چوک اعظیم، ٹیوب ویل مستری مٹی کے تودے تلے دب کر جاں بحق

چوک اعظیم، ٹیوب ویل مستری مٹی کے تودے تلے دب کر جاں بحق

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

چوک اعظم (نمائندہ خصوصی) رقبہ مالکان کی ناقص منصوبہ بندی کے باعث ٹیوب ویل بور مستری 20 فٹ کنویں میں مرمت کے لئے اترا تو مٹی کا تودہ گرنے سے دب کر جاں بحق ہوگیارقبہ مالکان مرتضی اوردیگر موقع سے فرار ہوگئے موت اتفاقیہ نہیں جان بوجھ کر میرے خاوند کومارا گیا بیوہ فیض الحسن نے وزیر اعظم پاکستان وزیر اعلیٰ پنجاب ڈی پی او لیہ سے تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔تفصیل کے(بقیہ نمبر19صفحہ12پر )

مطابق چکنمبر139TDA کارہائشی فیض الحسن شاہ عرصہ 20 سال سے فرینڈ ٹیوب ویل چوک اعظم دوکان پر ملازم تھا دکان مالک محمد بلال نے مستری فیض الحسن کو چک نمبر427/B کے زمیندار مرتضیٰ ویرڑ کے رقبہ میں ٹیوب ویل بور کرنے کے لئے بھیجا تاہم ٹیوب ویل بور زمین سے 20 فٹ اونچائی والے ٹیلے پر کرنا تھا مستری فیض الحسن شاہ نے رقبہ مالکان مرتضیٰ ویرڑ اور دوکان مالک محمد بلال کو صورت حال سے آگاہ کیا اور بتایا کہ پانی والا بور اونچائی زیادہ ہونے کی وجہ سے بیٹھ جائے گا مگر رقبہ مالک مرتضیٰ ویرڑ اسی جگہ پر بور کرانے کے لئے بضد رہا دوکان مالک کے اسرار پر بور کر دیا گیا مگر 20 روز کے بعد پانی والا ٹیوب ویل بور بیٹھ گیا اور پائپ بھی پھٹ گیا زمیندار مرتضیٰ ویرڑ نے دوبارہ بور بیٹھ جانے اور مرمت کیلئے دوکاندار بلال سے رابطہ کر کے مستری فیض الحسن شاہ کو دوبارہ رقبہ پر بلوایا اور مرمت کیلئے گہرے کنویں میں اترنے کیلئے کہا مستری فیض الحسن نے کنویں کی چاردیواری ناقص میڑیل کی بدولت گہری کھائی میں اترنے سے نکار کر دیا تاہم دوکان مالک بلال اور زمیندار مرتضیٰ ویرڑ نے زبردستی مستری فیض الحسن کو گہرے کنویں میں اتروا دیا چند منٹ بعد مٹی کا بھاری تودہ کنویں میں گرا اور مستری مٹی میں دب کر جاں بحق ہو گیا موقع پر موجود رقبہ مالکان مرتضی ویرڑ وغیرہ فرار ہو گئے مسلسل 6گھنٹے کی جدوجہد کے بعد ویکسی نیٹرسے کھدائی کے بعد لاش کو رات دو بجے نکالا گیا ورثاء بیوہ فیض الحسن اور والد خادم حسین نے وزیر اعظم پاکستان وزیر اعلی پنجاب ڈی پی او لیہ سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔
مستری