صدارتی جنگ

28 اگست 2018 (12:27)

عائشہ نور

ہم سب جانتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا یعنی " سینیٹ " میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو عددی برتری حاصل ہے۔ آئندہ چند روز میں ملک میں صدارتی انتخابات کا انعقاد ہونے جارہا ہے۔ بعض حلقوں میں حزبِ اختلاف کی " کل جماعتی کانفرنس " پراس حوالے سے گہری نظر رکھی جارہی تھی کہ کیا حزبِ اختلاف ایک مشترکہ صدارتی امیدوار لاپائے گی یا نہیں ؟؟؟ اس ضمن میں حزبِ اختلاف کی ایک جماعت کے قائد آصف زرداری کا طرزِ فکر بھی موضوع بحث رہا۔ آصف علی زرداری کی دانست میں چونکہ صدراتی انتخاب "خفیہ رائے دہی " سے ہونا ہوتا ہے تو ایسے طرزِ انتخاب میں ہر ووٹر کی ایک قیمت ہوتی ہے جوکہ وہ ادا کرنے کو بھی تیار رہتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں آصف زرداری کی نظر میں صدارتی انتخابات کیلیے " ہارس ٹریڈنگ " کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اس لیے اگر حزبِ اختلاف ایک مشترکہ صدارتی امیدوار لانے میں کامیاب ہو جاتی تو یقیناً سینیٹ میں اپنی اکثریت اور ہارس ٹریڈنگ کا حربہ استعمال کرتے ہوئے تحریک انصاف کو مشکل میں ضرور ڈال سکتی تھی۔ اب موجودہ صورتحال میں جبکہ پیپلزپارٹی کے نامزد صدارتی امیدوار اعتزاز احسن کے نام پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا، حزبِ اختلاف نے مولانا فضل الرحمٰن کو مشترکہ صدارتی امیدوار جبکہ پیپلزپارٹی نے اعتزاز احسن کو صدارتی امیدوار نامزد کردیا ہے۔ چنانچہ تحریک انصاف کے نامزد امیدوار عارف علوی کو اب حزبِ اختلاف کی مشترکہ و شدید مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

ہم کہہ سکتے ہیں کہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا صرف عمران خان کی مخالفت کے ون پوائنٹ ایجنڈے پر اتحاد برقرار رکھنا کافی مشکل نظر آرہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے حزبِ اختلاف کی تمام جماعتیں مختلف الخیال ہیں اور ماضی میں ایک دوسرے کی حریف رہ چکی ہیں۔

اب اگر تحریک انصاف کو درپیش چیلنجز کا سینیٹ میں حزبِ اختلاف کی اکثریت کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ تحریک انصاف ملکی نظام میں اصلاحات کیلیے جتنی بھی قانون سازی کرے گی , اسے سینٹ میں مشکلات کا سامنا کرناپڑیگا۔ جب پارلیمانی نظام میں قانون سازی ہوتی ہے تو ایوانِ زیریں اور ایوانِ بالا دونوں میں نمبر گیم اہمیت اختیار کرجاتی ہے۔ ہمارے ملک میں انگریز کے زمانہ حکومت کے بنائے ہوئے فرسودہ دیوانی اور فوجداری قوانین رائج ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی جگہ نئے قوانین متعارف کروانے کی ضرورت تھی جو دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتے۔ مگر پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے اپنے دورِ حکومت میں ایسا کرنے سے گریز کیا۔ جس کی بڑی وجہ ذاتی و سیاسی مفادات تھے۔ اب بھی یہ ہی لوگ ایوانِ بالا میں اکثریت رکھتے ہیں۔ اخلاقی طور مفادِ عامہ میں کی جانے والی قانون سازی کی سیاسی اختلافات کی بنیاد پر سینیٹ میں مخالفت ایک ناقابلِ قبول عمل ہوگا۔ حزبِ اختلاف آنے والے وقت میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کرتے ہوئے تحریک انصاف سے قانون سازی میں تعاون کرے تو یہ ملک وقوم کے مفاد میں بہتر ہوگا۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں