ایک اسنار کل 3اور فائر ٹینڈرز کراچی انتظامیہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ

ایک اسنار کل 3اور فائر ٹینڈرز کراچی انتظامیہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک اسنارکل اور 3فائر ٹینڈرز کراچی کی انتظامیہ کو اور 7 دیگر فائر ٹینڈرز صوبے کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کی انتظامیہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے یہ فیصلہ پیر کو کراچی پیکیج کے تحت جاری ترقیاتی اسکیموں کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں وزیر بلدیات سعید غنی ، وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری سہیل راجپوت،سیکریٹری بلدیات خالد حیدر شاہ، سیکریٹری فنانس نور عالم، سیکریٹری پی اینڈ ڈی شیرین ناریجو، پی ڈی کراچی پیکیج نیاز سومرو،انجینئر خالد اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ شہر میں مختلف فیکٹریوں اور شاپنگ سینٹرز میں آگ لگنے کے چندحادثات رونما ہوئے ہیں جس کے لیے انہوں نے صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی کو انکوائری کرکے انہیں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 389 ملین روپے کی لاگت سے 10 فائر ٹینڈرز اور ایک اسنار کل خرید کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں چاہتاہوں کہ ایک اسنارکل اور 3 فائر ٹینڈر زکراچی، 6 فائر ٹینڈرز ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز اور ایک فائر ٹینڈر قاسم آباد حیدرآباد کے حوالے کیاجائے۔واضح رہے کہ شہر کے لیے جو اسنارکل خرید کی گئی ہے اس کی لمبائی 104 میٹر ہے اور یہ 199 ملین روپے کی لاگت سے خرید کی گئی ہے اور ہر ایک فائر ٹینڈر کی لاگت19 ملین روپے ہے۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ان کے سابقہ دور کے آخر میں 4 اہم اسکیمیں جن میں ٹیپو سلطان روڈ،ٹیپو سلطان فلائی اوور،سن سیٹ گذری بلیو وارڈفلائی اوور اور کینٹ اسٹیشن کی سڑکوں کا کام جاری تھا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت تمام اسکیمیں مکمل ہوچکی ہیں اور تھوڑا بہت معمولی سا کام باقی ہے۔مراد علی شاہ نے صوبائی وزیر بلدیات سے کہا کہ وہ ان کے افتتاح کے لیے ضروری انتظامات کریں ۔ انہوں نے کہا کہ میں اسی ہفتے کے دوران انہیں عوام کے لیے کھولنا چاہتاہوں۔پروجیکٹ ڈائریکٹر نیاز سومرو نے وزیر اعلی سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ناتھا خان پل کے یو ٹرن کی تعمیراتی کام کی رفتار سست ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم 70 ملین روپے کی ہے ۔وزیراعلی سندھ نے اپنے پرنسپل سیکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ یو ٹرن کے لیے زمین کے حصول کے معاملے کو دیکھیں تاکہ اسے آئندہ 2 ماہ کی مدت میں مکمل کیاجاسکے۔وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ ڈرگ روڈ انڈر پاس کے ساتھ شاہراہ فیصل پر پل کے دائیں طرف کاکام 70 فیصد تک ہوچکاہے اور مزید کام جاری ہیاور یہ1.6بلین روپے کی اسکیم ہے ۔ وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ سب میرین چورنگی پر انڈر پاس کا کام 95 فیصد مکمل ہوچکاہے اور یہ 2.2 بلین روپے کی اسکیم ہے۔اس پر وزیراعلی سندھ نے کہاکہ انڈر پاس کا کام مکمل ہوچکا ہے مگر ابھی تک اس کی بیوٹی فکیشن اور اس کے منسلک سڑکوں کو ابھی تک کھولا نہیں گیا ہے۔انہوں نے پروجیکٹ ڈائریکٹر سے کہا کہ میں نے اسے ذاتی طورپر دیکھا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس کا کام جلد سے جلد مکمل کیا جائے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی چڑیا گھر میں کام سست روی سے ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم 331.3ملین روپے کی اسکیم ہے۔انہوں نے پروجیکٹ کے پی ڈی کو چڑیا گھر کے کام کی رفتار کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔ واضح رہے کہ اسٹیڈیم روڈ کی توسیع اسٹیڈیم سے راشد منہاس روڈ جس پر لاگت کا تخمینہ 379.8 ملین روپے ہے کا 75 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے ۔ 574 ملین روپے کی لاگت سیٹینک چورنگی تا سپر ہائی وے براہ تھدو نالو سڑک کی تعمیر کا کام 85 فیصد تک ہوچکاہے۔وزیر اعلی سندھ کو بتایا گیا کہ بلدیہ ٹاؤن کو پانی کی فراہمی کے لیے ایک 24 ڈایا پائپ لائن حبیب بینک سے پمپ نمبر 3 تک بچھائی گئی ہے۔اس پر لاگت کا تخمینہ 399.5ملین روپے ہے اور اس کا 25 فیصد کام مکمل ہوچکاہے۔اسٹار گیٹ سے چکرا نالہ شاہراہ فیصل برساتی پانی کے نالیکی تعمیرجس پر لاگت کا تخمینہ 200 ملین روپے ہیپر کام ابھی تک ابتدائی مراحل میں ہے ۔ اس پر وزیراعلی سندھ نے صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی کو ہدایت کی کہ وہ جاری اسکیموں کے تکمیل کے کام کی ذاتی طورپر نگرانی کریں۔انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ یہ اسکیمیں جلد سے جلد مکمل ہوں تاکہ ہم نئی اسکیمیں شروع کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بہت کچھ کرنا ہے اور کراچی ایک خوبصورت شہر ہے اور ہم نے اسے دنیا کا ایک بہترین شہر بنانا ہے۔