صوبائی کابینہ سے ملتان میلسی کے ارکان آؤٹ کارکنوں میں مایوسی کی لہر

صوبائی کابینہ سے ملتان میلسی کے ارکان آؤٹ کارکنوں میں مایوسی کی لہر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ملتان،میلسی(نیوز رپورٹر،نمائندہ پاکستان،نمائندہ خصوصی)پاکستان تحریک انصاف کو الیکشن 2018ء میں اہلیان ملتان کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملنے سمیت ضلع بھر میں این اے اور پی (بقیہ نمبر12صفحہ12پر )

پی کے تمام حلقوں میں تاریخی کامیابی ملنے کے باوجود وفاقی و صوبائی کابینہ میں ملتان سے منتخب ہونیوالے نمائندوں کو نظرانداز کرنے کی روش نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے کہ ملتان کے شہریوں کو سیوریج،صاف پانی،صحت اور تعلیم کے حوالے سے درپیش مسائل کیونکر حل کئے جائیں گے اس ضمن میں تحریک انصاف کے منتخب نمائندوں اور تنظیمی عہدیداروں نے تحفظات بیان کرنے کی بجائے اس امید کاتاثر دیا ہے کہ پہلے فیز میں پارٹی قیادت نے مرکزی اور صوبائی کابینہ میں ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے منتخب نمائندوں کو وزارتوں کے قلمبدان سونپ دئیے جبکہ دوسرے فیز میں ملتان سے دیگر منتخب نمائندوں کو ایڈجسٹ کیا جائے گا پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی حاجی جاوید اختر انصاری نے کہا کہ پارٹی قیادت ملتان میں تاریخی کامیابی کو ہرگز نظرانداز نہیں کریگی ابھی کچھ وزارتوں کا فیصلہ ہونا باقی ہے ملتان کو صوبائی کابینہ میں ضرور حصہ ملے گا رکن صوبائی اسمبلی ظہیر الدین خان علیزئی نے کہا کہ اگر اخلاص ہو تو کابینہ میں شامل ہوئے بغیر بھی کام کیا جاسکتا ہے ملتان میں سیوریج،صحت،ویسٹ مینجمنٹ اور ایجوکیشن میں بہت کام کرنے کی گنجائش ہے پارٹی کے منتخب نمائندے اہلیان ملتان کو مایوس نہیں کریں گے رکن صوبائی اسمبلی ندیم قریشی نے کہا کہ پارٹی قیادت جو فیصلے کررہی ہے وہ ملک و قوم کی بھلائی کو سامنے رکھتے ہوئے کئے جارہے ہیں،عمران خان کے سپاہی رہیں گے ہر فیصلے پر متفق ہیں جنوبی پنجاب کے سینئر وائس پریذیڈنٹ چوہدری خالد جاوید وڑائچ نے کہا کہ ابھی کابینہ مکمل نہیں ہوئی ہے ملتان کو ہرگز نظرانداز نہیں کیا جائے گا ملتان سمیت جنوبی پنجاب سے ڈاکٹر اختر ملک،سلمان نعیم،جہانزیب کھچی،علی رضا خاکوانی اور حسین جہانیہ کے انٹرویو ہوچکے ہیں ضلعی صدر اعجاز حسین جنجوعہ اور ابراہین خان نے بھی پارٹی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ میلسی سے مسلسل تیسری مر تبہ کامیاب ہو نے والے ایم پی اے محمد جہانزیب خان کھچی کو صوبائی کابینہ کی تشکیل میں نظر انداز کر دیا گیا ہے تحریک انصاف کے کارکنوں اور حلقہ کے ووٹروں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ۔تفصیل کے مطابق میلسی کے صوبائی حلقہ پی پی 236سے 2012کے ضمنی الیکشن اور 2013کے قومی الیکشن کے بعد حالیہ الیکشن میں مسلسل تیسری بار محمد جہانزیب خان کھچی نے کامیابیوں کو ہیٹرک مکمل کی اور گذشتہ (ن) لیگ کے دور حکومت میں ڈٹ کر تحصیل میلسی کے ملحقہ دو صوبائی حلقوں سے بنا ئے جا نے والے صوبائی وزراء آصف سعید خان منیس اور نعیم خان بھا بھہ کے علاوہ قد آور سیاستدان اور اس وقت کے ایم این اے سعید احمد خان منیس کا بھر پور مقابلہ کیا اور اپنے متحرک سیاسی کر دار کی وجہ سے تحریک انصاف کو مزید مضبوط بنایا اس دوران (ن) لیگی وزراء کی انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بھی بنے اور انھیں گذشتہ پانچ سال میں بحثیت ایم پی اے کسی بھی سر کاری میٹنگ تک میں نہ بلایا گیا اور نہ ہی انھیں کو ئی گرانٹ ملی تاہم حالیہ الیکشن میں ضلع وہاڑی میں اورنگ زیب خان کھچی اور جہانزیب خان کھچی دونوں بھائیوں نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر کے ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا اور صوبائی حکومت کی تشکیل کر دوران جہانزیب خان کھچی کا نام جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ پنجاب کے امیدواروں میں بھی آیا تاہم عثمان بزدار کی نامزدگی کے بعد قومی میڈیا میں ان کا نام بطور صوبائی وزیر لائیو سٹاک بھی آتا رہا اور گذشتہ روز انھیں دیگر وزراء کے ہمراہ بنی گا لہ بھی طلب کیا گیا جہاں انہوں نے وزیر اعظم عمران خان سے ملا قات کی تاہم بعد ازاں رات گئے پر اسرار طور پر انھیں ڈراپ کر دیا گیا جس پر سیاسی حلقے ششدر رہ گئے ان حلقوں کے مطابق جہانزیب خان کھچی کا نام آخری وقت میں تحریک انصاف کے انتظامی عہدے پر فائز ایک شخصیت نے مداخلت کر تے ہو ئے رکوادیا تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کی اس نا انصافی پر حلقہ بھر کے ووٹرز اور تحریک انصاف کے کارکن دلبرداشتہ ہیں اور ان کی خوشیوں پر مایوسی غالب آگئی ہے۔
صوبائی کابینہ