پٹرولیم کے مقابلے میں ڈیزل کی قیمت کم کر کے مہنگائی کا توڑ کرینگے ، وفاقی وزیر پٹرولیم

پٹرولیم کے مقابلے میں ڈیزل کی قیمت کم کر کے مہنگائی کا توڑ کرینگے ، وفاقی ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(آن لائن ) وفاقی وزیر پیٹرولیم غلام سرور خان نے کہا ہے پیٹرول کے مقابلے میں ڈیزل کی قیمت کو کم کرکے مہنگائی کے توڑ کیلئے اقدامات کریں گے، اپنی مرضی کا تھانیدار، کمشنر، ڈپٹی کمشنر یا پٹواری لگاکر حکومت چلانے کی بجائے اہل اور میرٹ پر افسران کو تعینات کر کے ان کیساتھ کام کریں گے، قومی اسمبلی کی چھوڑی ہوئی سیٹ پر وزیراعظم عمران خان اور حلقہ کے لوگوں نے مجھے فری ہینڈ دیدیا ہے جس کو چاہوں الیکشن لڑا سکتا ہوں، نواز شریف سمیت کرپٹ لوگوں پر کسی قسم کا این آر او نہیں ہو رہا ہے، جس نے کرپشن کی ہے اسے سزا بھگتنا ہوگی، وہ گزشتہ روز اپنی وزارت میں آن لائن کو انٹرویو دے رہے تھے، گزشتہ دور حکومت میں قطر کیساتھ ایل این جی کے معاہدے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا ابھی معاہدہ دیکھا نہیں دیکھنے کے بعد اس پر قانونی اور وزارت کے ماہرین کا نکتہ نظرلے کر فیصلہ کریں گے کہ ملک کے مفاد میں کیا ہے اگر ملک کے مفاد میں ہوا تو اس کو پبلک بھی کریں گے، نیب اور ایف آئی اے کو اسکی تحقیقات کے فرائض بھی سونپیں گے، ڈیزل اور ایل پی جی کے حوالے سے سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے پر رپورٹس ما نگ لی ہیں جنہیں دیکھ کر بات کر سکوں گا، جبکہ ڈیزل کے حوالے سے انہوں نے تفصیلی جواب دیتے ہوئے کہا بھارت، بنگلادیش اور سری لنکا وغیرہ میں پیٹرول کے مقابلے میں ڈیزل سستا ہے چونکہ یہ ٹریکٹرز، ٹیوب ویلز، بڑی بسوں میں جو غریب کی سواری ہے میں استعمال ہوتا ہے اسلئے ہماری بھی کوشش ہو گی ڈیزل کی قیمتوں کو کم کریں، تاہم پیٹرولیم کی مصنوعات عالمی منڈی کی قیمتوں سے مشروط ہیں اگر وہاں اضا فہ ہوتا ہے تو ہمیں بھی اضافہ کرنا پڑے گا، صدارتی الیکشن کے حوالے سے سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے وقت کیساتھ ساتھ یہ اپوزیشن بالکل بیٹھ جائے گی اور ہمارا صدارتی امیدوار عارف علوی بآسانی صدارتی الیکشن میں کامیاب ہو گا، انہوں نے سلطان سکندر راجہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا ماضی کے ایس ایچ او پٹواری اور کمشنر وغیرہ تعینات کرکے ادارے تباہ کئے گئے ہیں لیکن اب ایسا نہیں ہوگا، کیونکہ ہم نے غلط کام کرنا ہے نہ کرنے دینا ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -