علی پور، پولیس تشدد سے گرفتار ملزم ہلاک، ورثا کا لاش سڑک پر رکھ کر احتجاج

علی پور، پولیس تشدد سے گرفتار ملزم ہلاک، ورثا کا لاش سڑک پر رکھ کر احتجاج

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مظفر گڑھ ( نامہ نگار)تھانہ سٹی علی پور پولیس نے رشوت نہ دینے پر گرفتار ملزم کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے مبینہ طور پر مارڈالا ۔ لواحقین نے لاش سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا اور پولیس کیخلاف نعرے بازی کی، مظاہرین نے مظفرگڑھ سے کراچی جانے والی قومی شاہراہ کو ٹائر جلا کر بلاک کر دیا۔راولپنڈی سے کراچی جانے اور آنے والی ٹریفک معطل ،میلوں لمبی قطاریں لگ گئیں۔ مظاہرین کاکہنا ہے کہ گزشتہ روز پولیس تھانہ سٹی نے لیاقت علی کو چھوڑنے (بقیہ نمبر57صفحہ7پر )

کے لئے ہم سے پچاس ہزار طلب کئے جس کا ہم انتظام نہ کر سکے ،مقدمہ کے مدعی سمیت پولیس اور عدالتی بیلف کے اہلکاروں نے لیاقت علی کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے قتل کیا ہے۔مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ایس ایچ او تھانہ سٹی علی پور سمیت عدالتی بیلف اور مدعی کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے ،اگر ان کے خلاف مقدمہ درج نہ کیا گیا تو ہمارا پر امن احتجاج جاری رہے گا۔دوسری جانب پولیس ترجمان نے موقف دیتے ہوئے بتایا کہ۔مظفر گڑھ کی تحصیل جتوئی کی رہائشی امتیاز بتول نامی خاتون نے علی پور کے تھانہ سیت پور کے موضع ماڑیاں کے رہائشی لیاقت علی نامی اپنے شوہر پر جتوئی کی فیملی کورٹ کے سول جج محبوب الہی کی عدالت میں خرچے کا دعوی دائر کیا ہوا تھا جس میں امتیاز بتول کا شوہر لیاقت علی جتوئی عدالتی مفرور تھا۔عدالتی بیلف نے گزشتہ روز لیاقت علی کو گرفتار کر کے تھانہ سٹی علی پور حوالات میں بند کرا دیا تھا ،آج عدالتی بیلف کے اہلکار،معین اقبال،فاروق ،اور فرحان علی۔ لیاقت علی کو جتوئی کی فیملی کورٹ کے سول جج محبوب الہی کی عدالت میں پیش کرنے لے جا رہے تھے کہ لیاقت علی کی اچانک طبعیت خراب ہو گئی جسے قریبی پرائیویٹ اسپتال منتقل کیا گیا پر وہ جانبر نہ ہو سکا ،اس میں پولیس کا کوئی عمل دخل نہیں ہے اور نا ہی پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
پولیس تشدد