت 10 اپریل 2017ء کو کلبھوشن یادیو کو جاسوسی، کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر سزائے موت سنائی گی تھی، لیکن بھارت کی جانب سے عالمی عدالت میں معاملہ لے جانے کے سبب کلبھوشن یادیو کی سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا تھا۔

بھارت نے عالمی عدالت انصاف سے پاکستان کو کل بھوشن یادیو کی پھانسی پر عملدرآمد روکنے کے احکامات جاری کرنے کی استدعا کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ یادیو ایک بے قصور بھارتی شہری ہے جو ایک سال سے زیادہ عرصے سے پاکستان میں قید ہے اور اسے ویانا کنونشن کے تحت اس کے حقوق نہیں دیئے جا رہے، پاکستانی فوجی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

پاکستانی ٹیم نے عالمی عدالت انصاف میں دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ کلبھوشن یادیو نے پاکستان میں دہشت گردی کرنے کا اعتراف کیا۔ کلبھوشن یادیو کے پاسپورٹ کی کاپی عالمی عدالت انصاف میں بڑی سکرین پر دکھائی گئی۔

کمانڈر کلبھوشن کا جبری اعتراف کا بھارتی الزام بے بنیاد ہے۔ عالمی عدالت انصاف کو کلبھوشن یادیو کی اعترافی ویڈیو دیکھنی چاہئے۔ بھارت نے کلبھوشن یادیو کے پاسپورٹ کے بارے میں خاموشی اختیار کئے رکھی اور اس معاملے پر بھارتی وکلاء کو سانپ سونگھ گیا۔

کلبھوشن نے دہشت گردی کرکے پاکستان کو نقصان پہنچانے کا اعتراف کیا۔ کلبھوشن معصوم شہریوں کو نقصان پہنچانے کا اعتراف کرچکا ہے۔ پاکستان نے کلبھوشن کی گرفتاری پر بھارت کو بھی آگاہ کیا تھا۔ پاکستانی وکیل نے عالمی عدالت انصاف میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن کے پاسپورٹ پر مسلمان کا نام لکھا تھا۔

پاکستانی ٹیم کا کہنا تھا کہ ویانا کنونشن کے تحت بین الاقوامی عدالت انصاف کا دائرہ کار محدود ہے۔ بھارتی درخواست کی سماعت آئی سی جے میں ممکن نہیں۔ بھارت کے پیش کردہ دلائل نامکمل اور تضاد سے بھرپور ہیں۔

بھارت آئی سی جے سے حد سے زیادہ ریلیف چاہتا ہے۔ بھارت نے عالمی عدالت کو سیاسی تھیٹر کے طور پر استعمال کیا۔ ہم اپنے عوام اور اپنی سرزمین کی حفاظت کے لئے تمام قانونی ذرائع استعمال کریں گے۔ اقوام متحدہ میں سب سے بڑا جرم دہشت گردی سمجھا جاتا ہے۔ عالمی عدالت کلبھوشن کے معاملے پر بھارت کی درخواست مسترد کردے۔

بھارتی دروغ گوئی، جعلسازی اور پاکستان کے خلاف اس کے خبث باطن کا اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کلبھوشن کی سزائے موت کے خلاف اس کی دائر کردہ درخواست کی ابھی عالمی عدالت انصاف میں سماعت بھی نہیں ہوئی تھی کہ اس نے عالمی میڈیا کو کلبھوشن کی سزائے موت پر عملدرآمد روکے جانے کی جھوٹی خبر جاری کردی تھی، جبکہ کلبھوشن کی سزائے موت کے خلاف بھارت کا عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کا کوئی جواز بھی موجود نہیں تھا اور نہ ہی ایسی کوئی درخواست آئی سی جے کے دائرہ کار میں آتی ہے۔

آئی سی جے کے روبرو بھارت نے کلبھوشن کا اپنا شہری ہونا تسلیم کیا، مگر اس کی بے گناہی کا کوئی ثبوت بھارت کے پاس نہیں تھا۔ اسی تناظر میں بھارتی لاء کمیشن نے کلبھوشن کے معاملے میں بھارتی کیس کے کمزور ہونے کا اعتراف کیا اور کمیشن کے سربراہ نے یہ تک کہہ دیا کہ کلبھوشن کو بچایا نہیں جا سکتا۔

بھارت نے عالمی عدالت انصاف میں جا کر پاکستان کی سلامتی کے خلاف جاری اپنی سازشوں کو اقوام عالم کے روبرو خود ہی بے نقاب کیا ہے، جبکہ پاکستان کے ساتھ تنازعات کے حوالے سے عالمی فورموں کے اقدامات اور فیصلوں کو درخوراعتناء نہ سمجھنا بھارت کی سرشت میں شامل ہے۔

اگر بھارت اپنے سفاک دہشت گرد کلبھوشن کی سزا کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں جانا اپنا استحقاق سمجھتا ہے تو پھر ممبئی حملہ کیس میں بھارتی عدالت کی جانب سے سزائے موت پانے والے اجمل قصاب اور پارلیمنٹ حملہ کیس میں جیل کے اندر پھانسی پر لٹکنے والے کشمیری حریت لیڈر افضل گورو کی سزاؤں کا معاملہ بھی عالمی عدالت انصاف میں جانا چاہیے، جنہیں بھارتی ڈرامہ بازی کی بنیاد پر پھانسی پر لٹکایا گیا اور اجمل قصاب تک قونصلر رسائی کی پاکستانی درخواست کو حقارت کے ساتھ مسترد کردیا گیا۔

اسی طرح فراہمی انصاف کے عالمی فورموں کو یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ تنازعات کے حوالے سے آج تک کسی عالمی فورم کے کسی فیصلے کو تسلیم نہیں کیا تو وہ اپنے ایک دہشت گرد کے معاملہ میں عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کا کیسے استحقاق رکھتا ہے، جبکہ کلبھوشن کو پاکستان کے مروجہ قوانین کے تحت دہشت گرد ثابت ہونے پر کورٹ مارشل کے ذریعے موت کی سزا دی گئی ہے۔

مزید : رائے /کالم