گستاخانہ خاکے، اقوام متحدہ جانے کا اعلان، سینیٹ میں مذمتی قرارداد منظور، ایسے خاکوں کا بار بار شائع ہونا مسلمانوں کی ناکامی ہے او آئی سی کو بھی متحک کرنا ہوگا، عمران خان

گستاخانہ خاکے، اقوام متحدہ جانے کا اعلان، سینیٹ میں مذمتی قرارداد منظور، ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر مانیٹرنگ ڈیسک )سینیٹ نے ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کیخلاف قرارداد مذمت کی متفقہ طور پر منظوری دیدی۔پیر کو سینیٹ کے اجلاس میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے گستاخانہ خاکوں کیخلاف قرارداد پیش کی۔قرارداد میں کہا گیا یہ ایوان ڈچ پارٹی آف فریڈم کے رکن گریٹ ولڈر کی طرف سے گستاخانہ خاکوں کے مقابلہ کے انعقاد کے فیصلہ کی شدید مذمت کرتا ہے اور یہ اقدام دنیا میں نفرت پھیلانے، بے چینی، عدم سلامتی، انتہاء پسندی اور عدم برداشت کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ آف پاکستان سمجھتا ہے کہ کئی ممالک میں توہین رسالت کی روک تھام کیلئے قوانین اور اقوام متحدہ کے شہری و سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی کنونشن کے آرٹیکل 19 کے پیرا گراف تین اور آرٹیکل 20 سمیت بین الاقوامی قوانین موجود ہیں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے سینیٹ اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ حضور اکرمؐ سے ہماری محبت کسی شک و شبہ سے بالاتر اور ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور کوئی بھی مسلمان اس قسم کی گمراہ کن اور توہین آمیز اقدام کو برداشت نہیں کر سکتا، 1973ء کے تحت اسلام ہمارا سرکاری مذہب ہے اور سینیٹ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کا فروغ اور دفاع کرے اور سینیٹ کو ہالینڈ میں ہونے والے مجوزہ گستاخانہ اقدام کے خلاف پاکستان کے مسلمانوں کی آواز بننا چاہئے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایوان سفارش کرتا ہے کہ اسلام آباد میں ہالینڈ کے سفارتخانہ کے ذریعے ہالینڈ کی حکومت کے ساتھ باضابطہ احتجاج کرنا چاہئے، عالمی امن، ہم آہنگی اور برداشت کو فروغ دینے کیلئے آزادی اظہار کی حدود کے تعین کیلئے او آئی سی کے ممالک کا خصوصی اجلاس بلایا جائے اور اس حوالہ سے یورپی یونین، اقوام متحدہ اور دیگر ممالک سے رابطہ کیا جائے۔ قرارداد میں حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مٹھی بھر شرپسند عناصر کی طرف سے اس طرح کے توہین آمیز اقدامات کے خلاف عالمی سطح پر اتفاق رائے کیلئے اقوام متحدہ میں یہ معاملہ اٹھائے۔ ایوان سفارش کرتا ہے کہ مسلمان دانشوروں اور ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے جو اس معاملہ پر غور کرے اور اس طرح کی توہین آمیز موویز، خاکوں اور دیگر مواد کی روک تھام کیلئے قابل عمل تجاویز تیار کرے۔ ایوان نے اتفاق رائے سے قرارداد منظور کر لی۔
مذمتی قرار داد

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر مانیٹرنگ ڈیسک ،این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ گستاخانہ خاکوں کا بار بار شائع ہونا مجموعی طور پر مسلمانوں کی ناکامی ہے، گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر او آئی سی کو متحرک کرنا ہوگا، عوام کا ٹیکس کا پیسہ عوام پر خرچ ہونا چاہئے، ہم دنیا میں سب سے زیادہ خیرات کرتے ہیں لیکن ٹیکس نہیں دیتے،ہمیں اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا ہوگا، ملک کا سب سے بڑا مسئلہ منی لانڈرنگ ہے اس پر فوکس کررہے ہیں، ایف بی آرمیں اصلاحات کررہے ہیں، ٹیکس کلیکشن کا معاملہ دونوں ایوانوں میں رکھیں گے، بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارا بڑا اثاثہ ہیں ،گورننس ٹھیک کریں گے تاکہ وہ پیسہ بھیجیں، ملک میں سرمایہ کاری لائیں گے اور ٹیکس لیں گے،قرضوں پر گزارا کرنیوالی قومیں اپنی عزت اور آزادی کھو بیٹھتی ہیں، پوری کوشش ہے قوم کو اپنے پیروں پر کھڑا کریں۔پیر کو سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں مغربی ذہنیت کو جانتا ہوں، وہاں کی عوام کو اس بات کی سمجھ نہیں آتی وہ آزادی اظہار کے نام پر اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، عوام کی بڑی تعداد کو پتا ہی نہیں کہ ہمارے دلوں میں نبیؐکیلئے کتنا پیار ہے، انہیں نہیں پتا کہ وہ ہمیں کس قدر تکلیف دیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اْس معاشرے میں فتنہ اور جذبات بھڑکانا بہت آسان ہے، مغرب میں وہ لوگ جو مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں ان کیلئے یہ بہت آسان ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنی حکومت میں کوشش کریں گے کہ او آئی سی کو اس پر متفق کریں، اس چیز کا بار بار ہونا مجموعی طور پر مسلمانوں کی ناکامی ہے، گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر او آئی سی کو متحرک کرنا ہوگا اور اس پر او آئی سی کو پالیسی بنانی چاہئے تھی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ دنیا کی ناکامی ہے لہٰذا مسلمان دنیا ایک چیز پر اکٹھی ہو پھر وہ بتائیں ہمیں کتنی تکلیف ہے۔پاکستان کی معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آج ہم پر 28 ہزار ارب قرضہ چڑھ چکا ہے، قرضوں پر سود واپس دینے کیلئے قرضے لے رہے ہیں، ہمارے انسانوں کا حل یہ ہے کہ برصغیر میں سب سے پیچھے رہ گئے ہیں جس بحران میں آج پاکستان ہے جب تک ہم خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہیں کریں گے تب تک اللہ ہماری حالت نہیں بدلے گا لہٰذا ہمیں اپنا مائنڈ سیٹ بدلنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ عوام کا ٹیکس کا پیسہ عوام پر خرچ ہونا چاہیے، صاحب اقتدار اپنی مثال سے عوام کو دکھائیں جو ٹیکس کا پیسہ ہے وہ شاہانہ طرز زندگی کیلئے نہیں ہے، وہ ہمارے بچوں کیلئے ہے جو ہمارا مستقبل ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس کی گاڑیوں کی نیلامی کریں گے، اس سے ہماری بچت تو کم ہے لیکن ٹیکس دینے والوں کو پیغام جائیگا کہ ان کا پیسہ انہی پر خرچ ہورہاہے، ہم دنیا میں سب سے زیادہ خیرات کرتے ہیں لیکن ٹیکس نہیں دیتے کیونکہ عوام کا مائنڈ سیٹ ہے کہ حکومت ہماری نہیں ہے، جب تک عوام حکومت کو اپنا نہیں سمجھے گی وہ ٹیکس نہیں دیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ عوام ٹیکس تب دے گی جب اسے احساس ہو گا کہ ان کے ٹیکس سے ان کی بہتری ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایسی فضا بنارہے ہیں کہ خرچے کم کرکے آمدنی بڑھائیں ۔وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان کا بڑا مسئلہ منی لانڈرنگ ہے اس پر فوکس کررہے ہیں، ایف بی آرمیں اصلاحات کررہے ہیں، ٹیکس کلیکشن کا معاملہ دونوں ایوانوں میں رکھیں گے، ہمارے پاس بہت پراپرٹیز پڑی ہیں جنہیں ہم قرض اتارنے کیلئے استعمال کرسکتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارا بڑا اثاثہ ہیں ان کیلئے گورننس ٹھیک کریں گے تاکہ وہ پیسہ بھیجیں، یہ سب پلان ایک ہفتے تک ایوان کے سامنے رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری لائیں گے، ٹیکس لیں گے اور ادارے مضبوط کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم سے زیادہ مشکل صورتحال سے دنیا نکل چکی ہے، وہ 5 ،10 سال میں اپنے پیروں پر کھڑے ہوگئے، انہوں نے خرچے کم کئے اور آمدنی بڑھائی لہٰذا سینیٹ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس صورتحال سے نکلیں گے اور اپنے پیر پر کھڑے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ بہت لوگ کہہ رہے ہیں ہمیں اقوام متحدہ جانا چاہیے، بیرونی دورے جب کرینگے جب گورننس سسٹم بہتر کریں اور اپنا گھر ٹھیک کریں۔ عمران خان نے کہا کہ ہمیں یاد رکھنا چاہئے جو قومیں قرضوں پر گزارا کرنا چاہیں وہ عزت اور آزادی کھو بیٹھتی ہیں، اس لئے پوری کوشش ہے قوم کو اپنے پیروں پر کھڑا کریں ۔دریں اثناوزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بدعنوانی اور لوٹی ہوئی دوست کی واپسی بڑے چیلنجز ہیں منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلیئے بوط نظام نافذ کیا جائے گا، ہم اورسیز پاکستانیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول فراہم کریں گے، ایف آئی اے اور نیب مل کر کام کریں، ، سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم نے عمران خان کو وزارت داخلہ کے امور، قانون سازی، انسانی اسمگلنگ اور انسداددہشتگردی سے متعلق امور پر بریفنگ دی، عمران خان نے کہا کہ وزارت داخلہ امن، استحکام کیلئے بھی پور کردار ادا کرے، بدعنوانی اور لوٹی ہوئی دولت کی واپسی بڑے چیلنجز ہیں، ملکی دولت کی واپسی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے بوط نظام نافذ کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے اور نیب مل کر کام کریں،اورسیز پاکستانی ملک کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں وہ ملک میں سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں ہم اورسیز پاکستانیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول فراہم کریں گے، ہمیں شہریوں میں احساس تحفظ پیدا کرنے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔
عمران خان

مزید :

صفحہ اول -