جعلی زرعی ادویات کے خلاف کارروائی کی جائے گی ،اسماعیل راہو

جعلی زرعی ادویات کے خلاف کارروائی کی جائے گی ،اسماعیل راہو

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ کے وزیر زراعت محمد اسماعیل راھو نے کہا ہے کہ مارکیٹ میں جعلی زرعی ادویات فروخت ہو رہی ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے، جعلی ادویات بنانے والی فیکٹریوں کو وارننگ دیتے ہیں کہ وہ جعلی دوائیاں بنانا بند کریں۔ یہ بات انہوں نے سندھ سیکریٹریٹ میں محکمہ کا اجلاس ختم ہونے کہ بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ جعلی ادویات بنانے والوں کو کے خلاف جلد ایکشن لیا جائے گا، سندھ کی زراعت ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے،زرعی ادویات کھاد اور بیج غیر معیاری استعمال ہوتی ہیں ان کے بارے میں آگاہی مہم شروع کرنے کا فیصلہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ محکمے کو سرگرم کریں کو تاہیاں اور خامیاں ختم کریں،ہم کوشش کریں گے محکمہ زراعت سرگرم نظر آئے،اپوزیشن کیا کہتی ہے یہ مسئلہ نہیں اپوزیشن کی تنقید کو خوش آئیند کہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کو پانی اپنے حصے کا کم ملا ہے چاول کی کاشت میں اسی لیے تاخیر ہوگئی ہے۔ محمد اسماعیل راہو نے کہا کہ محکمہ زراعت کے اندر برسوں کے مسائل ہیں ہم اس کو بہتر کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر محکمہ زراعت میں بے قاعدگیاں ہوئی ہیں تو تحقیقاتی ادارے سامنے لائیں،احتساب سیاسی انتقام پر نہ ہو احتساب کو خوش آمدید کہیں گے۔انہوں نے کہا کہ مارکیٹ کمیٹیوں میں بڑے مسائل ہیں ان مسائل کو درست کرنا ہے،اگلے سال ہم پانچ سوسولر ٹیوب ویل سندھ میں نصب کریں گے، جہاں ٹیوب ویل نہیں لگ سکتے وہاں لفٹ مشین دیں گے، تاکہ آبادگاروں کو مشکلات نہ ہو، پیپلز پارٹی حکومت اپنا بھتر کردار ادا کرے گی، محکمہ زراعت کے اختیارات کو مکمل استعمال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کے ملازمین یا افسران کام نہیں کریں تو ان کہ خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی، سفارش کسی کی نہیں سنی جائے گی، گنے کہ کاشتکاروں کو اپنا حق ملیگا ان کہ ساتھ ناانصافیاں نہیں ہونگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مارکیٹ کمیٹیوں کو مزید فعال کیا جائے تاکہ وہ اپنا کام کریں،آبادگاروں کے لیے جلد نئیں اسکیمیں متعارف کروا رہے ہیں،29 ہزار واٹر کورس مکمل کرچکے ہیں،مزید 500 واٹر کورس بنائے جائیں گیں۔ اجلاس میں سیکرٹری زراعت شفیق حسین مھیسر سمیت اہم افسران بھی شریک تھے۔افسران نے وزیر زراعت کو صوبے میں زراعت سے متعلق معاملات پر بھی بریفنگ دی۔